مصنوعی طریقے سے دماغ کو زندہ رکھنا شدید تکلیف دہ کیوں ہو گا؟


سائنسدان ایک عرصے سے انسانی دماغ کو موت کے بعد زندہ رکھنے یا کم از کم اس میں محفوظ معلومات اور سوچ کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور اب انہیں اس سلسلے میں ایسی کامیابی مل گئی ہے کہ آپ سن کر دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق Yaleیونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں سور کے دماغ کو اس کے جسم سے باہر نکال کر 36گھنٹے سے زائد وقت تک زندہ اور متحرک رکھنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ اس تجربے میں سائنسدانوں نے کچھ سوروں کے سر کاٹ کر ان سے دماغ نکالے اور ان میں مشینوں کے ذریعے آکسیجن سے لبریز مصنوعی خون پمپ کرتے رہے جس سے یہ دماغ 36گھنٹے سے زائد وقت تک زندہ رہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”اس تجربے کی کامیابی سے انسانوں کے دماغ کے ٹرانسپلانٹ کی راہ ہموار ہو گی۔“رپورٹ کے مطابق اس تجربے کی کامیابی سے انسانی دماغوں کو مصنوعی سسٹمز کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر نینڈ سیسٹن کا کہنا تھا کہ ”ہم نے 200سوروں پر تجربات کیے اور ان کے جسم سے نکالے گئے دماغوں کو مصنوعی خون فراہم کرنے کے لیے ایک ’کلوزڈ لوپ سسٹم‘ (Closed-loop system)تیار کیا جسے ’برین ایکس‘ (BrainEX)کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم دماغ کے کلیدی حصوں میں مصنوعی خون کو پمپ کر سکتا ہے جس میں آکسیجن شامل ہوتی ہے۔ہمارا یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا اور دماغ کے اربوں خلیے اس سسٹم کے ذریعے زندہ اور مکمل صحت مند رہے۔“

دوسری جانب برطانیہ کے کچھ نامور سائنسدانوں کا یہ بھی کہناہے کہ انسانی دماغ کو موت کے بعد زندہ رکھنا اسے کبھی نا ختم ہونے والے عذاب میں مبتلاءکرنے کے مترادف ہو گا۔ ان ماہرین کا مﺅقف ہے کہ جسم کے بغیر انسانی دماغ کی زندگی ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ ہو گی کیونکہ ایسا دماغ بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے کے قابل نہیں ہو گا اور اسے ہمہ وقت صرف اپنی ہی سوچوں میں گم رہنا ہو گا۔ یہ ایک ایسا عذاب ہو گا جسے ختم کرنا اس دماغ کے بس میں نہیں ہوگا اور نا ہی اس سے نکلنے کا کوئی طریقہ اسے میسر ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں