ہجر منانے کے چیمپئن لوگ


ہم لوگ ہجر منانے کے چیمپئن ہیں۔ ہم انتظار کو سیلیبریٹ کرتے ہیں۔ ہمیں وصل سے زیادہ جدائی پسند ہے ، اور ان دونوں سے بھی زیادہ محبت کا انجام ہمیں موت کی صورت میں اچھا لگتا ہے ۔ کیا ایسا ہی نہیں ہے ؟ پرانی داستانوں پہ ایک نظر ڈال لیں۔ رانجھا بے چارہ کتنے سال تک بھینسیں چراتا رہا؟ سوہنی غریبنی کیسے کچے گھڑے پہ چڑھ کے مہینوال سے ملنے جاتی تھی؟ سسی پنوں کو ہم نے کبھی ملنے نہیں دیا، کہانی کی ہائیٹ یہ تھی کہ زمین دو بار پھٹی اور ایک دن سسی پھر اگلے دن بے چارہ پنوں اس میں دفن ہوا تاکہ کم از کم ملاقات ہو جائے ۔

صاحباں نے بھی لمبے انتظار کاٹنے کے بعد وہی کیا جو عدالت میں لو میرج کے بعد ہوتا ہے۔ گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے بیٹیاں انکار کر دیتی ہیں، حبس بے جا کا مقدمہ الگ بنتا ہے اور جوان کورٹ کچہری نمٹاتا رہ جاتا ہے۔ اس نے مرزے کے تیر چھپا دئیے ، خالی ہاتھ مرزا بے چارہ مر گیا، پھر خود بھی تلوار سے خود کشی کر لی۔ لیلیٰ مجنوں کے بھی دو انجام مشہور ہیں، ایک میں قیس کو سنگسار کر دیتے ہیں، دوسرے میں لیلیٰ کی شادی کسی کزن سے ہو جاتی ہے اور مجنوں پاگل ہو جاتا ہے۔

یوسف خان شیر بانو کی شادی ہوئی تو یوسف خان کو شکار پہ قصہ گو نے مروا دیا، اس کے غم میں شیر بانو بھی چلی گئیں۔ فرہاد بھی پہاڑ کاٹتا رہا اور شیریں کو پانے کا موقع آیا تو اسے بھی غریب کو جعلی خبر بھجوا دی کہ شیریں تو فوت ہو گئی، فرہاد نے وہی تیشہ اپنے سر میں مار لیا، شیریں کو جب سارا سین پتہ لگا تو اس نے چپکے سے خود کشی کر لی۔

ان سارے قصے کہانیوں میں کیا یہ نظر نہیں آتا کہ یا دونوں بندے مسلسل انتظار کر رہے ہیں اور یا پھر وہ مر جاتے ہیں؟ غلطی سے اگر ملاقات والا کوئی منظر آ بھی گیا تو کتنا ہو گا؟ کیا ہم مشرق والے جسے چاہتے ہیں اسے پانے کی آرزو نہیں رکھتے یا صدیوں سے اذیت پسند ہو چکے ہیں یا پیار محبت وغیرہ کرنا ہمارے یہاں ممکن ہی نہیں ہے ؟ یا ہم پہلے ایسے لوگوں کو مارتے ہیں پھر بعد میں ان کے مزاروں پہ چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں، از قسم ہیر اور رانجھے کے مزار، یا ہم کسی کو سکھ میں دیکھ ہی نہیں سکتے۔

ادب کو اٹھا کے دیکھ لیجیے۔ حرام ہے کہ اسی فیصد افسانوں یا ناولوں میں ہیرو ہیروئین کی شادی ہو سکے، یہ لمبے چوڑے موڑ آئیں گے، گھما پھرا کے ایک دن پتہ لگے گا کہ چچا زاد یا خالہ زاد کے پلو میں بندھی ہیروئین جا رہی ہے اور ہیرو آنسو بہا رہا ہے۔ ہیرو مجبور ہے، اس کے ہاتھ زمانہ باندھ چکا ہے، وہ بے روزگار ہے یا اس کی بہت کمپلیکیٹڈ قسم کی زندگی ہے، یا وہ لاابالی ہے ، یا ماں باپ نے قسمیں دے دی ہیں، یا وہ پڑھنے کے لیے باہر چلا گیا ہے‘ عین ممکن ہے پہلے سے شادی شدہ ہو، مطلب کچھ بھی ہو جائے جرأت مند ہیرو جو آنسو بہانے کی بجائے کوئی ڈھنگ سے کام کر جائے وہ ہمارے یہاں ناپید ہے۔

وہ زہر کھانا پسند کرے گا، وہ نشہ آور چیزوں کا استعمال بڑھا دے گا، قوی امید ہے شادی کے بعد ہیروئین دو بچے لیے مزار پہ ان کی صحت کے لیے دعا مانگنے جائے اور ہیرو کو ملنگ بنا دیکھ کے چیخ مارتی ہوئی بے ہوش جائے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہیرو کبھی تھوڑی سی ہمت کر لے۔ سسکتا رہے گا، تڑپتا رہے گا، مرتا رہے گا پھر بھی زندہ رہے گا۔ بھائی ایک دفعہ مر جاؤ یار، یا تو جو چاہتے ہو کر گزرو یا پھر بعد میں یہ موٹے موٹے آنسو مت بہاؤ۔

شاعری میں تو جیسے دودھ کے اوپر ملائی ہوتی ہے (اور یہ ملائی ہی ہوتی ہے، بالائی وغیرہ بھی وہی نفاستیں ہیں جو ہمارے ہیرو پالتے ہیں) اس طرح سارے اچھے شعر درد بھرے پائے جاتے ہیں۔ ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پہ رونق/ وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ نے عورت ذات اتنی اجنبی کر دی کہ پوری شاعری میں وہ اپنی عورتوں والی جون میں نظر ہی نہیں آتی۔ ”سمجھتے ہیں‘‘ کیا مطلب ہے یار، بھئی ایسا ہی پرہیز ہے تو بات کرنی کیوں لازم ہے؟

احترام کا تقاضا ہے تو آپ مضمون کوئی اور باندھ لیں جس میں واقعی کوئی مرد سامنے ہو اور آپ باآسانی ”سمجھتے ہیں‘‘ کا صیغہ استعمال کر سکیں۔ دیکھیے بات یہ نہیں کہ ادھر شاعر ”سمجھتی ہیں‘‘ استعمال کر لیتا تو اپنی بحث ختم ہو جاتی، ظاہر ہے شعر کے کرافٹ پہ شک کرنا کفر ہے، بات تو یہ ہے کہ یا تو ایسے قصے مت اٹھاؤ یا پھر انصاف کرو۔

یہ اثر ہماری پنجابی تک میں آیا ہے ، کسی گاؤں دیہات میں رہنے والے دوست سے اس کی گرل فرینڈ کے بارے میں پوچھ کے دیکھیے ، ”یار بھابھی دا کی حال اے‘‘ جواب ملے گا، ”اوہ ٹھیک نیں‘‘ اب یہ ایسا جواب ہے جو اپنے ابا جی کے بارے میں بھی اگر کوئی دے گا تو بالکل انہی لفظوں میں دے گا، ”اوہ ٹھیک نیں‘‘ یا ”شکر اے جی، او ٹھیک نیں، اجے پڑھ رئے نیں (شکر ہے جی، وہ ٹھیک ہیں، ابھی پڑھائی چل رہی ہے )‘‘۔

دوسری بات یہ کہ بھائی یہ جو آپ ہر دوسرے شعر میں خون تھوک رہے ہیں، بیمار پڑے دکھائی دیتے ہیں، اتنے لاغر ہیں کہ ہلا نہیں جاتا، ٹی بی ہو گئی ہے، مرنے والے ہیں، تو اب اٹھ کے کچھ کر کیوں نہیں لیتے؟ مرتے مرتے مر جانا ہے کام کوئی نہیں کرنا۔ لیٹے لیٹے شعر کہیں گے، جدائی کے نغمے گائیں گے، ہجر کی درد بھری آہیں نکالیں گے، شیو بڑھائی ہو گی، ساری زندگی اسی غم میں نکال دیں گے لیکن وقت پہ ہمت نہیں کریں گے۔

محبت پانے کا جتن کرنا سرشت میں ہی نہیں ہے۔ تجھ سے ملنا خوشی کی بات سہی / تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں۔ ایک اور شعر، یار یہ اداسی نہیں ہے یہ نحوست ہے جو چوبیس گھنٹے آپ پہ طاری رہتی ہے۔ بھئی آپ مل لیے، کم از کم دو گھڑی خوش ہو جائیں، نہیں، ملنے کے دوران بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ یار میٹنگ تو اب ختم ہونے والی ہے، لمبی جدائی سامنے نظر آ رہی ہو گی اور ہول اٹھ رہے ہوں گے۔ جیسے ہی گھر جائیں گے پھر اپنا کام چالو ہو جائے گا۔ خوشی ہمارے شاعر کی بلکہ ہماری موت ہے۔ ہم خوشی میں پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب تو بس کسی کی نظر لگی کہ لگی، اور پھر لگ بھی جاتی ہے۔ امیتابھ بچن اور ان کی بیگم کو ریکھا کی نظر آج تک کیوں نہیں لگی؟

میرے خیال میں ہم لوگ صدیوں سے شدید کاہلی اور سستی کا شکار ہیں۔ ہمیں چیزیں تبدیل کرنا پسند نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کمفرٹ زون بھی ہمارے پاس رہے اور کام بھی ہو جائے۔ ساری دنیا بھی راضی ہو اور ہجر بھی نہ ہو۔ حالات بھی نہ بگڑیں اور مقصد بھی حاصل ہو جائے۔ ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے ۔ وصل کو تو ایک طرف رکھیں گھر بیٹھ کے تو بندہ نوکری تک نہیں کر سکتا۔

کچھ بھی پانے کے لیے کھونا ضروری نہیں ”ہلنا‘‘ ضروری ہے۔ ہلیں گے تو اٹھیں گے ، ارادہ باندھیں گے ، کوئی ترکیب لڑائیں گے ، اگر ہلنا تک نہیں ہے تو پھر چاکلیٹ ہیرو بن کے رونا بالکل بے کار بات ہے۔ ٹوٹیں زمانے تیرے ہاتھ نگوڑے، کتنے دلوں کے تو نے شیشے توڑے… لاحول ولا… ایک زمانے میں وہ گانا اپنا بھی فیورٹ تھا جس میں یہ بول آتے ہیں۔

پھر بہت بعد میں جا کے ایک دن خیال آیا کہ اس گانے کے شاعر میں اور ان سادہ دل ہندوستانیوں میں کیا فرق تھا جو دعا مانگتے تھے کہ ”یا اللہ فرنگیوں کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں‘‘۔ تو بس اس دن سمجھ میں آ گیا کہ یہ سب میرا ذاتی قصور نہیں ہے، شاید یہ سب کچھ میرے ڈی این اے میں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 464 posts and counting.See all posts by husnain