نہ جانے کیوں


محمد بلال

bilalآج کل اگر کبھی فرصت ملے تو جی چاہتا ہے کہ چلیں اخبار ہی پڑھ لیں۔ لیکن جب اخبار پر نظر پڑتی ہے تو ایک انجان سا خوف دل و دماغ میں دہشت پیدا کر دیتا ہے۔ کبھی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں جگہ اتنے ارب کا گھپلا ہو گیا۔ فلاں جگہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اتنے افراد ہلاک ہو گئے۔ فلاں جگہ پر غیرت کے نام پر اتنے قتل ہو گئے۔ فلاں بستی میں زیادتی کا کیس سامنے آیا مگر بااثر مجرم رہا ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ اس سب کچھ کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ دفع کرو اس ملک کو یہاں کے لوگ ہی اچھے نہیں۔ سب کے سب جرائم پیشہ لوگ یہیں پر بستے ہیں۔ اگر میں اپنی صلاحیات اس وطن کے لئے لگا بھی دوں تو کیا صرف میری وجہ سے یہ ترقی کر جائے گا؟۔ کیا صرف میرے ہی ذمے اس ملک کی خوشحالی ہے؟ اگر میں نے کرپشن نہ بھی کی تو اور کتنے لوگ ہیں اس کام کو سر انجام دینے کو۔ جب یہ بات ذہن میں آتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ اس وطن کو چھوڑ چھاڑ کر کہیں دور ایسی جگہ چلے جائیں کہ جہاں امن و امان کی فضا ہو، جہاں کے لوگ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں، جہاں لوگ ایک دوسرے کو بے غرض ہو کر ملیں، جہاں کے حکمران کرپٹ نہ ہوں۔

لیکن جب ایسا کوئی معاشرہ ڈھونڈنے کو نظر دوڑائی جائے تو شروع شروع میں تو دل کرتا کہ یہ جو گوروں کے ملک ہیں ان میں بہت امن ہے۔ کوئی کسی کا حق نہیں مارتا۔ کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا۔ وہ لوگ انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ وہاں بے جا انسانوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تو کیوں نہ کسی ایسے ملک کی طرف رخ کیا جائے۔ کیا جرائم سے بھرپور معاشرے میں رہنا۔ چھوڑو یہ سب اور اسی دنیا میں کسی جنت نما علاقے کے راہی بن جائو۔

لیکن وہ بات سچ ہے نا کہ اگر انسان کچھ پانے کی کوشش اور ہمت کرے تو قدرت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ یہاں بھی تھا۔ ابھی ان سوچوں کو چند دن ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالی نے ایک ایسے صاحب سے ملوا دیا کہ جن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ امریکہ میں گزرا تھا۔ یہ معاملہ جب ان کے گوش گزار کیا تو پہلے تو انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر گویا ہوئے، “میاں یہ کس نے کہ دیا کہ گوروں کے ملک جو تمہیں اتنے پر امن نظر آرہے ہیں، واقعی میں امن کے گہوارے ہیں۔ یہ کس نے کہ دیا کہ وہاں کے لوگ کسی کا حق نہیں مارتے۔ وہاں کوئی کسی کو بلاوجہ قتل نہیں کرتا۔ اصل میں بیٹا وجہ صرف اتنی ہے کہ وہاں کے میڈیا کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ایسی خبریں شائع کرے کہ جس سے عوام میں خوف کی فضا پھیلے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ وہاں ہر لحاظ سے امن و امان ہے؟ یہ سب ایک خام خیالی ہے۔ ہاں اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف یہ کہ وہاں سسٹم بہتر ہے اور انہوں نے ہر اس ذریعے کو جو عوام میں بلاوجہ خوف کی فضا کو عام کرے، ایک خاص حد میں رکھا ہے۔”
یہ بات سچ ہے کیونکہ، ایف بی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 میں امریکہ میں کل گیارہ لاکھ پینسٹھ ہزار تین سو تراسی کیس صرف قتل، چوری ڈاکا اور زیادتی کے سامنے آئے۔ اور 2015 میں ان جرائم میں 9.6 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ مگر ان سب سے بے خبر دنیا اسے پرامن جگہ سمجھتی ہے۔ اور وجہ صرف وہاں کے میڈیا کی ذمہ دارانہ کارکردگی ہے۔
اگر بطور مسلمان غور کیا جائے تو اسلام نے اس معاملے کو بڑے احسن انداز میں سلجھایا ہے۔ خود پیغمبر اسلام جناب نبیءاکرم (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان اعلی شان کا مفہوم ہے کہ جو کسی دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو اللہ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور جو کسی کی پردہ دری کرتا ہے تو اللہ اس کی پردہ دری کرتا ہے۔ حتٰی کہ اسے گھر بیٹھے ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔ اب ذرا خود ہی غور کیا جائے کہ آج جو ہم پوری دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا ہیں تو کیا کہیں اس رسوائی کی وجہ ہم خود تو نہیں؟ ویسے بطور فرد اور بطور ایک اہم جزو، ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اگر ہمیں کسی کا کوئی عیب نظر آجائے تو اس کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلانے میں ہمارا کتنا اہم کردار ہے۔ لیکن یہ سارا معاملہ حل ہو جائے اگر کبھی ہم اپنے آپ کو اس جگہ مجرم، خیال کریں۔ ہاں اگر کوئی ملک دشمن عناصر اپنی سرگرمیوں میں مگن ہیں تو ان خبروں کو متعلقہ اداروں تک محدود رکھا جائے۔ لیکن اس کے برعکس ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے کتنی آسانی سے سب الزام دوسروں کی جانب منسوب کر دیتے ہیں۔

کیا میڈیا کے لوگ کہیں اور سے آئے ہیں؟ وہ بھی تو ہمارے ہی ہم وطن ہیں، انہیں بھی تو اس وطن ہی کی مٹی ہی جواں کرتی ہے۔ تو نہ جانے کیوں وہ اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی حکم صادر ہو تو کسی برائی کے سدباب پر عمل درآمد کیا جائے۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس حکومت سے ایک بڑی حکومت ہے کہ جس نے تمام احکامات پہلے ہی سے صادر فرما رکھے ہیں۔ اور ان احکامات کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں متعین ہیں۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں؟


Comments

FB Login Required - comments