انور مقصود کا علی نواز چانڈیو


 پچھلے دنوں نامور مزاح نگار اور مصنف جناب انور مقصود صاحب کی جانب سے ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں علی نواز چانڈیو نامی ایک فرضی کردار کو تمثیل بنا کر کچھ نکتے پیش کئے گئے۔ ویڈیو پر بالخصوص سندھی مگر کچھ اور غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کی گئی جس کے جواب میں انور مقصود صاحب نے کچھ روز بعد ایک اور ویڈیو پیغام کے ذریعے غیر مشروط طور پر معذرت کا اظہار کیا۔

ویڈیو کا بنیادی نکتہ تھا کہ علی نواز چانڈیو جو کہ وسیع پیمانے پر سندھی آبادی کا نمائندہ ہے وہ سست ہے، کام کاج نہیں کرتا، جب بھی ایک مخصوص سیاسی جماعت کی حکومت آتی ہے تو بڑے بڑے قرضے اٹھاتا ہے، علی نواز کی اولاد یعنی نئی نسل اس سے بھی زیادہ بے ایمان اور مردہ ضمیر ہے کہ وہ علی نواز کو جعلی طور پر مردہ دکھا کر مزید فائدے اٹھاتی ہے۔

سندھی افراد نے فوراُ سوشل میڈیا کا رخ کیا اور اس طرح کی ویڈیو پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کروایا جس کے جواب میں کچھ حلقوں نے یہ عذر پیش کیا کہ یہ طنز و مزاح کا حصہ ہے اور اسے اسی طرح لیا جانا چاہئے تھا، کیا ماضی میں پٹھانوں، بنگالیوں اور دوسری قوموں پر مذاق نہیں بنتے رہے؟ کیا ہم کئی دہائیوں تک انور مقصود اور معین اختر صاحب کے ان شاہکار ویڈیوز سے محظوظ نہیں ہوتے رہے جن میں اسی طرح کے قومیت پر ہنسی مذاق ہوتے رہے ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عذر پیش کرنے والے یہ بھول گئے کہ زمانہ بدل گیا ہے، بڑھتی ہوئی گلوبلائیزیشن کے باعث کئی روایات جو ماض میں یقینی طور پر اس قدر معیوب نہ سمجھی جاتی تھیں وہ اب غیر اخلاقی اور نسل پرستی کے زمرے میں قابل اعتراض خیال کی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارے بڑوں کے زمانے میں کمسن بچیوں کی شادیاں معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا پر اب یہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ انتہائی معیوب اور غیر اخلاقی چیز ہے جس کے لئے باقاعدہ قانون سازی جاری ہے۔ اسی طرح قومیت کے لئے اس طرح کے تاثر دینا جس سے اس قوم یا گروہ کے لئے اسٹیریو ٹائپنگ قسم کا عمومی تاثر قائم ہوتا ہے ان خیالات کی اب باقاعدہ بیخ کنی کی جاتی ہے۔ پٹھان بھائیوں یا بھارت میں سرداروں پر لطیفے یا پرانے دور کے انگلستان میں آئرش قوم کو مخصوص انداز سے دکھلانا واقعتاً ماضی میں طنز و مزاح کا حصہ رہا ہے مگر اب مزید نہیں۔ دنیا میں میرٹ پر فیصلے کرنے کی ترغیب میں اضافہ ہوا ہے اور ایسے کوئی بھی خیالات جو کسی بھی فرد، گروہ یا قوم کو ایک کونے میں لے جاتا ہو، ان کے لئے ایک خاص طرح کے تعصب کو پیدا کرتا ہو اور اس تعصب کی وجہ سے اس قوم کے لوگوں کو اہلیت کے باوجود زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے پڑے تو اس بارے میں طنز و مزاح کے معیار کو نئے زمانے کے حساب سے دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

علی نواز چانڈیو جیسے کردار کسی ایک گروہ یا قوم یا نسل کا خاصہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی ٹراپسیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس میں بدعنوانی کے حوالے سے رینکنگ کو ہم چاہ کر بھی ملک کے ایک مخصوص قوم یا خطے تک محدود نہیں کرسکتے۔ بدعنوانی ایک ایسا عفریت ہے جس کو لازم ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے پر اس کے لئے کسی بھی ایک قوم کو مذاق کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جناب انور مقصود جیسے بڑے اور عظیم ناموں کی مدد سے بدعنوانی اور ایسے دوسرے مسائل کے لئے ملکی سطح پر بڑے مباحثوں کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں میں آگاہی بڑھے اور یہ کام تبھی ممکن ہے جب ہم بلا کسی پہلے سے طے شدہ سوچ کے ساتھ کام کریں جس میں ہم نے پہلے سے ہی کسی ایک کو بے گناہ اور دوسرے کو قصوروار قرار دے دیا ہوتا ہے۔ کل کو اگر ایک سندھی نوجوان یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے جاب کے لئے انٹرویو دینے جاتا ہے اور اس کو اس لئے مشکل پیش آتی ہے کیونکہ ماضی میں مقبول طنز و مزاح کے معیار مختلف تھے جن میں پٹھان برادری یا سندھیوں کو ایک مخصوص انداز سے دیکھنا جائز بات سمجھی جاتی تھی تو یہ اہلیت کی دھجیاں اڑانے کے مترادف بات ہوگی جوکہ ظاہر ہے نہ صرف اس نوجوان بلکہ پورے پاکستان کا نقصان ہے۔

اس سلسلے میں دوسرا ابہام آزادی اظہار کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔ ایک حلقہ ایسا بھی تھا جس کا اصرار تھا کہ انور مقصود صاحب پر اس طرح کے اعتراضات کرنا حق آزادی اظہار کے خلاف ہے۔ یہ دراصل اظہار رائے کی حدود و قیود سے ناواقفیت کا ظاہر کرتا ہے کہ جہاں اظہار آزادی آپ کو یقیناً یہ حق دیتا ہے کہ آپ کسی موضوع کو طنز و مزاح کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنائیں پر اس میں بھی واضح طور پر ان خیالات کو استثناء حاصل ہوتی ہے جس سے کسی بھی گروہ، قوم یا زبان و نسل کے متعلق نسل پرستانہ سوچ کی ترویج ہوتی ہو یا پھر اسٹیریو ٹائپنگ پیدا ہوتی ہو۔ ایک مہذب، پڑھے لکھے انسان کی نشانی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مداحوں کی سوچ کو اپنی سوچ پر مقدم رکھتا ہے۔ انور مقصود صاحب نے جس طرح اپنے مداحوں سے معذرت کی وہ ایک انتہائی قابل ستائش بات تھی جو آنے والے ادوار میں ایک انتہائی مثبت مثال بننے والی ہے جس کے لئے آنے والے کئی سالوں تک ان کا نام جلی حروف سے لکھا جانا چاہئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عامر این جی کی دیگر تحریریں
عامر این جی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عامر این جی

Aamer NG is a Pakistani professional settled in Australia for more than 12 years now and likes to write as a freelancer blogger on social and political issues.

amer-ng has 1 posts and counting.See all posts by amer-ng