شخصی بحران


فارینہ الماس

crisis

وہ دور بیت چکا جب دادی اماں سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھیں، بچوں کو سکولوں میں گلستان اور بوستان پوری توجہ سے پڑھائی جاتی تھیں، جب اساتذہ کرام اپنے شاگردوں کی کردار سازی اور روح سازی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے تہے، والدین بچوں کو اخلاقی اقدار سیکھانا اپنا دینی اور معاشرتی فریضہ سمجھتے تہے۔ اٗس وقت بھی زندگی ایک کہانی تھی لیکن وہ کہانی سچی کہانی تھی اور وہ معاشرہ بھی سچا، سادہ اور با اخلاق معاشرہ تھا۔ زندگی آج بھی ایک کہانی ہے بس فرق یہ ہے کہ آج کی کہانی جھوٹ اور تصنع کی کہانی ہے۔ آج کی تعلیم اور استاد نے خیالات اور تصورات کو مفروضوں میں پلنا تو سیکھا دیا ہے لیکن روح کے اعمال بھٹک چکے ہیں۔ سائنس اور فکشن کے جادوئی خیالات ہمیں آنے والی صدی کے کمالات کا نظارہ تو وقت سے بہت پہلے چشم تصور میں دکھا دیتے ہیں لیکن ہمیں وہ خیالات میسر نہیں جو ہماری روح کو بلند پروازی عطا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ماضی کی رومانویت میں جی رہے ہیں یا مستقبل کے خوابوں میں لیکن حال دگرگوں ہے۔ اپنی شخصیت کے بکھرے شیرازے کو سمیٹنے کے لئے ایک جاندار اقداری نظام کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس موجود تو ہے لیکن پھر بھی ہم اٗس سے محروم ہیں۔ ارشاد نبویؐ ہےْ جس نے اپنی قدر پہچانی وہ کبھی ہلاک نہیں ھو گا۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ آج مغرب ہماری اعلی اسلامی اقدار اپنا کے فلاحی معاشرے میں ڈھل چکا ہے اور ہم انہں اقدار سے محروم ہو کر غفلت اور گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں گھر چکے ہیں۔ ہماری ان اقدار اور ثقافت سے دوری کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

اول، ہمارے اپنے رویے۔ ہم کسی ایک اقداری نظام پر کبھی مجتمع نہیں ہو پائے اس کی بڑی وجہ ہمارے متفرق اعتقادات اور تصورات ہیں۔ ہم لاتعداد فرقوں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں جن کو چلانے والے ہمیں ایک ہونے نہیں دیتے۔ ہمارے تضادات ہمارا تصادم بن چکے ہیں جس نے ہمیں شخصی توڑ پھوڑ کا شکار بنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے تہذیبی ادارے بھی شکست و ریخت کا شکار ہیں۔ اب ایک اور اہم وجہ ملاحظہ فرمائیں، جس خطہ زمین پر ہم آباد ہیں یہ متفرق نسلوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے حامل افراد کی آماجگاہ رہا۔ یہاں متفرق رویے اور اقدار و ثقافت پروان چڑھتے رہے، پھر ایک طویل مدت تک نو آبادیاتی نظام نے ہماری سوچ، ہماری فکر اور ہمارے تشخص کو متاثر کیا۔ ہمارا بہت کچھ چھن جانے سے ہم پھر تہی دامن رہ گئے۔ اس دور میں ایک ایسے طبقے نے جنم لیا جس نے اپنی راہ نجات سمجھتے ہوئے مغرب کےْ سٹیٹس کو اپنا لیا۔ اسی جاگیردار، بیوروکریٹ طبقے نے پاکستان بن جانے کے بعد بھی برٹش سامراجی سٹائل کو رواج دیا جو بعد ازاں امریکی کلچر میں بدل گیا۔ ان کا لباس، رہن سہن، خوراک، زبان سب مغربیت ذدہ ہو گئے۔ بڑی بڑی رہائش گاہیں، آکسفورڈ اور ہاورڈ کلچر ان کا طرہ امتیاز بن گیا۔ یہ کلاس سیاسی فیصلہ سازی پر بھی اثر انداز ہونے لگی۔ اسے خود کو ویسٹرنائزڈ ایلیٹ کلاس کہلانے میں فخر محسوس ہونے لگا۔ یہ کلاس اپنی خود پسندی کے زعم میں طبقاتی اور علاقائی نا ہمواری کو پروان چڑھاتی رہی۔ غیر قانونی پیسہ بنتا رہا، لا قانونیت عام ہوتی رہی۔ اس اپر انکم گروپ نے ویلیو سسٹم کے استوار ہونے کے راستے میں رکاوٹیں حائل کیں۔ انہیں خوف لا حق تھا کہ ایک ویلیو سسٹم سے محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں گے۔ اس کلاس کے اس احساس برتری نے پوری قوم کو شدید طرح کے شخصی بحران کے روگ میں مبتلا کر دیا۔ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ پاکستان کے بننے کے ستر سال بعد بھی ہم اپنا ویلیو سسٹم اور اپنی مشترک ثقافت تشکیل نہیں دے پائے۔

اس میں کوئی شک نہں کہ جدید دنیا عالمی معاشرے کا حصہ بن چکی ہے ۔ جسے گلوبلائزیشن کا نام دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ مغربی اکانومی دنیا کی ہر اکانومی پر غالب ہے ۔ لہٰذا دنیا کی ہر تہذیب مغربی تہذیب سے متاثر ہوئے بغیر نہں رہ سکتی۔ ہمیں اگر ترقی کرنا ہے تو جدیدیت کا حصہ بننا پڑے گا۔ ہمارا آج کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مغربیت اور جدیدیت میں فرق نہیں کر پائے۔ اپنے تئیں ہم جدیدیت کے سفر پر گامزن ہیں، شہری علاقوں کا انداز معاشرت بدل رہا ہے ۔ 30ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان ایشیا میں موبائل فون کی پانچویں بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ فاسٹ فوڈ کے تقریباْ 25 ہزار سینٹرز ہماری جدید خوراک کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ ہم سالانہ 90 بلین روپے فاسٹ فوڈ پر خرچ کرتے ہیں۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز مغربی برینڈز کا سامان فروخت کر تے نظر آتے ہیں۔

لیکن یہ محض مغربیت ہے جدیدیت نہیں۔ ہم مغرب کی بگڑی ہوئی عادات کی نقالی کر رہے ہیں جب کہ ان کی اچھی اقدار ہم پہ گراں ہیں۔ ہمیں آج بھی مغرب کا نظام عدل بوجھ لگتا ہے۔ مغرب کی طرح خواتین کو ان کے حقوق دیتے ہوئے ہماری جان جاتی ہے۔ حالانکہ یہ خوبیاں انہوں نے اسلام سے ہی سیکھی ہیں۔ مغربی نظام تعلیم کی طرح جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے نظام کو اپنانے کی بجائے فرسودہ نظام تعلیم سے چپکے ہوئے ہیں۔ ہمارا نظام سیاست جمہوریت کی بجائے شخصی بادشاہت پر مربوط ہے۔ مغرب کی جدیدیت بھی مکمل طور پر قابل تقلید نہیں کیوں کہ وہ اپنی تہذیب کو، اپنے علم کو اخلاقیات سے جوڑنے کی بجائے طاقت اور مادیت سے جوڑتا ہے۔ اسی لئے وہ روحانیت سے خالی ہے۔ ہم مغرب ذدہ ہو کر انفرادی اور شخصی رحجان کے زہر میں اٹ چکے ہیں۔ خاندانی نظام ہمیں بوجھ لگنے لگا ہے۔ طلاق اور خود کشیوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم نفسیاتی عوارض کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوان اخلاقی تربیت نا ہونے کی وجہ سے مغربی ٹیکنالوجی مثلا موبائل اور کمپیوٹر کے منفی اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ مغرب کے فاسٹ فوڈذ اور انرجی ڈرنکس ہماری صحت کو بگاڑ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ڈرگ اور ڈرنکس عام ہورہے ہیں۔ مغربیت پرستی کے جال میں پھنس کر ہم کرپٹ ہو چکے ہیں۔ اپنے اپنے احساس کمتری کو مٹانے کے لئے ناجائز زرائع آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔ زندگی کا ہر شعبہ زوال پزیر ہو چکا ہے۔ اگر خود کو ایک زندہ قوم کی حیثیت سے دنیا میں ایک مقام دلانا ہے تو ہمیں اپنے کلچر اور اقدار کو زندہ کرنا ہو گا۔ اپنی زبان اپنے تاریخ و تمدن اور اپنے کلچر پر فخر کرنا ہو گا۔ اساتذہ، دانشور، ادیب اور تخلیق کار سب کا فرض ہے کے وہ معاشرے کی اقدار اور ثقافت کو متحرک کرنے کی تحریک چلا نے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ورنہ کہیں ایسا نا ہو کہ آنے والے وقت کی داستانوں میں ہمارا ذکر بھی نہ ملے۔


Comments

FB Login Required - comments