ہمارے جمہوری رویے اور فکری کنفیوژن


عدنان بشیر چوہدری

adnanریاستی اداروں میں بظاہر نمو پانے والے تصادم کے باعث ایک بے یقینی کی فضا چھا رہی ہے۔ غیر جمہوری گدھیں یکجا جمہوری نظام تنفس کے انہدام کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں۔ جمہوریت پسند، جو کہ اس ملک کا جمہور بھی ہیں، وہ جمہوری سانسوں کی بحالی کا شدت سے منتظر ہے۔ ایک طرف اداروں کے آئینی حدود سے متضاد رویے سب سے بڑا خطرہ متصور کئے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب آئین ہی کو تختہ مشق بنا کر اس کے دیے گئے بنیادی ڈھانچے کو انقلاب کے بے سرے نعروں سے چوٹ لگائی جا رہی ہے۔ اس یک رخی انقلاب کے لۓ کبھی مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے تو کبھی ازلی دشمن (بھارت) کی نکیل سدہارنے کے خواب دکھائے جاتے ہیں، کبھی لسانیت تو کبھی علاقائیت کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ غرضیکہ غیر جمہوری ڈوریاں ہلا ہلا کے کٹھ پتلی کا تماشا سجایا جا رہا ہے اور سادہ لوح اسی تماشے کو حقیقت جان کے (جمہوری و غیر جمہوری) عقل و خرد کی گتھیاں سلجھانے میں سرگرداں ہے۔ ہر کوئی ان دیکھی جلدی میں ہے، ہر شخص مذہب، لسانیت اور نظریے پر امر ہونے کی جلدی میں ہے، ہر کوئی سیاسی امراض کی تشخیص کے ساتھ ساتھ اپنی تیار شدہ دوا کے ارزاں نرخوں پر دستیابی کا دعوے دار ہے۔ ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے۔ ایسے میں فکری کنفیوژن کا پیدا ہونا ایک منطقی نتیجہ ہے۔

اس فکری کنفیوژن کا سبب تحقیق سے دوری، علمی تعصب اور جہالت پر مبنی رویے ہیں۔ ان رویوں کی ذمہ داری بحیثیت قوم اجتماع پر ہے۔ ہم میں سے کوئی شخص معاملات کو “محدود دائرہ” سے باھر نکل کر سوچنے کی صلاحیت سے قاصر ہے۔ وہ محدود علم بھی القائی زیادہ اور کسبی کم ہے۔ ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا سمندر ہے پھر قحط الرجال ہے۔ الفاظ اور متن کی جانچ و پرکھ سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ بولنے والا کون ہے۔

اس فکری کنفیوژن کا حل آخر ہے کیا ؟ اس جلد بازی کو سست کرنے کی دوا ہے کہاں؟

مسئلے کا حل تلاشنے سے پہلے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ان امور کے بارے میں ملک میں موجود ان رویوں پر ایک نظر ڈالی جائے جو اس فکری کنفیوژن کا باعث ہیں۔

موجودہ حالات کے تناظر میں سرسری طور پر (ماورائے حقیقی جمہوری رویے کے) تین طبقات ہیں جو ریاست کے سیاسی ڈھانچے کے لیے تین مختلف اور متضاد آراء کے حامل ہیں۔ یہ تینوں طبقات آپس میں بھی فکری لحاظ سے الجھے ہوئے ہیں۔

اول الذکر کی ’خلافتی‘ کی ترکیب سے پہچان کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ان کی تعداد معدودے چند ہے لیکن اپنی فکر کو مذہب کے تناظر میں پیش کرنے کی بدولت طبقاتی علمیت میں پروان چڑھے معاشرہ میں ان کی فکر کی سہ ماہی و سالانہ گونج سنائی دیتی ہے۔ ان کی اکثریت جدید عمرانی علوم سے بے بہرہ اور اپنے فہم کو قطعی و حتمی متصور کرتی ہے۔ جمہوریت کو خلافت سے متصادم قرار دینے کے ساتھ ساتھ، عام آدمی کا حق خلافت غصب کر کے اس کی باگ ڈور چیدہ ہاتھوں میں محدود کرنے کے قائل ہیں۔ نظریاتی رویے سے ماوراء یہ طبقہ کے اپنے کردار، پس پردہ محرکات اور تعصباتی نظریات کی بدولت عوام میں شرف قبولیت سے تا حال محروم ہے۔

ثانی الذکر ان ’غیر جمہوری مہم جو‘ حضرات پر مشتمل ہے جن کو نظام سے زیادہ اقتدار سے سروکار ہے۔ ہر وہ نظام، جو ان کے اقتدار کے لیے راہ ہموار کرے یا اس کو طوالت بخشے، یہ اس کے دروازے پہ دستک تو کیا سر بسجود ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ موجودہ بحران میں ان کی عجلت ہیجانی کیفیت کو چھو رہی ہے۔

 ثالث الذکر میں اکثریت ان ’بے صبرے جمہوریت پسندوں‘ پر مشتمل ہے جن کی اکثریت نے حالیہ انتخابات میں پہلی دفعہ حصہ لیا ہے۔ یہ جمہوریت کے درخت کے تناور ہونے سے پہلے ہی پھل کھانے کی عجلت میں ہیں۔ ان کے اس جلد باز رویے کے باعث وہ مسلسل تحریک کی سی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد کثیر ہے اور بہرحال ان کے جمہوری رویے خطرہ کا باعث ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ جہد مسلسل سے ان میں جمہوری اقدار کو راسخ کیا جائے۔

اس فکری کنفیوژن کو زائل کرنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی گھمبیر بھی ہے۔ حل انتھائی عام فہم اور سادہ ہے مگر کھوکھلی انائیں اور مجسم پرنخوت رویے رکاوٹ ہیں۔ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو اس کی روح کے تابع کرنے سے جو سیاسی نظام بنتا ہے وہی قابل قبول متصور ہوگا۔ آئینی سیاسی نظام میں ریاست انسانی جسم کی مانند ہے، جس میں دل کو مقننہ، دماغ کو عدلیہ اور بازؤوں کو انتظامیہ کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ہر عضو کے اپنی اپنی حدود میں تعمیل حکم سے ایک باوقار شخصیت وجود میں آتی ہے جبکہ اس کے بر عکس ایک بڈھا اور ناقص جسم ظہور پذیر ہوتا ہے جو اپنے لئے تو تمسخر کا باعث بنتا ہی ہے، رقابت داروں کے لیے بھی استہزا بن جاتا ہے۔ چناچہ بازو کی دماغ و دل کی عدم تعمیلی رویے سے فالج جیسی لاچار کر دینے والی بیماری لاحق ہوتی ہے، اور دماغ کی دل کے عدم مطابقت ہیجان پیدا کرتی ہے اور اگر دل ہی کام کرنا چھوڑ دے تو موت کا وقوع فی الفور ہے۔

اسی بنیادی خوبصورت ڈھانچہ میں ہماری بقا ہے اور اسی کے تسلسل میں ہمارے مسائل کا پائیدار حل ہے۔ جمہور ہی کو حق حکمرانی یے اور باقیوں کی رائے کا احترام ہے۔ مسئلہ جمہور کو احساس ذمہ داری دلانے کا نہ کہ مذہب کا نام استعمال کر کے ان کا حق حکمرانی چھیننے کا۔ ’ وجعلنکم خلائف فی الارض‘ کا مصداق جمہور ہیں، وہ اپنے نمائندے کے انتخاب میں آزاد ہیں۔ اگر آوازوں میں دم ہے تو ان کو علمیت سے قائل کیا جائے جن کو حق حکمرانی ہے، سڑکیں بعد میں بھی کھلی رہیں گیں، آئین اور قانون کسی کے رستے میں رکاوٹ نہی ڈالتے کہ ہر شخص عوام میں کوشش کر کے اپنا مقام بنائے اور آ کر خوبصورت و بے داغ جسم کے ساتھ ہماری رہنمائی کرے۔


Comments

FB Login Required - comments