!سردیوں کے انتظارمیں


مجھے نہیں لگتا کہ میں آج دوستوں کی مدد کے بغیر کالم لکھ سکوں گا کیونکہ میرا دھیان بہت سے دوسرے معاملات کی طرف ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ اس وقت میرے پاس ارشد، جمشید، جہانگیر اور پرویز پہلے سے موجود ہیں اوردنیا جہان کی گپیں ہانک رہے ہیں۔ لیکن کالم لکھنے سے پہلے موضوع بھی تو طے ہونا چاہئے۔ حالانکہ میرے سمیت میرے کئی کالم نگار دوست موضوع کالم لکھنے کے بعد سوچتے ہیں، کچھ خوش قسمت تو ایسے ہیں جنہیں لکھا لکھایا کالم مل جاتا ہے۔ بہرحال اب دوستوں سے موضوع کے حوالے سے مشورہ کرتے ہیں۔

جمشید:مردوں پر ہراساں کرنے کے الزام بہت لگتے ہیں اور وہ پولیس کو رپورٹ لکھوانے چلی جاتی ہیں، آج آپ اس موضوع پر کالم لکھیں کہ جمشید جیسے خوبرو شخص کو روزانہ خواتین کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے، ایسے خوبرو، شریف النفس اور عزت دار شخص کہاں جائیں!

جہانگیر:ویسے موضوع تو بہت اچھا ہے مگر اس میں خوبرو، شریف النفس اور عزت دار شخص کے الفاظ کس کے لئے استعمال کئے گئے ہیں؟
ارشد:یار جہانگیر تمہاری عقل کو کیا ہوگیا ہے، جمشید تمہارے سامنے بیٹھا ہے تمہیں نظر نہیں آرہا؟
جہانگیر:نظر آرہا ہے، تبھی تو پوچھ رہا ہوں کہ یہ الفاظ کس کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔
میں: یار تم لوگ میرا وقت ضائع کررہے ہو، گھڑی دیکھو، کالم بھجوانے کا وقت ہورہا ہے۔ اگر آپ لوگوں نے اس طرح کی خرافات بکنی ہے تو میں بغیر موضوع کے ہی کالم لکھ سکتا ہوں۔

پرویز:تمہاری اس صلاحیت کے تو ہم بھی قائل ہیں۔ چلو تم اب ان کی باتوں پر دھیان نہ دو۔ میری مانو تو کوئی سیاسی کالم لکھو؟
میں:سیاسی کالم؟ جس طرح کے آج کل چھپ رہے ہیں؟
پرویز:نہیں، تم سیاست دانوں کے حق میں لکھو اور لوگوں کو بتائو پارلیمنٹ میں جتنے کرپٹ سیاستدان موجود ہیں اس سے کہیں زیادہ کرپشن کی شرح ہر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے علاوہ بعض ان لکھنے والوں میں بھی موجود ہیں جو کرپشن کے نام پر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔
میں:بکواس نہ کرو۔ میرے خیال میں اس سے کہیں زیادہ اچھا موضوع ون ویلنگ کرنے والے نوجوان ہیں، جو رش والی سڑکوں پر اپنے اس فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اپنے جیسے لوگوں سے اپنے فن کی داد بھی وصول کرتے ہیں اور اس دوران بے گناہوں کو کچل کر آگے بھی نکل جاتے ہیں۔ اگر کبھی اتفاق سے اس ایڈونچر کے دوران خود مارے جائیں تو نہ صرف یہ کہ لوگوں کی ہمدردیاں اس جانباز کے ساتھ ہو جاتی ہیں بلکہ اکثر عموماً مقدمہ بھی اس کے خلاف بنتا ہے جس کی کار یا موٹر سائیکل کے ساتھ ٹکرا کر اس کی ’’شہادت‘‘ ہوئی ہوتی ہے!

پرویز:شرم کرو عطا، ایک عمر ہوگئی ہے تمہیں کالم لکھتے ہوئے، لوگ تمہیں سینئر کالم نگار اور اس کے علاوہ جانے کیا کیا لکھتے ہیں اور تم اس تھرڈ کلاس موضوع پر کالم لکھو گے؟
جمشید:پرویز صحیح کہتا ہے، مردوں کو ہراساں کرنے والا موضوع زیادہ مناسب ہے، اس میں تم لوگوں کو بوجہ حسد میری خوبصورتی، شریف النفس اور عزت دار ہونے پر اعتراض ہے، تم اس میں سے عزت دار نکال دو، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جس شخص کے دوست تم جیسے ہوں، وہ عزت دار ہو بھی کیسے سکتاہے؟

جہانگیر:اور اگر اس میں سے شریف النفس کا لفظ بھی نکال دیں؟
جمشید:اگر تم لوگ کمینگی پر اتر ہی آئے ہو، تو نکال دو، آج کل ویسے بھی کسے عزت دار رہنے دیا گیا ہے۔
جہانگیر:خوبرو کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جمشید:عطا یار تم اس لعنتی شخص کی باتوں پر توجہ نہ دو، تم وہی کرو جو کرنا چاہتے ہو!

میں:بہت شکریہ جمشید، جہانگیر، پرویز اور ارشد تم سب کا۔ مجھے جمشید کی بات سب سے زیادہ پسند آئی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ تم وہی کرو جو تم کرنا چاہتے ہو اور میں یہ کرنے لگا ہوں کہ آج کالم نہیں لکھ رہا!
ارشد:کیا تم ہمیشہ کے لئے اپنے قارئین کی جان چھوڑ دو گے؟
میں:نہیں۔ آج کل گرمیوں کا موسم ہے، گرمی میں لکھے گئے کالم میں گرمی آجاتی ہے۔ میں سردیوں میں سرد کالم لکھوں گا۔ اب تم سب سردیوں کا انتظار کرو!

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں