احتساب کیسا ہو؟


anwar ghazi“ملکی سالمیت، ملی یکجہتی، خود مختاری اور ترقی و خوشحالی کے لئے ہر سطح پر بلا امتیاز احتساب ناگزیر ہے۔ ملک میں امن و امان اور استحکام کرپشن کے خاتمے سے جڑے ہیں، کرپشن کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر دائمی امن نہیں آسکتا۔ آنے والی نسلوں کو ایک پر امن ملک دینے کے لیے فوج احتساب کی ہر بامقصد کوشش میں بھر پور معاونت کرے گی۔ “یہ الفاظ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے ہیں جو انہوں نے گزشتہ دنوں کہے۔ قارئین! اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ احتساب کے جامع، کھرے اور غیر امتیازی نظام کے بغیر ہیئت اجتماعی کو درست انداز میں نہیں چلایا جاسکتا۔ جس معاشرے میں احتساب، باز پرس اور جواب دہی کا کسی بھی نوع کا احساس نہ پایا جاتا ہو، اس معاشرے میں سماجی انصاف عنقا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماج میں جنگل کا قانون غالب ہوجاتا ہے۔ جو جتنا با اثر ہوتا ہے وہ اسی قدر من مانیاں کرتا جاتا ہے اور کسی میں جرات نہیں ہوتی کہ اس سے باز پرس کرے۔

کرہ ارض پر ایک ملک “روانڈا” ہے۔ جب بھی بد امنی ،محرومی ، کرپشن،غربت وغیرہ کا ذکر آتا ہے تو اکثر لوگ روانڈا کی مثال دیتے ہیں۔ پسماندگی و ناانصافی کا تذکرہ ہوتا ہے تو بھی روانڈا کی مثال دیتے ہیں۔ ظلم کی بات ہو تو بھی روانڈا کی منظر کشی شروع کردیتے ہیں، لیکن یہ روانڈا سن 2000ءسے پہلے کا روانڈا تھا۔ اس کے بعد کا روانڈا بدل چکا ہے۔ مستقبل میں جب بھی کہیں خوشحالی، امارت، استحکام اور امن کی مثال دی جائے گی تو اس میں روانڈا سرفہرست ہوگا۔ ہم اگر روانڈا کی پسماندگی، جہالت کی وجوہات کو دیکھیں تو اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی۔ 2001ءسے پہلے روانڈا میں امن نہیں تھا۔ 1992ءسے 2001ءتک روانڈا میں نسلی فسادات میں 8 لاکھ لوگ مارے گئے۔ یہ فسادات قبیلوں کی آپس کی لڑائی کا نتیجہ تھے۔ روانڈا میں تتسی اور ہوتودو معروف قبیلے ہیں۔ ایک کروڑ 20 لاکھ کی آبادی میں 84 فیصد ہوتو، 15 فیصد تتسی اور ایک فیصد ٹاوا لوگ ہیں۔ نسل کشی کی اس خونی جنگ میں صرف 100 دنوں میں 5 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ حکومت کی مسلسل تگ و دو اور کوششوں کے سبب 1993ءمیں دونوں قبائل میں ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں چند ماہ کے لیے ملک میں امن قائم ہوگیا۔ 1995ءمیں ملک کا نیا آئین بنا۔ تمام پارٹیز کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا۔ سب کو پابند کیا گیا، وہ ملک کو اس گھمبیر صورتحال سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے سیاست کو ایک طرف رکھ کرکندھے سے کندھا ملایا۔ ایک کریمنل ٹربیونل تشکیل پایا۔ اس ٹربیونل کو قاتلوں کو چن چن کر سزا دینے کا اختیار دیا گیا۔ جرگے کی طرز پر “گاکاکا” نامی ایک سسٹم متعارف کروایا گیا۔ ان ہنگامی اقدامات سے حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے۔ حکومت نے ساتھ ہی چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کروادیے۔ تعلیم پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی۔ بجٹ کا تعلیم پر خرچ 2.5 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کردیا گیا۔ 2003ءمیں 86 ملین ڈالر تعلیم و تربیت پر خرچ کر ڈالے۔ حکومت نے 9 سال تک تعلیم مکمل طور پر فری کردی۔ صحت پر 3.2 فیصد کا بجٹ بڑھا کر 9 فیصد کر دیا گیا۔ ہیلتھ انشورنس لازمی قرار دےدی۔ یہ وہ اقدامات تھے جن کی بدولت روانڈا کی حالت ہی بدل گئی۔ انڈسٹری چلنے لگی۔ کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں۔ کھیت و کھلیان لہلہانے لگے۔ سیاح جوق در جوق آنے لگے۔ زندگی پٹری پر آگئی۔ معیشت سر اٹھانے لگی۔ آج اس روانڈا کی حالت یہ ہے کہ جہاں غربت 60 فیصد کو چھو رہی تھی، وہ اب کم ہو کر 39 فیصد تک آ گئی ہے۔ فی کس آمدن 416 ڈالر سے بڑھ کر 1592 ڈالر تک پہنچ گئی۔ خواندگی کی شرح 52 سے بلند ہو کر 71 فیصد تک چلی گئی۔ 26 ہزار ٹیچرز میں سے 85 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ روانڈا کی صرف ایک یونیورسٹی میں 26 ہزار طلبہ و طالبات ہیں۔ روانڈا اس وقت کاروباری لحاظ سے دنیا کا 32 واں بہترین ملک ہے۔

آپ روانڈا کی اس تاریخ کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد پاکستان کے حالات پر نظر دوڑائیں تو کئی مماثلتیں دکھائی دیں گی۔ ہمیں بھی روانڈا کی طرح اقدامات کرنے ہوں گے، بلکہ اس سے چار قدم آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔ روانڈا طرز کا ایک جنگی جرائم کاٹربیونل قائم کریں۔ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔جب تک ملک افراتفری کا شکار رہے گا، اس وقت تک یہاں خوشحالی کی کونپلیں نہیں پھوٹ سکیں گی۔ جنرل راحیل شریف نے بہت اچھے اچھے کام کئے ہیں۔ یہ خوش آئند بات اور قوم کے دلوں کی آواز ہے کہ انہوں کے احتساب کا اعلان کیا ہے، لیکن احتساب کیسا ہونا چاہے؟ اس پر تاریخ کا صرف ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں۔ یہ بات چھٹی ہجری صدی کی ہے اور علاقہ ہے شام کا۔ بادشاہ کا نام “امرائے سلطنت” ہے اور عدالت کے چیف جسٹس ہیں “شیخ عزالدین بن عبدالسلام۔” شام کے بادشاہ نسلاً ترک تھے اور مصر کے بادشاہوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ قاضی عزالدین نے فیصلہ دیا کہ چونکہ “امرائے سلطنت” کو رائج الوقت طریقے سے آزاد نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ شام کے بیت المال کی ملکیت ہے۔ ان کو سرِعام بازار میں نیلام کیا جائے، یہ خریدا جائے، اس کو آزاد کیا جائے اور پھر یہ قانون کے مطابق بادشاہ کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ متکبر بادشاہ، عدالت کے فیصلے کو کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ لہٰذا وہ عدالت کے حکم پر بپھر گئے، غصے سے لال پیلے ہوگے۔ قاضی عز الدین کو “ترغیب و ترہیب” ہر ممکن طریقے سے راضی کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن ان کی “نہ” کو “ہاں” میں تبدیل کرنے والا کوئی حربہ کامیاب نہ ہوسکا۔ ملک کے عوام عدالت کے ساتھ تھے۔ احتجاج ہوئے، جلوس نکلے، لاٹھی چارچ ہوئی، گرفتاریاں ہوئیں لیکن مطالبہ وہی ایک تھا، بالآخر شام کے بادشاہ “امرائے سلطنت” کو عدالت اور عوام کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا، چنانچہ ان کو نیلام کرنے کے لئے بولی لگائی گئی۔ فروخت ہوا۔ بھاری بھر کم رقم وصول کرکے ملکی خزانے میں جمع کروادی گئی، پھر ملک کے حالات معمول پر آگئے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اچھے ہوگئے۔ عدل و انصاف کے اس واقعے کے چرچے دور دور تک ہونے لگے۔

ذرا تاریخِ اسلام کے اس نادر واقعہ کو دیکھیے، پھر جگر پر ہاتھ رکھ کر ملک کے سیاسی منہ کی کالک “NRO” پر ایک نظر ڈالیے۔ بدعنوانی اور چوری ڈکیتی اور حرام خوری جیسے قبیح ترین افعال کے مرتکب افراد کو جس صفائی بلکہ ڈھٹائی سے بری کیا گیا ہے کیا انسانیت کی تاریخ اس سے بڑی کوئی اور مثال پیش کرسکتی ہے؟ انصاف کے بارے میں حضرت علیؓ نے کہا تھا: “کوئی معاشرہ کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں۔” یہی وجہ تھی قرون اولیٰ میں امیر و غریب، خواندہ و جاہل، عوام و خواص، رعایا اور بادشاہ انصاف کے معاملے میں برابر ہوتے تھے۔ ایک دفعہ آپﷺ نے مجمع عام سے مخاطب ہوکر فرمایا: “اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔” حضرت عمر ؓنے اپنے دورِ خلافت میں تمام منتظمین کو جمع کرکے فرمایا، “ان میں سے اگر کسی نے انصاف میں کمی و کوتاہی کی ہو تو وہ بدلہ اسی وقت لے سکتا ہے۔”

تاریخ ایسے واقعات اور مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ حکمرانوں نے احتساب کے لئے اپنے آپ کو عدالت میں پیش کیا۔ کوئی بھی شخص عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ نہیں رہا۔ بڑے بڑے حکمران اور بادشاہ عدالت میں گئے۔ اپنے خلاف قائم ہونے والے مقدمات کا طوعاًو کرہاً سامنا کیا تو جان بخشی ہوئی۔ جب معاشرے میں بگاڑ آتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انصاف کا فقدان ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے اجڑ جاتے ہیں جہاں انصاف کے پیمانے بدل جائیں۔ مشہور واقعہ ہے ایک طوطا طوطی کہیں جارہے تھے راستے میں ایک ویران جگہ دیکھی۔ طوطی نے پوچھا: “یہ شہر اور علاقہ کیوں تباہ ہوا؟” طوطے نے کہا: “اُلوﺅں کی وجہ سے، کیونکہ یہ منحوس جانور ہے۔ جہاں بیٹھتا ہے اسے ویران کردیتا ہے۔” اُلو کہیں قریب ہی بیٹھا سن رہا تھا۔ اس نے جواب دیا: “نہیں! ایسا ہرگز نہیں! نحوست ہم اُلوﺅں میں نہیں ہے بلکہ بے انصافی میں ہوتی ہے۔” یہ سچ ہے جہاں انصاف کا پیمانہ کمزوروں کے لیے الگ ہو اور طاقتوروں کے لیے دوسرا ہو، وہ معاشرہ کبھی پُرامن نہیں ہوسکتا ہے۔ وہاں ایسی دہشت گردی جنم لیتی ہے جو سب کا امن وسکون غارت کرکے رکھ دیتی ہے۔ صدیوں پہلے نبی آخر الزمانﷺ نے انصاف اور احتساب سب کے لیے ایک جیسا ہونے کی تعلیم دی تھی۔ آپ نے ایک موقع پر یہاں تک فرمایا تھا: “تم سے پہلے جو اُمتیں گزری ہیں، وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ کمتر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتے تھے اور اونچے درجے والوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدﷺ کی جان ہے۔ اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔” جس معاشرے میں بھی انصاف و احتساب قائم ہوا، وہ مثالی بن گیا۔ وہ ترقی کرگیا۔ وہاں رزق کی کشادگی ہوگئی۔ وہاں جرائم ختم ہوگئے۔ ہمارے بہادر جنرل صاحب! آپ بھی احتساب ایسا کریں کہ دنیا یاد رکھے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “احتساب کیسا ہو؟

  • 25-04-2016 at 5:17 pm
    Permalink

    بجا فرما یا
    بلا امتیاز انصاف ہی ترقی کا زینہ ہے

  • 25-04-2016 at 10:15 pm
    Permalink

    Dear Ghazi sb, the last line of your article is the best example of Military-Mullah Alliance.

  • 25-04-2016 at 11:33 pm
    Permalink

    انور غازی صاحب!
    “ہمارے بہادر جنرل صاحب! آپ بھی احتساب ایسا کریں کہ دنیا یاد رکھے۔”
    آپ یہ دعوت پاکستان کے کس قانون، آئین کی کس شق اور اخلاقیات کے کس اصول کی روشنی میں دے رھے ھیں؟؟
    بہادر جنرل صاحب کا پیشہ ورانہ فرض ملکی سرحدوں کی حفاظت ھے نہ کہ حکومتی عہدیداروں کا احتساب کرنا۔
    کیا آپ اس قسم کی دعوت سعودی عرب کے سپہ سالار کو دے سکتے ہیں کہ وہ وھاں کے حکومتی سربراہ اور دیگر سرکاری عمال کا احتساب کریں؟؟؟
    خوش آمد کو اتنا بھی خلط ملط نہیں کرنا چاہئیے کہ” مد” گر جاۓ اور “الف” شین سے جا ملے؛ اس سے کردار کا شرف، الفاظ کی عظمت اور اصول کی حرمت مجروح ھو جانے کا اندیشہ ھے جناب۔

  • 28-04-2016 at 1:53 am
    Permalink

    انسان کا بیچا اور خریدے جانا جہاں انصاف کا پیمانہ ہو اور انسانیت کی توہین نہ سمجھا جائے ۔ ایسی سوچ سے کیا مکالمہ ہو۔

Comments are closed.