احتساب۔۔۔ سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے


farnood

 آگہی بھی دراصل ایک ’’آگ ہی‘‘ تو ہے۔ یعنی ایک ذہنی خلجان کے سوا کیا ہے؟ ویسے تو انسان اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائے گا، مگر لاعلمی سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی ہے۔؟ لاعلمی آپ کو ایک جراتِ رندانہ دیتی ہے۔ نتائج سے بے خبری برتری کے ایک خوبصورت احساس سے مسلسل دوچار کیے رکھتی ہے۔ جون ایلیا اول فخر کرتے ہیں کہ میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں، فورا انہیں کچھ یاد آتا ہے تو افسردگی سے کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں ایک رمز ہے جس کا مارا ہوا انسان کبھی سکون نہیں پا سکتا۔

سچ کہوں؟ کہہ دیتا ہوں۔ یہ اپنے اپنے ادھڑے پاجاموں سے بے خبری کا نتیجہ ہے کہ ہم سیاسی آسودگیوں کے لیے پھیلے ہوئے پاناموں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جن کا سرے سے کوئی عنوان ہی نہیں، وہ دو تہائی پاکستان کو بدعنوان کہے جا رہے ہیں۔ مجھے رشک آتا ہے ایف ٹین والے اورینٹ ہوٹل کے بیرے زید پہ کہ وہ پانامہ کی گھمبیرتا کو پہلے دن ہی سلجھا گیا، ایک ہم ایسے کوڑھ مغز ہیں کہ اب تک اس نتیجے پہ نہیں پہنچ پارہے جس پہ اکثریت پہنچ چکی ہے۔ سیانوں نے حتمی فیصلہ کرلیا کہ وزارت عظمی کی کرسی اکھاڑ پھینکنی چاہیئے، اور ہمارا کم رسا ذہن مابعدالکرسیات میں الجھا ہے کہ اگر میاں نواز شریف نہیں ہوں گے تو پھر کیا ہوگا؟ یار لوگ کہتے ہیں کہ وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا۔ اب حرم سے دھتکارے ہوئے ہم ایسے مردودوں کا کیا علاج کہ خدا اور فردا پہ کچھ چھوڑ رکھنے کے قائل ہی نہیں۔ میاں سیدھا سا سوال ہے کہ وزیراعظم کی کرسی کو اگر آپ کی جلالی پھونک بھسم کردیتی ہے تو بعد کا منظرنامہ کیا ہو گا؟ کوئی اگلا لائحہ عمل؟ کہہ دیجیئے کہ یہ بھی آخر کوئی سوال ہے۔ خلجان ہی خلجان ہے، جس کی بنیاد دو چار کتابوں اوردو تین تجربات نے رکھ دی ہے۔ ایک صفحہ زندگی بخشتا ہے تو دوسرا صفحہ مار ڈالتا ہے۔ روز جیو روز مرو، یعنی ہمیں کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا۔ کیوں سچائیوں کو قریب سے دیکھ لیا؟ فاصلہ کیوں راس نہ آیا۔ بات بات پہ سوال پیدا ہوجاتے ہیں۔ ستم یہ کہ سوال کے جواب میں بھی سوال ہی چلے آتے ہیں۔ ہم الجھتے ہیں، بمشکل سلجھتے ہیں۔ الجھن سلجھن کی اس مشکل کو اندر ہی اندر ان لوگوں نے بڑھاوا دے رکھا ہے جن سے ہم سیکھتے ہیں۔ کس کی مانیں کس کی رہنے دیں۔ پھر سمجھائیں کس کو؟ خود سے زیادہ ذکی اور فہیم لوگوں کی رہنمائی کسی طفل مکتب کو زیب دیتی ہے کیا۔ بات تو مگر ہوگی، ضرور ہوگی۔ مرحوم منیر نیازی کی سنیں کہ کیا فرماتے ہیں

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

منیر نیازی خدا جانے کیا فرمانا چاہتے ہیں، مگر یہ شعر چینی معاشرے کو سنا دیا جائے تو نیازی صاحب اسی بے رحمی سے مسترد کر دیے جائیں جس بے رحمی سے وہ احمد ندیم قاسمی کو مسترد کردیا کرتے تھے۔ نیازی صاحب فرماتے میں احمد ندیم قاسمی کو شاعر ہی نہیں مانتا۔ کیوں بھئی؟ کیونکہ قاسمی کا وہ ’’میں تو دریا ہوں سمندر میں اترجاوں گا‘‘ والا شعر مجھ تک نہیں پہنچتا۔ یہیں پر بس نہیں ہوئی، مزید فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ شعر مجھ تک تو کیا کسی تک بھی نہیں پہنچتا۔ اچھا تو افسانہ نگار ہی مان لیں۔ نہیں، وہ افسانہ نگار بھی نہیں تھے۔ وہ کیسے؟ بھئی وہ ایسے کہ جو شخص اچھا شعر نہیں کہہ سکتا وہ اچھا افسانہ کیسے لکھ سکتا ہے؟ سبحان اللہ۔ نیازی صاحب کا اپنا کوئی زاویہ ہوگا مگر گلزار صاحب کہتے ہیں کہ ’’اردو میں تین سطحوں پہ احمد ندیم قاسمی اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ صحافت۔ نظم۔ نثر۔‘‘ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اگر قاسمی صاحب کا مذکورہ شعر واقعی کسی تک بھی نہیں پہنچ رہا تو پھر یہ زبان زد عام کیسے ہوگیا۔ ہے نا بات۔؟ عہد رفتہ کے سیانوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہا ہوگا نا کہ جس شاعر کا کلام گلیوں میں فقیر اور بالاخانوں میں خوش گلو مطربائیں گادیں تو وہ کلام مرتا نہیں ہے۔ اب بتلائیں کہ تجربات و ارشادات کے اس تصادم میں کس کی مانیں کس کی چھوڑیں؟ بات مگر سلجھانی تو ہے۔ جانے نیازی صاحب نے کبھی چین کا دورہ کیا تھا کہ نہیں، اگر کیا ہوتا تو اپنے ساتھ چینی دانشوروں کا ناروا سلوک دیکھ کر وہ قاسمی صاحب کے معترف ہوجاتے۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ زندگی کو ایک انتہائی منفرد رخ سے دیکھنے والا چینی معاشرہ اول تو نیازی صاحب کو مسترد کرتا، پھر کہتا میاں ! آپ کا شعر ہم تک نہیں پہنچ رہا، کیونکہ کنفیوشس سے چونگ زے تک کی تعلیمات اور زندگی کے تجربات کی روشنی میں ہمارا ایمان اس بات پہ پختہ ہوچکا ہے کہ سوال کبھی غلط ہوہی نہیں سکتا، غلط تو صرف جواب ہوتا ہے۔

چینی معاشرے نے مکالمے کے باب میں جس حقیقت کو دریافت کیا وہ بلاشبہ غیر معمولی ہے، مگر اس حقیقت پہ ان کے غیر ضروری اصرار کی وجہ وہی ہے جو نیازی صاحب کو درپیش تھی۔ دیکھیں بات دراصل تناظر کی ہوتی ہے۔ کہنے والا کس تناظر میں شعر کہہ گیا، یہ کہنے والا ہی جانے، مگر یہ سچ ہے کہ زندگی کی حقیقتوں سے کہیں اس کا واسطہ ضرور ہوتا ہے۔ شعر پہنچتا اسی تک ہے جو واقع ہوچکا ہو، یا پھر تب پہنچے گا جب وہ واقع ہوجائے گا۔ آپ کہنے والے کے تجربے اور احساس سے نہیں گزرے تو عظیم دانشور ہوکر بھی شاعر کی مراد تک نہیں پہنچ سکتے، تجربے سے گزر ہوا ہو تو بشیر پلمبر بھی مفہوم واضح کردے گا۔ پھر اگر بیسیوں تجربات سے آپ کا گزر ہوا ہو تو شاعر کے شعر سے آپ وہ کچھ اخذ کر لیتے ہیں جو خود شاعر دوسرے جنم میں بھی اخذ نہیں کرسکتا۔ یہ وجہ تو رہی ہوگی کہ ایم اے کے اردو پرچے میں پروین شاکر فیل کر دی گئی تھیں۔ فیل بھی ایک شعر کی ’’غلط‘‘ تشریح کے سبب ہوئیں۔ اب یہ دیکھیے کہ وہ شعر کسی اور کا نہیں خود پروین شاکر کا تھا۔ اگر چہ ممتحنین نے ضیا لحقی فرمائی تھی مگر یہ ایک حقیقت تو تاریخ پہ ثبت ہوگئی نا کہ ممتحن نے شاعر کی وہ مراد بھی مسترد کردی جو خود شاعر نے بیان کی۔ یعنی شاعر نے کسی تجربے کی بنیاد پر شعر کہا اور ممتحن نے کسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر کچھ اور مفہوم پہ اصرار کیا۔ بہر کیف! شعر ہوتا ہی وہ ہے جس کا خیال ہمہ جہت ہو اور الفاظ ہمہ گیر ہوں۔ اس طرح کے اشعار اکثر ایسے تناظر میں کسی نگینے کی طرح ٹھیک بیٹھ جاتے ہیں جس کا تصور خود شاعر کیلئے ممکن نہیں ہوتا۔ احمد ندیم قاسمی کے جس شعر پہ مرحوم نیازی صاحب حرف گیر ہیں وہی شعر لے لیں

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

اب یہ شعر ایک بہت بڑے شاعر منیر نیازی تک نہیں پہنچ رہا، ممکن ہے کچھ اور عالی دماغ ادیبوں تک بھی نہ پہنچ رہا ہو، مگر یہی شعر اپنے پورے مفہوم کے ساتھ بلکہ کچھ اضافی مفاہیم کے ساتھ اسامہ بن لادن تک باوجود اس کے پہنچ رہا ہے کہ وہ شاعر نہیں تھے۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ احمد ندیم قاسمی کا شعر خود احمد ندیم قاسمی سے بھی زیادہ اسامہ بن لادن کو سمجھ آیا ہو، کیونکہ سمندر میں اترنے کا باقاعدہ تجربہ اسامہ بن لادن کے حصے میں آیا ہے۔ اب یہ نیازی صاحب کی بدقسمتی کہیئے کہ سانحہ ایبٹ آباد بچشمِ سر دیکھنے کے لئے وہ زندہ نہیں تھے۔ ہوتے تو احمد ندیم قاسمی کا تناظر ہی نہیں، غالب کا شعر بھی کچھ دیگر تشریحات کے ساتھ ان پہ کھلتا

ہوئے مرکے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

سوچنے کی بات ہے کہ منیر نیازی صاحب تک اگر احمد ندیم قاسمی کا شعر نہیں پہنچ رہا تھا، تو غالب کا یہ شعر کیسے پہنچا ہوگا۔ ظاہر ہے نہیں پہنچا ہوگا۔ میرا غالب گمان ہے کہ غالب کا یہ شعر بھی اگر اضافی مفہوم کے ساتھ آج تک کسی شخص تک پہنچ سکا ہے تو وہ اسامہ بن لادن ہی ہیں۔ یہاں اگر کوئی دانشور ہماری رہنمائی کے واسطے یہ بتانے کے لئے پیج وتاب کھا رہا ہو کہ صاحب اسامہ زندہ ہی نہیں ہیں، تو یہ فلسفہ کیسا، تو ان سے اتنا ہی عرض کروں گا کہ بزرگو مت بھولیئے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو ازسر نو اس بات پہ غور کیجیے گا کہ ملائشیا کا گمشدہ طیارہ آخر بحیرہ عرب کے کس گوشے میں اتر گیا کہ جس کا سراغ نہیں لگ پا رہا۔ گیا تو آخر کہاں گیا۔ سوچتے دم اس بات پر ضرور دھیان دیجیئے گا کہ بحیرہ عرب میں اسامہ بن لادن پہلے اترے تھے ملائشیا کا طیاہ بعد میں آیا تھا۔ اس بات پہ بھی دھیان دینا ضروری ہے کہ ورلڈ ٹریڈ ٹاور سے طیارے ٹکرانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ کہنے والوں نے تو برسوں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے، بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے۔ وزنِ شعری کا چیلنج درپیش نہ ہوتا تو کہنے والوں نے ظلمات کی جگہ عرب ہی لگانا تھا۔ یہ تناظر اور زاویئے کے معاملات ہیں صاحب۔ غالب کے شعر کے معاملے میں اسامہ بن لادن کا تناظر اور زاویہ سمجھنے کیلئے منیر نیازی صاحب کو کچھ دیر کیلئے سلفی مسلک اختیار کرنا پڑے گا۔ جیسے ہی وہ اپنا زاویہ بدل کر سلفی مسلک میں کھڑے ہوں گے تو معرفت کا یہ نقطہ ان پہ کھل جائے گا کہ مزارات کا معاملہ سلفیوں کے ہاں کس قدر حساس ہے۔ ایک اچھے سلفی کیلئے غالب کے شعر کا مفہوم یہی بنتا ہے کہ مزار کی بدعت سے بچنے کیلئے کسی نامور سلفی کو دریا میں غرق ہونا پڑے تو ہوجائے، مگر یہ نوبت نہ آنے دے کہ پس مرگ کوئی اس کا مزار بنائے۔

زاویئے اور تناظر کی اس سنگینی کو سہنے کے بعد نیازی صاحب چینی دانشوروں سے وہی التجا کرتے جو ہم کرنا چاہیں گے۔ چینی دانش سے پورے احترام کے ساتھ اتنا عرض کریں گے کہ منیر نیازی کا شعر زندگی کے پراسرار پردوں میں پنہاں حقیقت سے اتنا بھی دور نہیں ہے۔ یہ ایک عالمگیر سچ ہوگا کہ سوال غلط نہیں ہوسکتا، مگر پاکستان کے مقامی سچ کے مطابق سوال ہی غلط ہو تے ہیں۔ بات سمجھنے کیلئے تناظر اور زاویہ بدلنا پڑے گا۔ اتنی سی زحمت ہوگی کہ آپ کو پانچ فٹ دس انچ کا سانولا پاکستانی بن کر معاملے کو راولپنڈی کے مری روڈ سے کھڑے ہوکر دیکھنا پڑے گا۔ مزید گہرائی میں جانے کیلئے دبے قدموں چکلالہ اسکیم تھری سے ادھر کچہری چوک کی طرف جانا ہوگا۔ یہاں پہنچ کر آپ کا تناظر درست ہوجائے گا۔ اب رہ جائے گا زاویہ، تو اسے درست کرنے کیلئے آپ اپنے والے سرد لہجے میں ہی سہی، مگر یہ دوسوال کر لیجیے گا کہ

’’میاں! چوکیدار کس برتے پہ احتساب کی تڑیاں لگاتے پھرتے ہیں؟‘‘

دوسرا یہ کہ

’’یہ بلا امتیاز احتساب میں دفاعی محکمے اور دفاعی شخصیات بھی آتی ہیں یا پھر ناپنے کو صرف سیاست دانوں کی گردنیں رہ گئی ہیں؟‘‘

یہ سوال کرد یجیے۔ آپ کو منیر نیازی کے شعر کا آدھا مفہوم آج ہی سمجھ آجائے گا، باقی کا آدھا مفہوم کل اس وقت سمجھ آئے گا جب اسلام آباد گالف کلب کی کسی شام کو سگار سے دھواں دھواں کرتا کوئی ریٹائرڈ ٹیپو سلطان کہے گا

’’سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے‘‘


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “احتساب۔۔۔ سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

Comments are closed.