اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں


سعدی جان

saadi

ہمارے محترم جناب عاصم بخشی صاحب نے معروف مفکر محمد اسد اور ان کے بیٹے طلال اسد کا ایک فکری مکالمہ نقل کیا ہے، جس میں دیگر مباحث کے ساتھ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کا ایشو بھی ذکر کیا گیا ہے، مکالمے کے اس حصے میں اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کے بارے میں وہی ’غلطی ہائے مضامین‘ دہرائی گئی ہیں جنہیں یورپی مصنفین صدیوں سے دھرا رہے ہیں۔ محمد اسد صاحب کا اخلاص اپنی جگہ، لیکن مسلم سیاسی فقہ کا وسیع اور گہرا مطالعہ نہ رکھنے کی جو وجہ سے اس مکالمے میں کچھ ٹھوکریں کھائی ہیں، جن سے ان کے بیٹے شبہات کا شکار ہوگئے، ہم اس مضمون میں اس مسئلے کے کچھ پہلوؤں پر ایک نگاہ ڈالیں گے :

اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ریاست کے وہ ’خصوصی‘ اور ’وی آئی پی‘ شہری ہیں، جن کی خصوصیت، اہمیت اور حساسیت کی بنا پر اسلام نے انہیں ایک الگ معزز نام الاٹ کیا ہے، یعنی ذمی۔ ذمی اور اہل الذمہ کا آسان مفہوم ہے کہ ریاست کے وہ شہری، جن کے جان، مال اور دین کی حفاظت ریاست کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ ویسے تو ریاست تمام شہریوں کی حفاظت اور امن کی ضامن ہے، لیکن غیر مسلم شہریوں کا نام ’ریاست کے محفوظ ترین شہری ’رکھ کر اس طرف اشارہ کیا کہ اس طبقے کی حفاظت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ یہ ایک لمحے کے لیے بھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ طرفہ تماشا یہ کہ جو نام ریاست کے وہی آئی پی شہری ہونے کی دلیل تھا، خلط مبحث سے یا غلط فہمی سے اسے ’دوسرے درجے کے شہری‘ ہونے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ذرا سوچیں آج اگر پاکستان میں کسی طبقے کا نام ’ریاست کے محفوظ ترین شہری‘ رکھ دیا جائے، تو اس سے ان کی اہمیت، عظمت، خصوصیت مترشح ہوگی یا ان کے مقام و مرتبہ کا کمتر ہونا معلوم ہوگا؟ یا للعجب۔

دوسری بات یہ کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری بھی مسلم شہریوں کی طرح مکمل حقوق کے حامل شہری ہوتے ہیں، جو آج کی جدید دنیا میں شہریت کے لوازم سمجھے جاتے ہیں مثلاً :

1۔ غیر مسلم شہریوں کی جان اور ان کا مال ایک مسلمان کی طرح مکمل قانوناً محفوظ ہوتا ہے ۔

2۔ غیر مسلم شہری اپنے دین پر ایک مسلمان کی طرح مکمل آزادانہ طور پر عمل کر سکتا ہے، اپنے مذہبی رسوم و عادات پر عمل پیرا ہوسکتا ہے، بلکہ ان احکام پر بھی عمل کر سکتا ہے جو اسلام میں حرام ہے، جیسے شراب پینا، خنزیر کھانا وغیرہ۔ اگرچہ اس میں وہ امور شامل نہیں ہیں، جن کا پورے معاشرے پر اثر ہوتا ہے جیسے سود (کیا آج کی جدید دنیا اس فیاضی کی مثال لا سکتی ہے کہ یورپی ممالک میں جو چیز قانوناً منع ہے، اور وہ چیز اسلام میں جائز ہو، تو یورپی ممالک اس کی اجازت مسلم شہریوں کو دے؟ لبرلز سے ایک سوال؟

3۔ غیر مسلم شہری اپنے عائلی معاملات مکمل طور پر اپنے دین کے مطابق سر انجام دے سکتے ہیں، اور ان معاملات میں جھگڑوں کی صورت میں فیصلے بھی ان کے مذہب کے مطابق ہوں گے۔

4۔ غیر مسلم شہری بازار و مارکیٹ میں مسلمانوں کی طرح آزادانہ تجارت کر سکیں گے اور ہر وہ چیز بیچ سکیں گے جو ان کے دین میں حلال ہے، خواہ اسلام کی نظر میں حرام ہو، جیسے شراب و خنزیر وغیرہ

5۔ غیر مسلم شہری مسلمان شہریوں کی طرح حکومتی عہدوں پر فائز ہوسکیں گے، البتہ وہ عہدے جن کا تعلق خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ہے، وہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں گے، جیسے امامت، موذن، قاضی (البتہ غیر مسلم شہریوں کا الگ قاضی بنانے میں کوئی حرج نہیں ) وغیرہ، مجھے تعجب ہے کہ محمد اسد جیسے مفکر نے اپنے بیٹے کو مکالمے میں کہا ہے کہ غیر مسلم شہری اسلامی ریاست میں عہدوں پر فائز نہیں ہوسکیں گے۔ کیا محمد اسد صاحب نے تاریخ میں نہیں پڑھا تھا کہ حضرت امیر معاویہ کے عہد میں ابن آثال حمص کا فنانشل کمشنر اور وہاں کا حاکم تھا، عبد الملک بن مروان کے دور میں اس کا چیف سیکرٹری ابن سرجون عیسائی تھا، حجاج بن یوسف کے شعبہ خراج کا میر منشی فرخ زاد آتش پرست تھا، پوری دولت عباسیہ کا چیف کاتب ابو اسحاق صابی تھا، ہارون الرشید کا خصوصی سیکرٹری جبریل بن بختیشوع عیسائی تھا، سلطنت دیلم کے شہنشاہ کا وزیر اعظم نصر بن ہارون عیسائی تھا، سلطنت مغلیہ میں پنج ہزاری اور چار ہزاری عہدوں پر متعدد ہندو اور سکھ براجمان تھے، یہ چند نام پچھلی صدی کے نامور مورخ علامہ شبلی کے ایک مقالے سے لیے گئے ہیں۔ ورنہ تاریخ کی ورق گردانی کی جائے اور اس میں اسلامی اندلس کو شامل کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ان غیر مسلم شہریوں کے ناموں پر تیار ہوسکتی ہے جو اسلامی ریاستوں میں مختلف عہدوں پر فائز کیے گئے ۔

6۔ غیر مسلم شہری کو اسلامی ریاست میں خصوصی امتیاز یہ حاصل ہے کہ ان کو کسی بھی صورتحال میں فوج میں شامل کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا خواہ تمام مملکت کے شہریوں کو نفیر عام کا حکم دیا جائے۔ البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے فوج میں شامل ہونا چاہتا ہے تو ٹھیک، اس صورت میں اس کا جزیہ مکمل طور پر معاف ہوگا ۔

7۔ غیر مسلم شہری کو ایک امتیاز یہ حاصل ہے کہ جس دن وہ فوت ہو جائے، اس کے پچھلے تمام واجب الادا ٹیکس معاف ہوں گے۔ یہ خصوصیت اسلامی ریاست کے کسی مسلم شہری کو حاصل نہیں ہے ۔

8۔ غیر مسلم اپنی الگ عدالتیں قائم کرنے کے مکمل مجاز ہیں، ان عدالتوں کی تنخواہیں بھی بیت المال سے ادا ہوں گی، بنو عباس کے دور میں اس قسم کی عدالتوں کا وجود بھی ملتا ہے ۔

9۔ غیر مسلم شہری آزادانہ گرجے اور معبد خانے بنا سکتے ہیں، البتہ جس علاقے میں تمام لوگ ہی مسلمان ہوں، غیر مسلم شہری ہی نہ ہوں، تو وہاں حکومت مداخلت کر سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی حکومت وقت کے سپرد ہے اور حالات و واقعات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ کوئی متعین اور دو ٹوک ضابطہ نہیں ہے۔ نیز ان معبد خانوں کے پنڈت، پادری، پروہت یعنی ان کے مذہبی زعماء ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ ہوں گے ۔خواہ ان کے پاس سونے و جواہرات کے ڈھیر کیوں نہ لگ جائیں ۔

10۔ جن حضرات کو مسلم فقہ السیاسۃ کا مطالعہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں شہریت کی بنیاد پر کسی قسم کی تقسیم کا کوئی تصور نہیں ہے۔ فقہاء نے غیر مسلم شہریوں کے بارے میں ضابطہ لکھا ہے کہ ’الذمی من دار اہل الاسلام‘ کہ ذمی اسلامی ریاست کے شہریوں میں سے ہیں۔ اسلامی ریاست میں یا تو شہری ہوگا یا نہیں۔ یہاں نو آبادیاتی نظام اور جدید استعمار کی طرح ریاست کے شہریوں میں کوئی طبقاتی تقسیم اور درجہ بندی نہیں ہوتی۔ معلوم نہیں کس نص قرآنی، کس حدیث مبارکہ اور غیر مسلم شہریوں کے بارے میں فقہ اسلامی کے کن قواعد و ضوابط سے بعض حضرات نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر مسلم شہری اسلامی ریاست کے دوسرے درجے کا شہری ہوتا ہے۔ سچ یہ کہ اسلامی ریاست نے غیر مسلم شہریوں کو وہ حقوق اور وہ مقام دیا ہے کہ علامہ شبلی کے بقول یورپ کو اس بے تعصبی اور فیاضی تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی سو برس درکار ہیں۔ علامہ شبلی کی بات بالکل درست ہے۔ ہندوستان اور یورپ کے مسلم شہریوں کو آج کے ترقی یافتہ دور میں صرف اپنے عائلی معاملات میں جس قسم کی مشکلات کا سامنا ہے، وہ مخفی نہیں۔ یقین نہیں آتا، تو انڈیا کے مسلمانوں کی ’مسلم پرسنل لاء بورڈ‘کی تاریخ کھنگال کر دیکھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں

  • 24-04-2016 at 1:37 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر۔
    “نیز ان معبد خانوں کے پنڈت، پادری، پروہت یعنی ان کے مذہبی زعماء ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ ہوں گے ۔خواہ ان کے پاس سونے و جواہرات کے ڈھیر کیوں نہ لگ جائیں”۔ اس موضوع پر اختلافِ راۓ کی گنجائش موجود ھے۔

    ” سچ یہ کہ اسلامی ریاست نے غیر مسلم شہریوں کو وہ حقوق اور وہ مقام دیا ہے کہ علامہ شبلی کے بقول یورپ کو اس بے تعصبی اور فیاضی تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی سو برس درکار ہیں”۔۔۔۔۔۔ آپ کی جانب سے پیش کی گئی تشریح کے مطابق اس امر میں شبہ نہیں کیا جاسکتا۔

    تمام انسان پیدائش کے حساب سے برابر (مساوی حقوق کے مستحق) ھیں کیونکہ سب آدم کی اولاد ھیں “خطبۂ حجۃ الوداع”۔۔۔۔۔۔ یہ تو دنیا نے (نظری طور پر) تسلیم کرلیا ھے: فضیلت اور تکریم کا معیار نسب، دولت، عہدہ یا شہرت وغیرہ نہیں بلکہ “تقوٰی” ھے، اس اصول کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں دنیا کوجانے کتنی صدیاں درکار ھیں؟؟؟

  • 24-04-2016 at 1:41 pm
    Permalink

    میرے خیال میں، محترم مضمون نگار نے آیت جزیہ کی تفسیر میں ”صاغرون ”کی تفسیر نہیں ملاحظہ فرمائی ہے ورنہ موصوف جانتے بھوجتے اس قدر غلط بیانی نہ فرماتے،

  • 24-04-2016 at 2:13 pm
    Permalink

    “صاغرون” (چھوٹے) تو اقلیت والے ویسی بھی ھوتے ھی ھیں۔ بھائی صاحب

  • 24-04-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    ( ویسے بھی)
    البتہ “حقیر” یا “مساوی شہری حقوق” سے محروم نہیں ھونے چاہئیں۔۔۔

  • 24-04-2016 at 3:15 pm
    Permalink

    قرآن و حدیث کے صریح نصوص اور آثار خلفائے راشدین و صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ تمام نکات تو محلِ نظر ہی ہیں۔ ایک طرف اسلامی ریاست کی بات کی جاتی ہے جو کہ قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے طریق پر ہو اور مثالوں میں ان مسلم حکمرانوں کا برتاؤ بھی پیش کر دیا جاتا ہے جسے خود ہمارے علماء و مشائخ مثالی حکومتیں قرار نہیں دیتے۔

    کہا گیا ہے کہ مسلم ریاست میں غیر مسلم ذمی عوام کو VIP حیثیت حاصل ہو گی حالانکہ یہ واضح اسلامی احکامات کے خلاف بات ہے۔ چنانچہ قرآن میں جزیہ کا حکم بیان ہی اس صورت میں ہوا ہے کہ

    “یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔” (التوبہ: 29)

    یہ صریح آیت ہے، اس کے ترجمے پر چونکہ اعتراض کر کے ہمارے مذہبی دوست مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ مشہور ترین تراجم ملاحظہ فرمائیں:

    ٭جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر۔ (مولانا احمد رضا خان بریلوی)
    ٭یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (مولانا مودودی)
    ٭یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا احمد علی لاہوری)
    ٭یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا فتح محمد جالندھری)
    ٭یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلّت کے ساتھ تمہارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ (علامہ جوادی)
    ٭یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ (مولانا محمد جوناگڑھی)
    ٭یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (محمد حسین نجفی)

    لہٰذا دوسرے درجے کا بلکہ ذلت رسوائی کے ساتھ شہری بن کر رکھنا ہی جزیہ لینے کا مقصد ہے۔ تمام بڑے بڑے مترجمین و مفسرین نے ہرگز آیت کو مداہنت کے ساتھ گول مول کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ آج کے دور میں ہی مطلب بدل رہے ہیں۔ امام المفسرین ابن کثیر رح نے اسی آیت کی تفسیر میں بھی لکھا:
    “پس (اللہ) فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔” (تفسیر ابن کثیر مترجم، ج2 ص550، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

    حضرت خالد بن ولید نے بھی اہل فارس کے نام خط میں لکھا: “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”
    (مجمع الزوائد: 310/5، امام ہیثمی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)

    لہٰذا ایک اسلامی ریاست و حکومت کے زیر اثر غیر مسلموں کی ذلت حربی و غیر حربی ہونے سے بھی ہرگز مشروط نہیں بلکہ راہ چلتے غیر مسلموں کو بھی ذلیل کرنا اسلامی احکامات میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کوئی راستے میں مل جائے تو اُسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔” (صحیح مسلم، حدیث 5546 طبع دارالسلام)

    امام ترمذی لکھتے ہیں: “بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے نا پسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو ان کی تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیوںکہ اس میں بھی ان کی تعظیم ہے۔” (سنن ترمذی، تحت حدیث 1602)

  • 24-04-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    ہمارے فقہا اور اسکالر ذمیوں کو ایسا وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیتے جیسا مضمون نگارصاحب گلوریفائی کر رہے ہیں
    وہ جس آیت سے اس کا استدلال نکالتے ہیں بیشتر جید اردو مفسرین یوں ترجمہ کرتے ہیں
    حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ
    جو اہلِ کتاب ہیں یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں (احمد علی)
    ہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں (ابوالاعلی مودودی)
    جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر (احمد رضا خاں بریلوی)
    یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلّت کے ساتھ تمہارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائیں (علامہ جوادی)
    ہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں (حسین نجفی)
    ہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں (طاہر القادری)

    اس بنیاد پہ پہلی بات تو یہ وی آی پی والی بات بالکل بے پر کی ہے

    لیکن ایک اور پہلو ہے جس پر ان مفسرین میں سے کسی نے توجہ نہیں دی نہ ہی ہمارے سکالر اس کو سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سب مغالطے پیدا ہوئے ہیں اور جس کی غلط فہمی کی وجہ سے ساری دنیا میں دہشت گردی اور اسلام کے نام پر تشدد ہورہا ہے وہ ہے اللہ کی اس سنت کو نہ سمجھنا جو وہ رسولوں کے ساتھ خاص کرتا ہے
    اس کائنات کے خالق نے یہ دنیا ایک امتحان گاہ بنائی ہے جس کے بعد وہ ایک عظیم عدالت برپا کرے گا ، اس عدالت میں وہ مجرمین اور مومنین کو الگ کردے گا اور پھر ایک ابدی حیات کا دوسرا دور شروع ہوگا
    یہ دین کا بنیادی مقدمہ ہے پورا قرآن اصل میں اسی مرکزی نقطہ پر گھومتا ہے
    اس بڑی عدالت سے پہلے اس نے یہ عدالت دنیا میں کئی مرتبہ چھوٹے پیمانے پر برپا کی ہے
    اس کے لیے پہلے وہ اس قوم میں ایک رسول بھیجتا ہے نبی اور رسول میں یہی فرق ہوتا ہے نبی کا کام صرف پیغام پہنچانا اور یاد دلانا ہے مگر رسول ایک قدم آگے ایک عدالت لگا دیتا ہے اور اس قوم کا فیصلہ دنیا میں کر کے جاتا ہے ، مجرمین الگ کردئیے جاتے ہیں فرشتوں کے ذریعے فنا کر دیئے جاتے ہیں اور ماننے والوں کو سرفرازی عطا کی جاتی ہے یہی ا س بڑی عدالت میں ساری انسانیت کے ساتھ ہوگا ۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول تھے آ پ کی قوم کے لیے بھی جزا سزا کی عدالت لگائی گئی اس فرق کے ساتھ کہ پہلے رسولوں کی قوم میں غالب اکثریت نے انکار کیا اور چند لوگ ماننے والے تھے تو انھیں بچا کر باقی سب کو آسمانی قوتوں کے ذریعے عذاب دیا گیا یہاں یہ ہواکہ اکثریت ماننے والی نکلی اور چن چن کر نہ ماننے والوں کو عذاب دیا گیا
    سورہ توبہ اصل میں اسی عذاب کی سورہ ہے
    اسی لیے اس پر بسم اللہ نہیں ہے ۔ رسول اللہ کے مخاطبین میں مشرکین بھی تھے اور اہل کتاب بھی ، مشرکین کے لیے قتل کی سزا تھی اور اہل کتاب کے لیے توحید اور کتاب کی کسی نہ کسی وابستگی کی بنا پر قتل نہیں بلکہ محکومی کی سزا تھی
    سب کو باقاعدہ عدالت کی طرح ، اللہ کے رسول کی طرف سے حجت تمام ہونے پر الٹی میٹم دیا گیا اور پھر اس سزا کا باقاعدہ اعلان کیا گیا حج کے موقع پر سارے عرب کو سنا دیا گیا
    اس سورہ میں مشرکین کو تو انکارپر کافر قرار دیا گیا اور انھیں قتل کی سزا دی گئی اور یہ سزا مسلمانوں کے ہاتھوں دی گئی
    قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّـهُ بِأَيْدِيكُمْ (9-14)
    ان سے جنگ کرو (قتل) اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دے گا
    اور اہل کتاب کو قتل کے بدلے محکومی کی سزا دی گئی اور ان پر اس کی علامت کے طور پر ٹیکس لگایا گیا
    یہ سب کچھ یہ ساری سزا اللہ کے رسولوں کے ساتھ خاص تھی ان کے مخاطبین کے لیے تھی
    کینکہ صرف اللہ کے رسول کے ذریعے ہی یہ معلام ہوسکتا تھا کہ کسپہ حجت تمام ہوگئی کون معافی کے قابل ہے کون سزا کا مستحق ہوچکا ہے کیونکہ اللہ کبھی رسولوں کی حجت کے بغیر کبھی کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا عدالت کے بغیر مجرم بھی سزا نہیں پاتے
    وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا (28-59)
    تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان میں رسول نہ بھیج دے
    وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا (17-15)
    ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیں
    رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4-165)
    رسول بشارت دیتے ہوئے اور انذار کرتے ہوئے تاکہ لوگوں پر رسول کے بعد کوئی حجت نہ رہے

    اب نہ کوئی رسول آئے گا
    نہ کوئی ذمی ہے
    نہ کسی سے جزیہ طلب کیا جاسکتا ہے
    نہ کسی کو کافر کہا جاسکتا ہے کیونکہ کفر کا فیصلہ اللہ کرتا ہے
    نہ کسی کو کفر ، ارتداد یا شرک کرنے پر سزا دی جاسکتی ہے کیونکہ یہ سزا صرف اللہ دے سکتا ہے

    ہماری پوری مذہبی فکر ان مغالطوں میں غلطاں ہے قرآن کے خلاف ہے اور سادی دنیا میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنا مقدمہ ہارتی جائے گی یہاں تک کہ لوگ یا تو قرآن کو سمجھیں گے یا پھر وہی بڑی عدالت لگے گی اور خود مسلمانوں کے خلاف چارج شیٹ تیار ہوگی

  • 24-04-2016 at 3:39 pm
    Permalink

    ہمارے فاضل کالم نگار نے یہ بھی کہا کہ امیر معاویہ، حجاج، عبدالملک مروان وغیرہ کچھ مسلمان حکمرانوں نے غیر مسلموں کو اہم عہدے سونپے تھے تو عرض ہے کہ یہ کام کرنے کو تو حضرت ابوموسیٰ اشعری نے بھی کیا تھا کہ ایک غیر مسلم کو اپنا کاتب مقرر کیا لیکن خلیفہ راشد دوم حضرت عمر فاروق نے اس پر شدید ردعمل دیا۔ ملاحظہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا:

    “تجھے کیا ہوا، اللہ تجھے تباہ کرے، کیا تو نے اللہ کا فرمان نہيں سنا: {اے ایمان والو ! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہِ راست نہیں دکھاتا } المائدۃ ( 51 )۔ تو نے ملت حنیفی پر چلنے والے کو حاصل کیوں نہ کیا ( یعنی مسلمان کاتب کیوں نہ رکھا)؟”
    ابو موسی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے تو اس کی کتابت چاہیے اور اس کے لیے اس کا دین ہے، عمر رضي اللہ عنہ فرمانے لگے :
    “جب اللہ تعالی نے ان کی توہین کی اور انہیں ذلیل کیا ہے تو مَیں ان کی عزت و احترام نہيں کرونگا ، اورجب اللہ تعالی نے انہیں دور کیا ہے تو مَیں انہیں قریب نہیں کروں گا۔”
    (مجموع الفتاویٰ: 326/25، السنن الکبریٰ للبیہقی: 204/9، أحكام أهل الذمة لابن القيم: 1/ 454، إرواء الغليل: 256/8، محدث و امام ابن تیمیہ نے اس روایت کو صحیح اور محدث علامہ البانی نے “اسنادہ حسن” قرار دیا ہے۔)

    باقی مزید کیا کیا عرض کیا جائے؟ جب ایک غیرمسلم کی جان تک کو اسلامی ریاست میں کسی مسلمان کی جان کی برابری حاصل نہیں۔ ہمارے فاضل دوست یہ فرماتے ہیں کہ “غیر مسلم شہریوں کی جان اور ان کا مال ایک مسلمان کی طرح مکمل قانوناً محفوظ ہوتا ہے۔”

    یہ بالکل واضح احادیث کے خلاف مئوقف ہے کیونکہ اسلامی احکامات میں ایک مسلمان اور غیر مسلم کی جان بھی ہرگز ایک برابر نہیں اور مسلمان اور غیر مسلم افراد کی جانوں کا فیصلہ بھی برابری کی سطح پر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایک مسلمان اگر کسی غیر مسلم کو قتل بھی کر دے تو اس کے بدلے اس مسلمان کو ہرگز قتل کی سزا نہیں دی جا سکی۔ حدیث میں واضح حکم موجود ہے کہ “کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔” (سنن ابو داؤد، حدیث 4530)

    آخر میں صرف حضرت عمر بن عبدالعزیز جو پانچویں خلیفہ راشد کہلاتے ہیں کا ایک خط ان کے عامل کے نام پیش کرنا چاہوں گا، جس سے ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی مجموعی صورتحال پر خوب روشنی پڑتی ہے:

    “اما بعد، جو صلیبیں اعلانیہ نصب ہیں انکو توڑ دیا جائے۔ اور یہودیوں اور عیسائیوں کو اجازت نہیں کہ وہ سواری کے لیے زین کا استعمال کر سکیں بلکہ انہیں سامان ڈھونے والی کاٹھی رکھ کر ہی سواری کرنا ہو گی اور انکی خواتین بھی زین پر بیٹھ کر سواری نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں بھی سامان ڈھونے والی کاٹھی ہی استعمال کرنی ہے۔ اس کا باقاعدہ فرمان جاری کرو اور عوام کو اس کی نافرمانی نہ کرنے دو اور فرمان جاری کرو کہ کوئی عیسائی قبا نہیں پہن سکتا اور نہ ہی نفیس کپڑا پہن سکتا ہے اور نہ ہی عمامہ پہن سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہاری عملداری میں بہت سے عیسائی عمامہ پہننے کی رسم میں دوبارہ مبتلا ہو گئے ہیں اور وہ کمر کے گرد پیٹی (زنار) بھی نہیں باندھ رہے ہیں اور اپنے آگے کے سر کو گنجا بھی نہیں کر رہے ہیں۔ اگر تمہاری موجودگی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو اسکی وجہ تمہاری کمزوری ہے، تمہاری نااہلی ہے اور تہمارا خوشامدیں سننا ہے، اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیسے اپنے پرانے رسوم کو جاری کریں۔ تم کس قسم کے انسان ہو؟ ان تمام چیزوں کا خیال رکھو جن کی میں نے ممانعت کی ہے اور ان لوگوں کو ایسا کرنے سے بالکل روک دو۔ والسلام”
    (کتاب الخراج لأبي يوسف، صفحہ 145)

  • 24-04-2016 at 4:10 pm
    Permalink

    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے –
    اپنا پوئنٹ اف ویو ثابت کرنے کے لیے جناب نے تو غیر مسلم کی مراعات کو اتنا خوبصورت بنا کر پیش کیا ہے کہ اس اسلامی ریاست میں لوگ دھڑا دھڑ غیر مسلم ہوں گے – اور پھر اپ کا قانون ارتداد صبح شام لوگوں کی گردنیں اتارنے میں مصروف عمل رہے گا –
    بس اپنی اپنی چیک پوسٹ پے جمے رہیں اور تیر اندازی جاری رکھیں – مکالمہ کچھ سیکھنے اور کچھ سکھانے کا عمل ہی کسی مہاشرے کو ایک مہذب اور tolerant society بنا سکتا ہے –

  • 24-04-2016 at 7:40 pm
    Permalink

    فاضل مصنف نے فرمایا ہے: (کیا آج کی جدید دنیا اس فیاضی کی مثال لا سکتی ہے کہ یورپی ممالک میں جو چیز قانوناً منع ہے، اور وہ چیز اسلام میں جائز ہو، تو یورپی ممالک اس کی اجازت مسلم شہریوں کو دے؟ لبرلز سے ایک سوال؟)

    یہ بات بالکل درست ہے۔ میں جہاں ہوں وہاں مجھے کم ازکم دو باتوں کی بالکل اجازت نہیں جو رائج اسلام کے لحاظ سے میرے لئے جائز ہیں: میں غلام یا باندی نہیں خرید سکتا اور نہ شام میں جہاد میں حاصل کرکے انھیں یہاں لاسکتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ بیوی کی پٹائی نہیں کرسکتا کیونکہ اگر پکڑا گیا تو بری سزا ملے گی، یہاں تک کہ مسواک یعنی ٹوتھ برش سے بھی نہیں مارسکتا حالانکہ ابھی کچھ روز ہوئے سعودیہ میں اسکی اجازت کا فتویٰ بھی جارے ہوچکا ہے۔

  • 25-04-2016 at 2:05 am
    Permalink

    محترم سعدی جان صاحب !
    مغالطہ دور کرنے والے کو پہلے خود تو مغالطے سے پاک ہونا چاہئے۔ اپنے مغالطے کو دور کرنے کی آپ کو فکر ہو تو کبھی امام ابن قیم کی کتاب ”احکام اھل الذمة“ ملاحظہ فرما لیجئے گا۔

  • 25-04-2016 at 2:27 am
    Permalink

    لگے ہاتھوں ذرا اس عظیم الظرف ریاست کا نام بھی بتاتے جائیں ۔ اگر طول البلد اور عرض البلد بھی پتہ لگ جائے تو ڈھونڈنے میں آسانی ہو گی

  • 25-04-2016 at 4:21 am
    Permalink


    ناچیز کی راۓ میں : ریفرنس شدہ جزوِ آیہ 29 سورۂ توبہ
    حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ کا قریب ترین ترجمہ محترم مودودی اور محترم طاھر القادری نے پیش کیا ھے۔
    یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (مولانا مودودی)
    یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں (طاہر القادری)
    مندرجہ بالا دونوں تراجم آیۂ مذکورکا درست مفہوم پیش کرتے ھیں۔
    ۔۔۔۔ یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (محمد حسین نجفی)۔
    محترم نجفی نے قوسین دے کر واضح کردیا کہ ” ذلیل ھو کر” والے الفاظ متن کا حصہ نہیں۔ تاھم محترم نجفی اور دیگر عزت مآب مترجمین نے صاغرون سے یہ مفہوم کیسے اخذ کیا ھے جبکہ صاغرون کا لفظی ترجمہ آسانی سے سمجھ میں آنے والا ھے۔ صغیر و کبیر، اکبر اصغر، برادرِ اصغر، صغر سنی وغیرہ اردو میں بھی مستعمل ھیں۔ خود قرآنِ حکیم میں ” کما ربیانی صغیرا” (سورہ الاسراء 24) میں ” جیسا کہ میری پرورش کی جب میں چھوٹا تھا” کا مفہوم بڑا واضح ھے۔
    مکمل آیۂ کریمہ دیکھۓ: سورۂ توبہ 29: قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ۔۔۔۔۔ اس میں ذلت یا ذلیل ھو کر والے الفاظ کہیں موجود نہیں ھیں۔ “یہاں یہ نکتہ قابلِ توجہ ھے کہ یہ آیت “حکمِ الٰہی ” بیان فرما رھی ھے ”
    گمان یہ ھے کہ فاضل مترجمین نے ‘صاغرون” کے مفہوم میں “ذلت یا ذلیل ھو کر” کا اضافہ مندرجہ ذیل آیات سے اخذ کیا ھو؛
    سورہ النمل آیہ 34: قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۔۔۔۔۔ “اذلۃ ” بالمقابل آیا ھے اعزہ کے۔۔۔۔ یہاں اہلِ دربارکیساتھ ملکہ سبا کی گفتگو بیان کی گئی ھے
    سورہ النمل آیہ 37: ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ۔۔۔۔۔۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایلچی سے گفتگو بیان کی گئی ھے ۔ اس آیت میں “اذلۃ” کا تعلق ‘ولنخرجنھم’ کے ساتھ ھے صاغرون کے ساتھ نہیں۔ اور ھم انہیں وھاں سے ذلت کے حال میں نکالیں گے(جو اعزہ تھے وہ اذلۃ ھو جائیں گے ‘آیت 34) اور(اس کے بعد) وہ صاغرون ھوں گے (یعنی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد وہ جو ابھی بڑے بڑے بن کر رہ رھے ھیں چھوٹے بن کر رہنے پر مجبور ھو جائیں گے)۔۔۔ دیکھۓ یہاں ذلت کا واضح طور پرالگ سے ذکر ھے – اگر صاغرون میں ذلت کا مفہوم پہلے ہی سے موھود ھوتا تو اذلۃ کے لفظ کا اضافہ نہ ھوتا۔۔۔۔
    نوٹ کیجۓ کہ یہاں بات دو مملکتوں کے درمیان جنگ کی ھو رہی ھے، یہاں ملکہ سبا نے اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی اپنی گفتگو میں ازلۃ کا لفظ استعمال کیا ھے۔۔ مطیع ھونے اور اقلیت بن جانے، چھوٹا ھو جانے کے مفہوم کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام نے لفظ صاغرون کو استعمال کیا ھے ( یا یوں کہیئے قرآن نے ان کے الفاظ کا مقصود واضح کرنے کےلئے یہ لفظ چنا ھے)۔۔۔۔ تاھم سورۂ توبہ 29 میں بات حکمِ خداوندی کی ھے یا یوں کہیئے کہ اللہ کا خطاب ھے اپنے آخری نبی ﷺ سے۔۔۔ یہاں پسِ منظر ھے باھمی معاھدوں کوتوڑنے اور مسلم حکومت کے خلاف سازشی ریشہ دوانیوں کا۔ ریاست کے ساتھ کۓ گئے معاھدے (آئین و دستور) توڑنا اور حکومت کے خلاف سازشوں کو کوئی حکومت گوارا نہیں کرسکتی ، یہ بغاوت کے مترادف ھے ۔ پسِ منظر اسی سورہ (توبہ) کی آیت نمبر 4 سے واضح ھے جس میں کہا گیا ھے کہ اُن مشرکین کو استثناء حاصل ھے جنہوں نے معاھدہ شکنی نہیں کی بلکہ انہیں پورا کرنے میں کوئی کمی نہیں کی اور نہ ھی حکومت کے خلاف کسی کی مدد کی سو حکومت بھی معاھدے کی میعاد پورا ھونے تک اپنا عھد قائم رکھے، بے شک اللہ تقوٰی شعاروں کو پسند کرتا ھے۔
    یہاں دیکھئے انہیں تو صاغرون ھونے سے بھی استثناء دکھائی دیتا ھے۔
    سورۂ توبہ کا تفصیلی مطالعہ بصیرت افروز حقائق سامنے لاتا ھے:
    مشرکین کی جانب سے معاھدہ شکنی کے بعد حکومت کی جانب سے معاھدے ختم کرنے کا فیصلہ ھونے (آیت 1) کے بعد “چار مہینے فسیحوا (سیاحت/ چلنے پھرنے) کی بات کی گئی ھے اور آگاہ کیا گیا ھے کہ کوئی بھی اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا جبکہ اللہ ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کی روش اختیار کر رکھی ھے رسوائی سے ھمکنار کرنے والا ھے(آیت 2)۔۔۔۔ حج اکبر کے دن کھلا اعلان کردیا گیا کہ اللہ اور اس کا رسول بری الذمہ ھے تاھم معاھدہ شکنوں
    کو پھر بھی گنجائش دی گئی کہ اگر وہ اپنی روش سے تائب ھوجائیں تو ان کے لئے خیر ھی خیر ھے، اگر اس سہولت کے باوجود وہ گریز پا رھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کفر کی روش کا لازمی نتیجہ الم ناک عذاب ھے (3)
    آیت 4 میں معاھدے کے پابند پر امن شہریوں (مشرکین) کو یقین دلایا گیا ھے کہ وہ محفوظ ھیں اور اہل اسلام کو واضح کیا گیا کہ اللہ تقوٰی کی راہ اختیار کرنے والوں سے محبت رکھتا ھے۔
    آیت 5: معاھدہ شکنوں کی سختی کے ساتھ سرکوبی کا ذکر ھے، (عہد شکن ) مشرکین کے ساتھ قتال/ جنگ کرو، یہ جہاں بھی ملیں انہیں پکڑو اور گھیرو اور ھر گھات میں ان کی خبر لینے کے لئے بیٹھو۔ پھراگر وہ تائب ھوجائیں اور اقامتِ صلوٰۃ کریں،اور ایتاۓ زکوٰۃ کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو، یقیناً اللہ مغفرت کرنے والا اور رحم فرمانے والا ھے۔
    آیت 6: ان (عھد شکن )مشرکوں میں سے کوئی ایک بھی پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاھے تو اسے پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے ، پھر اسے اس کے ‘مامن’ تک پہنچا دو، کیونکہ یہ قومِ لا یعلمون ھیں
    (انہیں اس بات کا علم نہیں کہ معاھدوں کی پابندی کس قدر لازمی شے ھے اور یہ انسانی کردار کی عظمت کا تقاضا ھے: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔۔۔۔۔۔۔وأوفوا بعهد الله إذا عاهدتم ولا تنقضوا الأيمان بعد توكيدها۔۔۔۔۔۔۔۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ۔۔۔۔۔۔۔۔وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ۔۔۔۔۔۔۔۔لَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَلاَ يِنقُضُونَ الْمِيثَاقَ }الرعد20۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آیت 7: ،،،،،،،،،،،،، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رھو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ھے
    آیت 8 اور 9 میں بتایا گیا کہ یہ عھد شکن کس طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آیت 10 میں بتایا کہ کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ (٭٭٭) کرتے ہیں اور نہ کسی عھد کی ‘ذمہ داری ‘کا (ذمّہ کا لفظ عھد شکنوں کے حوالے سے آیا ھے٭٭٭) اور یہی وہ لوگ ھیں جن کی طرف سے زیادتی کی جاتی ھے۔
    آیت 11: پس اگر یہ تائب ھو جائیں اور اقامتِ صلوٰۃ کریں،اور ایتاۓ زکوٰۃ کریں تو پھر دین (٭٭٭) میں یہ تمہارے بھائی ھیں، ھم ‘فَصِّل’ (٭٭) کردیتے ھیں آیات کوعلم والوں کے لئے۔۔۔۔
    اس سارے عمل کے بعد اگر ان کی روش یہی ھو کہ کہ وہ پھر اپنی قسموں (عھد) کو توڑ دیں اور تمہارے دین (٭٭) میں ‘طَعَن’ (٭٭) کریں تو کافرانہ روش کے اماموں (کفر کے علمبرداروں) سے قتال کروان کے نزدیک عھد و قسم کی کوئی اہمیت نہیں ھے، شاید اس طرح ھی یہ باز آجائیں۔۔۔ آیت 12
    آیت 13 اور 14 میں عھد شکن عناصر کی سرکوبی کیلئے سرگرم کردار ادا کرنے کی ھدایت کی گئی ھے۔
    آیت 15 میں بتایا گیا ھے کہ ایسی کاروائی کا قانون پسند اور پُر امن شہریوں پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور اس کاروائی کے خوف سے یا اثر سے جو تائب ھونا چاھے گا اسے موقع مل جاۓ گا، جان لو کہ اللہ کا علم حکمت پر مبنی ھوتا ھے۔
    دوستوں سے گذارش ھے کہ نوٹ فرمائیں: توبہ کی، پناہ دینے، راستہ چھوڑ دینے، دین میں بھائی ھونے، غرض کیا کیا opportunities دی جارہی ھیں۔۔۔۔ کہتے ھیں اتنی سخت سورۂ مبارکہ ھے کہ ﷽ سے آغاز نہیں ھو رہی۔۔۔۔ لیکن ذرا دیکھیں تو سہی اللہ عھد شکن مشرکوں پر بھی کتنی مہربانی فرماتا جا رھا ھے!!!!!!
    لہٰذا احقر کی راۓ یہ ھے کہ اللہ کی جانب سے فرمودہ ‘صاغرون’ میں ‘ذلت/ ذلیل ھو کر’ والا point نہیں ھے۔
    مزید یہ کہ آیہ زیر بحث (توبہ 29) کے مکمل متن بالخصوص “ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ” اور “ولا یدینون دین الحق” پر عمیق تدبر فرمائیں تو جزیہ کی objectivity اور صاغرون کا concept روزِ روشن کی طرح واضح ھو سکتا ھے۔
    شکریہ

  • 25-04-2016 at 4:40 am
    Permalink

    Citizenship in Islam is based on someone permanently living within the lands of the Khilafah regardless of their ethnicity or creed. It is not a requirement for someone to become Muslim and adopt the values of Islam in order to become a citizen of the state. Muslims living outside the Islamic State do not enjoy the rights of citizenship, whereas a non-Muslim living permanently within the Islamic State (dar ul-Islam) does.
    http://www.khilafah.com/dhimmi-non-muslims-living-in-the-khilafah-2/

  • 25-04-2016 at 6:54 am
    Permalink

    کم علم فساد کا موجب بنتا ہے. سیکولر حضرات اس جنجال میں پھنسے ہیں

Comments are closed.