اوباما سعودی عرب میں


mujahid ali

امریکی صدر اس وقت سعودی عرب کے دو روزہ دورہ پر ریاض پہنچے ہوئے ہیں۔ کل انہوں نے شاہ سلمان سے تفصیلی ملاقات کی ۔ وہ آج خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔ بطور صدر باراک اوباما کا یہ سعودی عرب کا آخری دورہ ہے تاہم یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی خلیج حائل ہے۔

اس کا مظاہرہ کل شام صدر باراک اوباما کے ریاض پہنچنے کے پر بھی دیکھنے میں آیا۔ خبروں کے مطابق اس بار سعودی عرب کی طرف سے روائیتی گرم جوشی اور غیر معمولی خیر سگالی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ شاہی خاندان کے کے بھی محدود لوگ استقبال کے لئے آئے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں صرف پروٹوکول کی ضرورتوں کو پورا کیا گیا۔ بعد میں امریکی صدر اور سعودی شاہ کی تفصیلی ملاقات ہوئی اور اعلان کے مطابق دونوں نے ایران اور داعش کے خلاف مشترکہ پالیسی جاری رکھیں گے۔ تاہم یہ باتیں صرف دکھاوے کی حد تک ہیں اور دونوں ملکوں کی طرف سے ستر برس پر محیط تعلقات کو بچانے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ کیوں کہ عملی طور پر دونوں ملک خاص طور سے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے متضاد پالیسی پر عمل کررہے ہیں۔

سعودی عرب ، ایران کو تنہا کرکے بالکل بے بس اور بے اثر کرنا چاہتا ۔ جبکہ امریکہ کی سرکردگی میں چھ عالمی طاقتور ملکوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرتے ہوئے اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کردی ہیں۔ اس کے بعد عالمی منڈیوں میں ایران کی آؤ بھگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ منجمد وسائل واگزار ہونے اور تیل کی آمدنی میں اضافہ کے بعد ترقی یافتہ ممالک اور ملٹی نیشنلز ایران کی منڈیوں کو اہم سمجھ رہے ہیں۔ ایران اپنا پرانا اسلحہ تبدیل کرے گا اور اس طرح مغربی ممالک کو ایک نیا اور اہم گاہک میسر آچکا ہے۔ اس دوران سعودی عرب نے شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے بعد ایران کے جارحانہ احتجاج کو بہانہ بنا کر جنوری میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان سمیت کوئی ملک ان تعلقات کو بحال کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ ایران نے بھی بالواسطہ سعودی عرب کو سزا دینے کا قصد کیا ہے۔ اس نے حال ہی میں قطر میں ہونے والے اوپیک کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے سے انکار کردیا۔ سعودی عرب نے اشارہ دیا تھا کہ اگر ایران اس فیصلہ میں میں شامل ہو تو وہ بھی تیل کی پیداوار منجمد کردے گا۔ ایران جانتا ہے کہ اس کے مقابلے میں سعودی عرب ذیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

لیکن امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 9/11 کے سانحہ کے حوالے سے بھی شدید اختلافات ہیں۔ امریکہ میں یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ سعودی عرب اور شاہی خاندان ان حملوں کی معاونت میں ملوث تھا۔ اسی لئے امریکی کانگرس میں بیرونی ممالک کو مقدمات سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا قانون منظور کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاکہ امریکی عدالتوں میں بیرونی ملکوں کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی جوابدہی ہو سکے۔ صدر باراک اوباما نے شاہ سلمان کو یقین دلایا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو وہ اسے صدارتی اختیار کے تحت ویٹو کردیں گے۔ لیکن دونوں ملک جانتے ہیں کہ یہ انتظام عارضی ثابت ہو گا۔ ملک میں صدارتی دوڑ میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کے دونوں امید وارایسے قانون کی حمایت کررہے ہیں۔

اس وقت امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات سنگین بحران کا شکار ہیں۔ موجودہ دورہ ان بگڑتے ہوئے تعلقات کو بہتر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔اگرچہ امریکی صدر اور سعودی حکام پبلک میں اتفاق رائے کا اعلان کریں گے۔ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب میں جمہوری تبدیلیوں اور انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اپنے رجعت پسندانہ نظام کو اسلام کی آڑ میں محفوظ رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ صورت حال آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گی۔ فی الوقت مشرق وسطیٰ میں دونوں ملکوں کو بہتر پارٹنر میسر نہیں ہے ۔ اس لئے الزامات کے ساتھ ان تعلقات کو قائم رکھنے کی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔ صدر باراک اوباما کا دورہ انہی کوششوں کا حصہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali