دو کلوگرام چرس خریدنے کے لیے جعلی نوٹ چھاپے؛ کم عمر ملزمان کا اعتراف


بھارت میں طالبہ نے اپنے ہی نقلی نوٹ چھاپ لیے ، لیکن یہ نوٹ کیوں پرنٹ کیے تھے ؟ جان کر آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے 

منشیات کی وباء عام ہونے کے بعد یونیورسٹیوں کے طلباء بھی اس بری عادت میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ بھارت کی ایک یونیورسٹی کے چند طلباء تو اس معاملے میں عادی نشئیوں کے بھی استاد نکلے۔ یہ جوان کلو کے حساب سے منشیات خریدتے تھے اور ادائیگی بھی جعلی نوٹوں میں کرتے تھے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست ہما چل پردیش کی مہارشی دیاآنند یونیورسٹی کے چار طلباء کے بارے میں پتا چلا ہے کہ انہوں نے دو کلوگرام چرس خریدنے کے لئے دو ہزار روپے مالیت کے جعلی نوٹ خود ہی پرنٹ کئے تھے۔ یہ بات مزید افسوسناک ہے کہ یہ چاروں قانون کے طالبعلم ہیں۔ پولیس نے ان میں سے دو طلبا کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کئے گئے وکرانت نامی طالبعلم کا تعلق ہریانہ سے اور پارویش کا تعلق دلی سے ہے۔ ان کے باقی دو ساتھی مفرور ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ طالبعلموں نے 14 اپریل کے دن ہماچل پردیش کے ایک دیہات سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش لال سنگھ کو چرس خریدنے کے لئے ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کئے۔ لال سنگھ اس رقم میں سے ایک لاکھ روپے جمع کروانے کے لئے ہماچل گرامین بینک چلا گیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ اس کے پاس موجود کرنسی نوٹ جعلی تھے جس پر بینک منیجر نے پولیس بلوالی۔ جب اس شخص کو گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ اس کے پاس گھر پر مزید ایسے کرنسی نوٹ موجود تھے۔ اسی ملزم کی دی گئی معلومات پر دو طالبعلموں کو گرفتار کرلیا گیا، جنہوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ چرس خریدنے کے لئے انہوں نے جعلی نوٹ خود پرنٹ کئے تھے۔ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے کہ انہوں نے مزید کتنے جعلی نوٹ پرنٹ کئے ہیں اور انہیں کہاں کہاں تقسیم یا استعمال کیا جا چکا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں