موبائل فون اور محو آئینہ داری محترمہ


ہمارے آگے جانے والی کار کسی مخمور سانپ کی طرح بل کھاتی جا رہی تھی۔ دائیں بائیں لہراتی اعلیٰ نسبی موٹر کار کی رفتار اتنی کم تھی کہ اس کے سامنے سڑک خالی تھی جبکہ پیچھے چیختی چنگھاڑتی گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ کسی ہارن یا لائٹ کا صاحب کار پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ کراس کرنا اس لیے ممکن نہیں تھا کہ سڑک تنگ تھی ۔

اس گاڑی کی سرمست چال کی بنا پر ایسی کوئی کوشش استاد فیقے ڈینٹر کے در پر حاضری کا سبب بن سکتی تھی۔ کوئی دس بارہ منٹ تک اپنا کمالِ ضبط آزمانے کے بعد ذرا سی کھلی جگہ آئی تو ہم گاڑی کو دوڑا کر اس کے برابر لائے اور صاحب کار کو بے نقط سنانے کے لیے شیشہ کھولا۔ جواب میں اُدھر سے بھی شیشہ کھلا تو ہم نے خود ہی اپنا آئیڈیا مسترد کیا اور خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔

دراصل شیشہ کھلتے ہی ہم نے گاڑی کے اندر ایسے ہوشربا منظر کا تماشا کیا تھا کہ ہمیں فوراً خیال آ گیا کہ غصہ حرام ہے۔ ویسے بھی کوئی الٹی سیدھی بات کرکے ہمیں اپنے اوپر ہراسمنٹ ایکٹ کی کوئی دفعہ لگوانے کا ذرا بھی شوق نہیں۔ اس شاندار موٹر کار کو ایک خوش شکل سی باجی چلا رہی تھی، جس نے شیشہ کھولتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہم سے پوچھا تھا ”کی تکلیف اے؟‘‘

نیک بخت ایک تو گاڑی چلانے کے سیکھنے کے مرحلے میں تھی، اوپر سے اثنائے ڈرائیونگ محو آئینہ داری بھی اور موبائل کان سے لگائے کسی کے ساتھ ایسی مستغرق کہ گاڑی بھی جھومتی جا رہی تھی اور اسے اپنے پیچھے آنے والے سیلاب کی بھی کچھ خبر نہیں تھی۔ یہ لاجواب موبائل سروس استعمال کرنے والے باکمال لوگوں کے رویوں کی ایک نمائندہ جھلک ہے۔

آج تو خیر ہم فیس بک پر جدت سے آراستہ ڈاکٹر نعیم مشتاق کی اس نوع کی غزلیں پڑھتے ہیں کہ:

بڑا کیدو بھی سو جائے تو اک مس کال کر دینا
تجھے میری جو یاد آئے تو اک مس کال کر دینا

یا جیسے ہم جدید پُرسوز گیت سنتے ہیں ”مس کال مریندے ڈھولا، پریشان کریندے ڈھولا‘‘ مگر ماضی میں یہ سہولت نہیں تھی۔ تب پی ٹی سی ایل کی فکسڈ لائن کا اجارہ تھا اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر گفتگو کا انداز بھی مختلف تھا۔

جیسے ایک پروفیسرصاحب کلاس میں اخلاقیات پر لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے ٹیلی فون پر بات کرنے کے آداب بتاتے ہوئے کہا ”جب آپ کسی کے گھر فون کریں تو سب سے پہلے کہیں…‘‘ آخری بینچ سے آواز آئی ”کیا بڈھا گھر پر ہے؟‘‘… جدید سائنس کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ابھی ہم فکسڈ لائن پر بات کرنے آداب و اطوار سیکھنے کے مرحلے میں تھے کہ اوپر سے موبائل فون بھی آ گیا اور ہم نے اس صوتی آلے کی بھی بلا تکلف درگت بنانا شروع کر دی۔

ایک بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی سائنسی ایجاد کے استعمال بارے اس کے موجد کے گمان میں بھی وہ کچھ نہیں ہوتا، جو ہمارے ہاں کیا جاتا ہے۔ جیسے لائوڈ سپیکر بنانے والے کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ اس کی ایجاد سے دنیا کے کسی خطے کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دی جائیں گی۔ موبائل فون کا خالق بھی لا علم تھا کہ اس کے صوتی آلے کو دنیا میں کوئی برگزیدہ قوم اپنے غیر تہذیب یافتہ رویوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرے گی، یا بم بلاسٹ کی خاطر اس کی خدمات سے استفادہ فرمائے گی۔

صورتحال کچھ یوں ہے کہ اول تو ہر جگہ اور ہر محفل میں طرح طرح کی مسلسل بجتی رنگ ٹونز ہی سکون سے بات کرنے یا سمجھنے نہیں دیتیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر دس لوگ بیٹھے ہیں تو ان میں سے آدھے اپنے اپنے فون کان سے لگائے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ اخلاق پر ہمیں وہ عبور حاصل ہے کہ اگر ایک بندے کا فون بجتا ہے تو وہ باہرجا کر سننے کی بجائے وہیں بات کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے دوسروں کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ کئی برادران و ہمشیرگانِ ملت بات کرتے ہوئے منہ کا پھاٹک اس زور سے کھولتے ہیں کہ جی چاہتا ہے، انہیں کہا جائے ”فون بند کر دیں، آپ کی آواز ویسے بھی اگلے تک پہنچ رہی ہو گی‘‘۔

اگر ہمیں کسی سے کام ہو تو رات کا ایک بجا ہے یا صبح کے پانچ، ہم تمام تر اخلاقیات کو دولتی جھاڑ کر فون کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔

ہم جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں تو تماشائے اہل کرم کا خوب نظارہ کرتے ہیں۔ درجن بھر مسافر اپنے اپنے موبائلز پر محو گفتگو ہوتے ہیں ، اور ان میں سے زیادہ تر ”ہور سُنا فیر‘‘ جیسی لا یعنی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی کوئی پختون بھائی اپنے سمارٹ فون پر اونچی آواز میں اخلاق آموز پشتو گانا سن کر محظوظ ہو رہا ہوتا ہے اور کوئی پنجابی برادر نصیبو لال کی مدھر آواز سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔

ایسے میں جب گاڑی کا استاد عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا کوئی دکھی سا گیت لگا دیتا ہے تو مکس موسیقی کے اس روح پرور ماحول میں باقی کے مسافروں پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ہم ویگن میں سفر کر رہے تھے۔ گاڑی چلتے ہی ہمارے ساتھ بیٹھے نوجوان نے کسی کا نمبر ملایا اور اپنی جنریٹر جیسی آواز سے تمام مسافروں پر حاوی ہو گیا۔

آدھے گھنٹے کا سفر تھا۔ اس دوران وہ کبھی ایک بچے کا نام لے کر اس سے بات کرانے کا کہتا، کبھی دوسرے اور کبھی تیسرے کا نام لے کر۔ درمیان میں وقتاً فوقتاً بچوں کی ماں سے بھی گفتگو کرتا۔ تمام تر گفتگو انتہائی فضول اور بے مقصد تھی۔ آخری سٹاپ آیا تو ہمارا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ گاڑی رکی تو اس باہمت نوجوان نے فون پر یہ الوداعی الفاظ کہے ”بس بیٹا، اب فون بند کر دو، میں تمہارے گھر کے قریب پہنچ گیا ہوں، اب باقی باتیں مل کر کرتے ہیں‘‘ اس وقت بے اختیار ہمارا دل جو کچھ کرنے کو چاہا، وہ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

ایک مرتبہ کوچ میں دوران سفر ایک ماں جی کو کسی دوست خاتون کی کال آ گئی۔ ماں جی نے موقع غنیمت جانا اور بلند آواز میں اپنی بہو کے کردار اور عادات و اطوار کے خفیہ گوشوں کی نقاب کشائی شروع کی تو مسافروں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔ خدا انہیں لمبی عمر عطا کرے، مسافروں کے جنرل نالج میں خاصا اضافہ فرما کر گاڑی سے اتریں۔

اگر کسی میسیج ماسٹر کے ہاتھ آپ کا نمبر لگ گیا ہے تو سمجھیں خیر نہیں۔ میسج کرنے والے کے لیے قطعی ضروری نہیں کہ وہ آپ کا جاننے والا ہو اور اسے آپ کی مصروفیات کا علم بھی ہو۔ وہ ماسٹرکسی سیاسی جماعت کا ورکر ہو سکتا ہے، کسی نام نہاد اصلاحی مہم کا کل پرزہ، کسی تبلیغی مشن کا ٹھکیدار یا شغلاً میسیج کرنے کا شوقین۔ آپ لاکھ منع کریں مگر وہ اپنے تلاطم خیز خیالات و جذبات آپ پر ٹھونستارہے گا۔

دوسرے کی پرائیویسی جیسی خرافات کے ہم قائل تھے اور نہ ہیں۔ ہمارے ایک محترم فین پی ایچ ڈی تھے۔ وہ رائونڈ دی کلاک اپنے والد مرحوم کی بے وزن اور بھونڈی شاعری بھیجتے تھے اورساتھ ہی اصرار کرکے داد بھی طلب فرماتے۔ ہم نے انہیں اشاروں میں سمجھایاکہ ہم صرف ضروری اور دوستوں کے میسیج پڑھنا چاہتے ہیں، نیزیہ کہ مصروفیات کی بنا پر باربارمیسیج کی ٹون ہمیں ڈسٹرب کرتی ہے۔

ان پر کچھ اثر نہ ہوا اور دن رات ان کے میسیج جاری رہے تومجبوراًہمیں ذرا واضع الفاظ میں ان سے معذرت کرناپڑی۔ ان کا جواب آیا کہ آپ کوعزت راس نہیں آئی ورنہ میں تو آپ کو قبلہ والد بزرگوارکی نایاب شاعری سے روشناس کراناچاہتا تھا تاکہ آپ کی تحریر میں نکھارآئے۔ انکی مہرباں ناراضی سے جہاں ہمیں کچھ ریلیف ملا، وہاں ہماری تحریر بھی نکھارسے بال بال بچی، ورنہ ہمیں نظر بھی لگ سکتی تھی۔

اجنبی نمبروں سے باربارکی جانے والی مسڈکال کی حرکت اخلاقی دیوالیہ پن کی بھرپور عکاس ہے۔ آپ تنگ آکر کال کرکے اس کرم فرمائی کاسبب پوچھتے ہیں توآگے سے نیوزکاسٹرکی طرح پورے اعتمادسے جھوٹ بولاجاتاہے کہ میں نے توکوئی کال نہیں کی۔ اخلاقی گراوٹ اوربے وقوفی میں اس حرکت کابھی اپنا ایک مقام ہے کہ جب اجنبی نمبرسے فون کرکے آپ سے پوچھاجاتا ہے ”کون بول رہاہے؟‘‘

انتہائی رش والی جگہوں پربھی دوران ڈرائیونگ ،خصوصاً موٹرسائیکل یا رکشہ چلاتے وقت لوگ جان ہتھیلی پررکھ کر اس دلیری سے ایک ہاتھ ہینڈل پر رکھے اوردوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے ”ہوسُنافیر‘‘ برانڈ گفتگوکرتے ہیں،جیسے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں