ہندوستانی مسلمانوں کی نام نہاد مظلومیت


شمس الرحمٰن فاروقی کا انگریزی مضمون Agony of the Marginalised (انڈین ایکسپریس، 5 اپریل 2018) پڑھا تو میرا جو سب سے پہلا تاثر تھا، وہ یہ تھا کہ’ انڈین ایکسپریس‘ جیسے مؤقر روزنامے میں یہ مضمون شائع کیسے ہوگیا؟ پھر ایک دوست کے توجہ دلانے پر اس مضمون کے آخر میں ایڈیٹر کا تعارفی فقرہ نظر آیا کہ ’اس مضمون کے مصنف اردو کے معروف ادیب ہیں۔ ‘ گویا کہا جارہا ہو کہ کسی اردو ادیب سے آپ اور کیا توقع کرسکتے ہیں؟

ممکن ہے کہ فاروقی کا متذکرہ مضمون پڑھ کر ان لوگوں کو حیرت ہو ئی ہو، جو ان کے ادبی نظریات سے روشن خیالی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، لیکن مجھ پر کوئی خاص فرق اس لیے نہیں پڑا کہ اس صدمے سے کافی پہلے گزر چکا ہوں، جب ’شب خون‘ کے ایک شمارے میں ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں پر ان کے خیالات جاننے کا اتفاق ہوا تھا۔ اپنے ارشادات میں فاروقی نے مسلمانوں کے لیے ’ہم لوگ‘ اور ہندوؤں کے لیے ’وہ لوگ‘ کا استعمال کیا تھا، جس سے ان کی علیحدگی پسندی اور نرگسیت کا ایک معمولی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بعد میں ذکیہ مشہدی نے ایک طویل خط لکھ کر اس پر اپنا سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ لیکن اس میں فاروقی کو میں قصور وار نہیں سمجھتا، چونکہ اول تو وہ سیاسی یا سماجی مسائل پر ذرا کم ہی اپنی زبان کھولتے ہیں لیکن جب بھی کھولتے ہیں تو وہ دوسرے ریاکار مسلم رہنماوؤں یا دانشوروں کی طرح اپنی گفتگو کو sugar coat کرنے کا تکلف نہیں اٹھاتے، ان کی یہی ادا مجھے پسند ہے، وہ جو کہتے ہیں خم ٹھونک کرکہتے ہیں۔ اس سے ہم جیسے جاہلوں کو ان کا مافی الضمیر سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ زیر نظر مضمون میں بھی فاروقی نے اسی صاف گوئی کا سہارا لیا ہے، جس سے ان کی ’معصومیت‘ اور ان کی ’طبیعت کے میلان‘ کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں پڑتی۔

فاروقی نے اپوروانند کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان سے لبرل ازم کے تقاضے کا مطلب مسلمان سے زیادہ ہندو ہونا ہے۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ فاروقی کا ہندوؤں سے سیکولر ہونے کے تقاضہ کا مطلب ہندو سے زیادہ مسلمان ہونا ہے، تو میرے خیال میں یہ بھی درست ہوگا؟ اور کیا واقعی یہ حقیقت نہیں ہے؟ آپ کی نظر میں ایک اچھا سیکولر وہ ہے جو مسلمانوں کی ہر جائز اور ناجائز باتوں کی حمایت کرے، ان کی نازبرداری کرے اور ان کے حقوق کے لیے لڑے؟ لیکن جیسے ہی اس نے مسلمانوں کے طرز فکر یا رویوں پر، خواہ کتنی ہی نرمی، محبت اور نیک نیتی کے ساتھ اصلاح کی غرض سے تنقید کی، تو وہ اسلام اور مسلم دشمن نظر آنے لگتا ہے۔

رام چندر گوہا کے ساتھ بھی یہی ہوا، اس بیچارے نے حجاب کو ترشول کا مقابلے میں کیوں کھڑا کر دیا؟ اگر یہی بات اپوروانند کہتے تو فاروقی ان کے مخالف ہوجاتے۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ رام چند ر گوہا سے برسوں پہلے مسلمانوں کی جعلی شناخت پر مولانا ابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاں تنقید کرچکے ہیں۔ بھیونڈی میں 1984کے فرقہ وارانہ فسادات کے چند روز بعد بعد وہاں کے مسلمانوں نے اپنے علاقے میں علی میاں کے لیے ایک جلسہ منعقد کیا، شاید اس خیال سے کہ مولانا موصوف دوسرے مذہبی رہنماؤں کی طرح ان کے مجروح جذبات پر اپنی جذباتی اور مبالغہ آمیز تقریر کا مرہم رکھیں گے لیکن علی میاں نے کرسی توڑ جذباتی تقریر کرنے کی بجائے مسلمانوں کی مخصوص ’شناخت‘ کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ (”فسادات اور ہندوستانی مسلمان“، بار اول، صفحہ، 10۔ 12، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 1991)

کیا فاروقی یا دوسرے رہنمایان ملت سے اس اخلاقی جرات کی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غلط کے منھ پر غلط کہہ سکیں، پھر خواہ وہ ’اپنا ‘ ہو یا ’غیر‘؟ فاروقی کے ’مجروح جذبات والے فارمولے‘ کے مطابق یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا مولانا موصوف کی حق گوئی انھیں’ مسلمان سے زیادہ ہندو بنا گئی؟ ‘

ہزاروں کیلو میٹر دور شام، فلسطین، عراق، افغانستان پر آنسو بہانے والے ہندوستانی مسلمان اگر پورے جوش و عقیدت کے ساتھ کھل کر گلیوں، کوچوں اور سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو پھر وہی جوش نائن الیون، ہندوستانی پارلیامنٹ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے دھماکوں کے خلاف اظہار مذمت کرتے ہوئے کیوں نظر نہیں آتا؟ بے شک مذمت ہوتی ہے، دیوبند سے فتویٰ بھی جاری ہوتا ہے جس میں دہشت گردی کو اسلام سے خارج بتایا جاتا ہے، مسلمانوں کے اخباروں میں کالم اور بیانات بھی شائع ہوتے ہیں کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ ’ایک معصوم کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘ وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ تمام افعال مخلصانہ کم اور معذرت خواہانہ زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ ان بیانات اور حرکتوں میں وہ زندگی نہیں نظر آتی جس کی رمق سنگھ پریوار اور یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے آپ کے چہرے پر نظر آتی ہے۔ پتہ نہیں مجھ جیسے کور نظر کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اپنی جان چھڑانے کے لیے ان مذمتوں کی حیثیت دفاعی تدابیر کے سوا کچھ نہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اشعر نجمی، ممبئی، ہندوستان

اشعر نجمی ممبئی کے سہ ماہی جریدے ”اثبات“ کے مدیر ہیں۔

ashar-najmi has 3 posts and counting.See all posts by ashar-najmi