پاکستانی عیادت، میں اور یوسفی


پچھلے 3 روز سے بخار، کھانسی، کپکپاہٹ اور اس قدر نقاہت کا شکار ہوں کہ چند قدم دُور جا کر سگریٹ نوشی کرنا بھی جوئے شیر لانے سے مشکل معلوم ہوتا ہے۔ جس روز بیماری نے آن گھیرا، اُس روز منجھلے بھائی کا فون آیا، طبیعت دریافت کی تو حال بتایا کہ گلہ خراب ہے اور کھانسی ہے، فوراَ فرمایا کہ گُڑ مِل جاتا ہے برطانیہ میں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، فرمانے لگے کہ گُڑ لائیں اور اسُے مکھن میں ”ساڑھ“ لیں کہ کینڈی بسکٹ جیسا رنگ ہو جائے اور گرم گرم منہ میں رکھ کر آہستہ آہستہ پگھلنے دیں۔ میں نے شُکریہ ادا کیا اور کہا کہ بالکل ضرور صبح ہی ایسا کروں گا، اس سے پہلے کہ کوئی اور آزمودہ نسخہ تجویز فرماتے، میں نے فوراَ عرض کی کہ عزیزم، مزید بولنے کی تاب نہیں، کمزوری محسوس ہو رہی ہے۔

ایک دوست نے طبیعت دریافت کی، اور پوچھا کہ کیا کھانسی شدید ہے؟ عرض کیا کہ جی ہاں، فرمانے لگیں کہ جلیبیاں مل جائیں گی لندن میں؟ جواب دیا کہ جی مِل جاتی ہیں، بولیں کہ جلیبیاں گرم دودھ میں بھگو کر رکھ دیں اور صبح نہار منہ گرم کر کے کھا لیں، اگر ابھی کھانی ہوں تو گرما گرم دودھ میں بھگو دیں اور ”کوسا“ ہونے پر کھائیں۔

ایک بھابھی ہیں، اُنہوں نے مشورہ دِیا کہ ”انگریزی جوشاندہ“ استعمال کرو، میں نے اجزائے ترکیبی دریافت کیے تو بولیں کہ شام میں تمہارے بھائی سے پوچھ کر بتا دوں گی یا اُن سے پوچھ لینا۔

بھلا ہو میری ایک بہن کا کہ انہوں نے اگمنٹن بھجوا دی، امید ہے کہ ایک دو روز میں بھلا چنگا ہو جاؤں گا۔

درجن ایک مشوروں اور ٹوٹکوں میں سے واحد ٹوٹکہ جو پسند آیا وہ بھابھی کا تجویز کردہ تھا، لیکن شو مئی قسمت کہ جس گھر میں مقیم ہوں وہاں پر سوائے انگریزوں کے دیے گئے فوائد کے کسی بھی اور انگریزی چیز یا ایسی چیز جس پر انگریزی ہونے کا شائبہ تک ہو، اس کا داخلہ ممنوع ہے۔

میں آپ سبھی دوستوں کا بہت شکر گزار ہوں، مجھے ایسے ہی یوسفی صاحب کی تحریر یاد آ رہی تھی، ایک اقتباس آپ بھی پڑھ لیں۔

”میں اس جسمانی تکلیف سے بالکل نہیں گھبراتا جو لازمہ علالت ہے۔ اسپرین کی صرف ایک گولی یا مارفیا کا ایک انجکشن اس سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس روحانی اذیت کا کوئی علاج نہیں جو عیادت کرنے والوں سے مسلسل پہنچتی رہتی ہے۔ ایک دائم المرض کی حیثیت سے جو اس درد لادوا کی لذت سے آشنا ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مارفیا کے انجکشن مریض کے بجائے مزاج پرسی کرنے والوں کے لگائے جائیں تو مریض کو بہت جلد سکون آ جائے۔

سنا ہے کہ شائستہ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر آپ اُس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔ شائستگی کا یہ سخت معیار صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کا مستحق نہ نکلے۔

میں آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکاکہ اس کی اصل وجہ طبی معلومات کی زیادتی ہے یا مذاق سلیم کی کمی۔ بہرحال بیمار کو مشورہ دینا ہر تندرست آدمی اپنا خوش گوار فرض سمجھتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فی صد لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں؟“

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں