’سارے ڈالر رات کو امریکہ میں جاکر سوتے ہیں‘

عبداللہ فاروقی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


ایوانِ ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے سابق صدر زبیر طفیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بحران کا شکار رہی ہے۔

Getty Images
ایوانِ ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے سابق صدر زبیر طفیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بحران کا شکار رہی ہے۔

ایران پر امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان سرمایہ کاری، ذرائع آمد و رفت اور توانائی کے شعبوں میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھ سکتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی قانونی چھتری پاکستان کو میسر آئے تو بحیثیتِ سابق وزیرِ خارجہ میں یہ تجویز دے سکتا ہوں کہ ہم ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔‘

خواجہ محمد آصف کے مطابق جن ممالک نے امریکہ کے اِس فیصلے میں اُس کا ساتھ دیا اُن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جو پاکستان کے دیرینہ دوست ممالک ہیں لیکن اُن کے علاوہ تقریباً ساری دنیا اِس کے معاہدے کے حق میں ہے کیونکہ ایسے عالمی معاہدوں کی ایک حرمت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’برطانیہ، فرانس یا جرمنی پر بھروسہ نہیں، پہلے ضمانت لیں‘

صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے پر فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

یورپی ممالک جوہری معاہدہ قائم رکھنے کے لیے پرعزم

’جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں، ایران پر پابندیاں لگیں گی‘

امریکی پابندیوں کی صورت میں کیا پاکستان کو ایران کے ساتھ اپنی تجارت اور سرمایہ کاری ختم کرنی پڑے گی؟

اِس کے جواب میں پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پہلے بھی ممالک نے ایران کے ساتھ تجارت کے قانونی مگر متبادل طریقے نکالے ہوئے تھے اب بھی وہ ایسا ہی کرسکتے ہیں کہ خصوصی بینک بنا لیں جن میں ڈالروں میں ادائیگیاں نہ ہوں کیونکہ سارے ڈالرز رات کو امریکہ میں جاکے سوتے ہیں۔ یا پھر بدلے کی تجارت کر سکتے ہیں یعنی ایران سے تیل خرید کر اُس کے بدلے اُسے گندم، چاول، کپاس یا کچھ اور دے سکتے ہیں۔‘

ایوانِ ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے سابق صدر زبیر طفیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کی باہمی تجارت گذشتہ پانچ سالوں کے دوران بحران کا شکار رہی ہے۔

اُن کے مطابق ’2011 میں جب ایران پر پابندیاں لگیں تو اُس وقت پاکستان اور ایران کی تجارت تقریباً ایک ارب ڈالر تھی جو کہ سکڑتے سکڑتے اب بمشکل 15 کروڑ ڈالر تک آ گئی ہے۔‘

زبیر طفیل کا کہنا ہے کہ آج بھی کوئی پاکستانی کمرشل بینک ایران کے لیے ایل سی نہیں کھول سکتا اور ایسا ہی معاملہ ایران کے ساتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کے مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر تہران گئے تھے اور وہاں معاہدہ ہوا تھا کہ دونوں ممالک آپس میں 275 ملین یوروز کی تجارت کریں گے لیکن اِس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے کمرشل بینکوں کو نامزد کرنا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ملک کے لیے ایل سی کھولیں لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوا کیونکہ بینک یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں اُن کی ادایگیاں متاثر ہوں گی۔’

زبیر ظفیل کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان بدلے کی تجارت کے طور پر تیل کے بدلے چاول آسکتا ہے یا پھر کنفیکشنریز لیکن اس کا حُجم بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف گذشتہ برس تہران گئے تھے اور وہاں ایران کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ اور دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے ملک کے بینکوں کی شاخیں کھلولنے کا معاہدہ کیا تھا۔

اِس کے علاوہ ایک دوسرے کے ملک کے لیے ایل سی کھولنے سے متعلق یاد داشتوں پر دستخط ہوئے تھے جن پر اب تک خاطر خواہ عمل نہیں ہوسکا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اور دنیا بھر کے ایران کے ساتھ تجارتی منصوبے آئندہ کی صورتحال واضح ہو جانے اور یورپی ممالک کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو آگے بڑھانے پر منخصر ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4911 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp