میں ماہرِنفسیات کیسے بنا؟


ہر صبح جب میں اپنے مریضوں کے علاج کے لیے گھر سے نکلتا ہوں تو میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ مجھے اپنے پیشے سے بے پناہ محبت ہے۔ میں اپنے کام میں اتنا آرام اور اتنی خوشی محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے اپنی زندگی میں ایک دن بھی کام نہ کیا ہو۔

جب میں نوجوان تھا تو یہ خواب دیکھا کرتا تھا کہ ایک دن میں ماہرِ نفسیات بن جائوں گا‘ اپنا کلینک کھولوں گا اور اپنے مریضوں کا علاج کروں گا۔ چناچہ جب میں نے کینیڈا میں GREEN ZONE CLINIC کھولا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا خواب شرمندہِ تعبیر ہو گیا ہو۔

جب میں اپنے ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر کے بہت سے سنگِ میل دکھائی دیتے ہیں۔ میں اس مضمون میں ان میں سے چند سنگ میلوں کا ذکر کروں گا تا کہ آپ کو اس سفر کا اندازہ ہو سکے جس پر عارف عبدالمتین کا یہ شعر صادق آتا ہے

اپنی پہچان کرنے نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک عالم سے روشناس ہوا

امی جان کا خواب

میری امی جان کا‘جن کا نام عائشہ قاسم تھا‘ ایک خواب تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ایک ڈاکٹر بنوں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے کیوں ڈاکٹر بنانا چاہتی ہیں تو وہ کہنے لگیں ’جب تم پیدا ہوئے تھے تو تمہارے بائیں کان کی لو غائب تھی۔ میں تمہارے کان کے بارے میں اتنی فکرمند رہتی تھی کہ اسے رومال سے چھپا کر رکھتی تھی۔ جب تم تین سال کے ہوئے تو میں تمہیں ایک سرجن کے پاس لے گئی۔ اس نے آپریشن کر کے تمہارے بائیں کان کی لو بنا دی۔ میں اس سرجن سے اتنی خوش ہوئی کہ میں نے اس سے کہا کہ جب سہیل بیٹا بڑا ہوگا تو میں اسے آپ کی طرح ایک بڑا ڈاکٹر بنائوں گی۔ وہ سرجن میری بات سن کر مسکرا دیا۔‘

ابوجان کی بیماری

جب میں دس سال کا تھا تو میرے ابو جان‘ جن کا نام عبدالباسط تھا‘ ایک نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب وہ کمرے میں گھنٹوں ایک جگہ پر کھڑے رہتے تھے اور خلائوں میں گھرتے ہوئے بڑبڑاتے رہتے تھے۔ مجھے وہ راتیں بھی یاد ہیں جب وہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر ستاروں سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ وہ دن میں پانی کے بیسیوں گلاس پیتے تھے اور بار بار پیشاب کرنے غسل خانے جاتے تھے۔ میری امی جان پہلے انہیں ایک ڈاکٹر کے پاس‘ پھر ایک ماہرِ نفسیات کے پاس اور آخر میں ایک روحانی پیشوا کے پاس لے گئیں۔ سب نے ان کا علاج کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کسی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک سال کے بعد وہ جس پراسرار طریقے سے بیمار ہوئے تھے اسی پراسرار طریقے سے صحتیاب ہو گئے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کا خیال تھا کہ وہ نفسیاتی بیماری کی گہرائیوں میں گر گئے تھے ان کا ایمان تھا کہ وہ روحانیت کی بلندیوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے ایک درویشانہ زندگی گزارنی شروع کر دی۔ سادہ خوراک‘سادہ لباس اور سادہ طرزِ زندگی۔ لوگ انہیں صوفی صاحب کہنے لگے۔ بیماری سے پہلے وہ گورنمنٹ کالج کوہاٹ میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔ بیماری کے بعد انہوں نے پشاور کے ہائی سکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔

میرا خیال ہے کہ ابو جان کی بیماری نے ضرور مجھے لاشعوری طور پر ایک ماہرِ نفسیات بننے کی تحریک دی ہوگی تا کہ نفسیاتی مسائل کے راز جان سکوں۔

سگمنڈ فرائڈ اور تحلیلِ نفسی

جب میں طالب علم تھا اور کالج میں پڑھتا تھا تو اکثر لائبریری جاتا تھا۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ ارجنٹینیا کے مشہور لکھاری بورخیز‘ جو لائبریرین بھی تھے‘ کا خیال تھا کہ جنت باغ نہیں لائبریری ہے۔ لائبریری میں کبھی نفسیات کبھی روحانیات کبھی ادب کبھی فلسفے کی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ میں نے چند سالوں میں سینکڑوں کتابیں پڑھ لی تھیں۔

اور پھر ایک شام غیر متوقع طور پر مجھے ایک ہزار صفحوں کی کتاب مل گئی جو سگمنڈ فرائڈ اور تحلیلِ نفسی پر لکھی گئی تھی۔ جب وہ کتاب مجھے ملی تو مجھے یوں لگا جیسے مجھے کوئی قیمتی خزانہ مل گیا ہو۔ وہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے فرائڈ سے عشق ہو گیا۔ اس کتاب نے مجھے ماہرِ نفسیات بننے کی تحریک دی تا کہ میں اس قابل ہو سکوں کہ نفسیاتی مریضوں کا علاج کر سکوں اور نفسیاتی اور سماجی مسائل کی گتھیاں سلجھا سکوں۔ اس کے بعد کارل یونگ‘ ژاں پال سارتر‘ ایرک فرام‘ وکٹر فرینکل اور کئی اور ماہرین سے بھی استفادہ کیا لیکن فرائڈ مجھے آج بھی پہلی محبت کی طرح عزیز ہیں۔

خیبر میڈیکل کالج میں داخلہ

جب میں نے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا تو میں نے خیبر میڈیکل کالج پشاور میں داخلے کے لیے درخواست دی۔ اگرچہ میرے نمبر بہت اچھے تھے اور ہزاروں طلبا کے بورڈ میں میری بیسویں پوزیشن تھی لیکن میری درخواست کو اس لیے رد کر دیا گیا کیونکہ میرے والدین کے پاس صوبہ سرحد کا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ نہیں تھا۔ وہ 1947ء میں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آئے تھے اور اپنی ساری جائداد وہیں چھوڑ آئے تھے۔ میں نے اصحابِ بست و کشاد کو بتایا کہ میری ساری زندگی کوہاٹ اور پشاور میں گزری تھی لیکن وہ نہ مانے۔ میرے وہ دوست اور کلاس فیلو جن کے نمبر مجھ سے کم تھے انہیں خیبر میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا لیکن مجھے نہ مل سکا۔ میں اس واقعہ سے بہت دلبرداشتہ ہوا۔ میرا ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات بننے کا خواب اتنا چکناچور ہوا کہ میں بہت اداس و غمگین ہو گیا۔

اپنی اداسی کو دور کرنے کے لیے میں پشاور سے لاہور اپنی نانی امان سرور سے ملنے گیا۔ چند دنوں کے بعد جب میں اپنے علالدین ماموں سے باتیں کر رہا تھا ان کے دوست انکل سعید آ گئے۔ وہ ایک وکیل تھے اور مجھ سے ہمیشہ بڑی شفقت سے ملتے تھے۔ جب انہوں نے میرا حال پوچھا تو میں نے انہیں اپنی دکھ بھری کہانی سنائی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ میں کسی دن ان کے دفتر میں آئوں۔ اگلے دن جب میں ان سے ملنے گیا توانہوں نے بڑی ہمدردی سے میری کہانی سنی اور پانچ صفحوں کا طویل خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے خط کی ایک کاپی خیبر میڈیکل کالج کے پرنسپل کو‘ ایک کاپی پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کواور ایک کاپی صوبہ سرحد کے گورنر کو بھیجی۔ میری خوش قسمتی کہ ان دنوں ایر مارشل اصغر خان گورنر تھے جو طلبا و طالبات کے مسائل میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ انہوں نے ایک سپیشل کمیٹی تشکیل دی کہ ڈومیسائل کے مسئلے کا تسلی بخش حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے میرے والد صاحب کا انٹرویو لیا اور مجھے جنوری 1970 میں خیبر میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ پانچ سال کے بعد جب میں نے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا تو میری والدہ بہت خوش تھیں کیونکہ ان کا خواب شرمندہِ تعبیر ہو رہا تھا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail