مودی دوبارہ وزیراعظم بنیں گے؟

سہیل حلیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


مودی

EPA

کیا دو چھوٹے سے انتخابی حلقے ایک طاقتور وزیراعظم کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں؟

انڈیا میں نگاہیں تو جنوبی ریاسیت کرناٹک کے الیکشن پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان گھمسان کی جنگ چل رہی ہے۔ لیکن اتر پردیش کے دو ضمنی انتخابات سے اس بات کا سب سے واضح اشارہ ملے گا کہ نریندر مودی ایک اور مدت کے لیے وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں۔

ان میں سے ایک الیکشن نورپور ریاستی اسمبلی کا ہے اور دوسرا کیرانہ پارلیمان کا جہاں حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہوکر صرف ایک امیدوار میدان میں اتار رہی ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں دونوں سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھیں۔

اتحاد یا انتشار؟

بی جے پی

EPA

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی پارٹیاں اپنا ووٹ دوسری پارٹی کے امیدوار کو منتقل کراسکیں گی؟ مارچ میں بھی اتر پردیش کے دو حلقوں، گورکھپور اور پھولپور، میں ضمنی الیکشن ہوا تھا اور دونوں میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اپنی کٹر حریف سماجوادی پارٹی کی حمایت کی تھی جس کی وجہ سے بی جے پی کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے پہلے یہ دونوں حلقے بی جے پی نے بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔

یہ ایک تجربہ ہے جو کامیاب ہوا تو آئندہ برس اتر پردیش کے زیادہ تر پارلیمانی حلقوں میں بی جے پی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوسکتا ہے۔

بی جے پی کو اترپردیش میں جھٹکا

آسام: لاکھوں مسلمانوں کے بے وطن ہونے کا اندیشہ

کیرانہ میں جاٹ اور مسلمان ووٹروں کی بڑی تعداد ہے۔ مظفر نگر کے مذہبی فسادات میں جاٹ اور مسلمان ہی آمنے سامنے تھے، اور مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ کیرانہ اسی علاقے میں واقع ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہاں کسانوں اور جاٹوں کی پارٹی راشٹریہ لوک دل نے ایک مسلمان خاتون کو اپنا ٹکٹ دیا ہے اور دوسری جماعتیں ان کی حمایت کریں گی۔

یہاں سب سے بڑی آزمائش یہ ہوگی کہ جاٹ ایک مسلمان امیدوار کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں یا نہیں، جیسا ماضی میں ہوتا تھا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اس بات کا واضح پیغام ہوگا کہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے لیے راستہ تنگ ہوسکتا ہے۔

نورپور میں چیلنج ذرا مختلف ہے۔ وہاں انصاری برادری سے تعلق رکھنے والے مسلمان اس بات سے ناراض ہیں کہ سماجواودی پارٹی کا امیدوار بھلے ہی مسلمانان ہو لیکن ان کی برادری کے کسی رہنما کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن کیا بی جے پی کی مخالفت میں وہ اپنی ناراضگی چھوڑ کر سماجودای پارٹی کے امیدوار کا ساتھ دیں گے؟ انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ بی جے پی کی سیاست سے کس حد تک نالاں ہیں؟

’ہندو مسلمان‘ الیکشن

مسلمان

Reuters

اگر یہ دونوں الیکشن ’ہندو مسلمان‘ الیکشن میں بدل جاتے ہیں تو انتخابی نتائج کیا ہوں گے، اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن سن 2014 کی لہر میں بھی بی جے پی کو 42 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کی حمایت کرنے والوں سے اس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن یہ ووٹ تین جگہ بی ایس پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہوگئے تھے۔

کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

بہار کے مسلمانوں میں افراتفری کے اسباب

نتیجہ یہ ہوا کہ یو پی کی 80 میں سے بی جے نے 71 اور اس کی اتحادی جماعت اپنا دل نے دو سیٹیں جیت کر پورے پارلیمانی الیکشن کو یک طرفہ بنا دیا۔ بی جے پی نے تنہا اپنے دم پر پارلیمان میں اکثریت حاصل کرلی اور نریندر مودی وزیر اعظم بن گئے۔

لیکن اگر بی جے پی صرف یو پی ہار جاتی ہے، جو اپوزیشن کے متحد ہونے کی صورت میں بہت ممکن ہے، اور کانگریس کا مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں سے دوبارہ پوری طرح صفایہ نہیں ہوتا، جیسا کہ وہاں ہونے والے ضمنی اتنخابات سے اشارہ ملا ہے، تو پھر دو ممکنہ صورتحال پیدا ہوسکتی ہیں۔

حکومت سازی کی دوڑ سے باہر یا سیٹیں کم؟

کرناٹک

EPA

یا تو بی جے پی حکومت سازی کی دوڑ سے ہی باہر ہوسکتی ہے، جو کہنا فی الحال قبل ازوقت ہوگا، یا لوک سبھا میں اس کی سیٹوں کی تعداد کافی کم ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو وزیر اعظم نریندر مودی کمزور ہوں گے اور خود پارٹی کے اندر سے ان کی قیادت کے انداز کے خلاف بغاوت ہوسکتی ہے، یا پھر بی جے پی کی اتحادی جماعتیں اپنی حمایت کے عوض یہ مطالبہ کر سکتی ہیں کہ وزیر اعظم کا عہدا کوئی دوسرا قدآور رہنما سنبھالے۔

’کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر‘

نریندر مودی کے حکم پر سمرتی ایرانی کا حکم نامہ واپس

کرناٹک میں بی جے پی ہارتی ہے تو یہ بڑی خبر ہوگی، وہاں وزیراعظم نے اپنی پوری طاقت لگا رکھی ہے، لیکن میری زیادہ دلچسپی نورپور اور کیرانہ میں ہی ہے، وہاں کے نتائج سے یہ معلوم ہوگا کہ اگر الیکشن براہ راست ایک ہندو اور ایک مسلمان امیدوار کے درمیان ہو تو ووٹ مذہب کی بنیاد پر ڈالے جائیں گے یا نظریات کی جیسا کہ ایک ’میچور‘ جمہوری نظام میں ہونا چاہیے۔

کہتے ہیں کہ دلی کا راستہ لکھنؤ سے ہوکر گزرتا ہے، اس مرتبہ لکھنؤ کا راستہ روکنے کے لیے مایاوتی، اکھیلیش یادو اور راہل گاندھی ایک ساتھ کھڑے نظر آسکتے ہیں۔

ایسا ہوا تو یہ قیامت کا الیکشن ہوگا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6029 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp