’اقوامِ متحدہ نے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا: پاکستان


خراسانی

Reuters
عمر خالد خراسانی کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ کرم ایجنسی کے قریب پاک افغان سرحدی علاقے میں تین امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی پر پابندی نہ لگانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ، ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ‘اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا ہے اور عمر خالد خراسانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہ کرکے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا ہے۔’

واضح رہے کہ دفترِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے رہنما عمر خالد خراسانی پر پابندی کی درخواست پر عمل درآمد کا معاملہ امریکی اعتراض کے بعد رکا ہے۔

جماعت الاحرار اور عمر خالد خراسانی کے بارے میں مزید پڑھیے

’ہلاکت‘ کے بعد خراسانی کا نیا بیان

جماعت الاحرار: سات شکایتیں

لاہور میں جماعت الاحرار کا چوتھا بڑا حملہ

‘امریکہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ پاکستان نے پابندی کی درخواست میں جماعت الاحرار کے رہنما کی موجودگی افغانستان میں ظاہر کی ہے۔’

تاہم ترجمان دفترِ خارجہ نے پریس بریفنگ میں براہِ راست امریکہ کا نام لینے سے گریز کیا اور کہا کہ پاکستان کی درخواست اس لیے مسترد کی گئی کہ ‘کمیٹی میں ایک رکن ملک کی جانب سے اعتراض کے بعد اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔’

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کا نام تو ‘دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں ڈال دیا تھا مگر پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسی جماعت کے سربراہ کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس پیشرفت سے تاحال باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے ‘دہشتگردوں نے پاکستانی عوام کو نشانہ بنایا اور اس جماعت کے امیر عمر خالد خراسانی المعروف عبدالولی کے ہاتھ سینکڑوں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں’۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی جنوبی ایشیائی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بتدریج خرابی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان

AFP
جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان ہتھیار ڈال چکے ہیں

دفترِخارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جماعت الاحرار پر پابندی کی درخواست جولائی 2017 میں اُس وقت دی گئی تھی جب عمر خالد خراسانی تنظیم کے سربراہ تھے اور ‘افغانستان کے صوبے ننگرہار میں لعل پورہ نامی بیس کیمپ میں موجود تھے’۔

7 جولائی 2017 کو پاکستان کی ہی درخواست پر اقوام متحدہ کی اسی کمیٹی نے جماعت الاحرار کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔ جس کے بعد 21 جولائی کو پاکستان نے عمر خالد خراسانی کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست دی تھی۔

کالعدم جماعت الاحرار ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہوں میں سے ایک ہے ‘جو پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند تنظیم ہے’۔

تنظیم کی تشکیل اگست 2014 میں اس وقت ہوئی تھی جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت ملا فضل اللہ کے پاس جبکہ عمر خالد خراسانی نے جماعت الاحرار بنائی۔

جماعت الاحرار نے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں عام شہریوں، مذہبی اقلیتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

اسی گروپ نے 2016 میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر لاہور کے گلشنِ اقبال پارک میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی جماعت کے ترجمان نے نومبر 2014 میں واہگہ بارڈر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جبکہ فروری 2017 میں لاہور کے مال روڈ پر ایک احتجاجی مظاہرے پر خودکش حملے کی ذمہ داری بھی اسی جماعت نے قبول کی تھی، جس میں ڈی آئی جی ٹریفک پولیس احمد مبین زیدی ، قائم مقام ڈی آئی جی زاہد گوندل سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان ہتھیار ڈال چکے ہیں اور وہ اس وقت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4920 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp