ٹور ڈی خنجراب: پہلی سائیکل ریلی کا تاریخی دن

ہارون رشید - بی بی سی اردو، گلگت بلتستان


خنجراب

BBC

واقعی تھی تو یہ محض چھاسٹھ کلومیٹر کی دوڑ لیکن ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریلی کے پہلے دن نے واضع کر دیا کہ برف پوش چوٹیوں میں گھرے دلکش قراقرم ہائی وے پر سائیکل چلانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔

یہ سو سے زائد پیشہ ور سائیکل سواروں اور چالیس کے قریب ‘شوقیہ فنکاروں’ کے صبر، سیمٹنے اور طاقت کا امتحان تھا جو انہوں نے دو سے لے کر چھ گھنٹوں میں اپنے اپنے بس کے مطابق پورا کیا۔

پہلی ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریلی کا شمالی علاقہ جات میں جعمے کو کئی ماہ کی عرق ریز تیاریوں کے بعد آغاز یقیناً ایک تاریخی دن تھا۔

اس خطے کے جفاکش لوگوں کو اسی ماحول دوست کھیل اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت تھی جو شاید آگے چل کر ایک مضبوط روایت بن سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے کمشنر عثمان احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خطے کو سائیکلنگ کا مرکز بنانا چاہتے ہیں اور تین مراحل پر مبنی ٹور ڈی خنجراب اسی سکیم کا ایک حصہ ہے۔

مزید پڑھیے

سائیکل پر 500 سو کلومیٹر سفر لیکن غلط سمت میں

ریلی کے پہلے دن گلگت سے راکاپوشی ویو پوائنٹ تک کی دوڑ میں افغانستان کی چار رکنی ٹیم اور سویٹزلینڈ کے شہری کی شرکت سے ظاہر ہوا کہ اس میں بین الاقوامی دلچسپی یقیناً ہے۔ یہ چھوٹا، محدود لیکن مثبت آغاز ہے۔ اگر اس کا انقعاد پرامن طریقے اور بہتر انتظام کے ذریعے کیا جاتا رہا تو یہ سائیکلنگ کے عالمی نقتشے پر اپنی جگہ بنانے کے تمام لوازمات رکھتی ہے بلکہ اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔

ایک تو یہ دنیا بھر میں سب سے اونچی سطح سمندر سے 15300 فٹ کے بلند مقام خنجراب پاس تک جاتی ہے اور دوسرا اسے دنیا کی سب سے اونچی پکی سڑک کی ریلی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

خنجراب، سائیکل

BBC

پاکستان میں پہلے دنیا کی چھت یعنی شندور پر پولو کھیلنے پر فخر ہے تو اب اس میں سائیکلنگ بھی شامل ہوگئی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے بعض ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفارت کاروں کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس میں شرکت نہ کرسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سترہ سفارت خانوں نے این اور سی کی درخواستیں ارسال کی تھی لیکن محض سات کو اجازت مل سکی۔ اگر یہ ریلی بین الاقوامی شکل اختیار کرنی ہے تو این او سی کی بابت حکام کو فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت؟

گلگت کے مرکزی پارک میں ایک رنگارنگ تقریب میں اس تاریخی ریلی کا آغاز ہوا۔ ایک مقامی بینڈ نے شرکا کو اپنے فن کے زبردست مظاہرے سے لطف اندوز کیا۔ نظر توڑنے کے لیے دھونی اور خوش بینی کے لیے مکھن روٹی کا بندوبست تھا۔ رنگ برنگے غباروں نے آسمان کو سجا دیا۔ جبکہ گلگت کے لوگوں نے بھرپور انداز میں سائیکل سواروں کو اس کے روٹ پر سڑک کے دونوں جانب تالیاں بجا کر داد دی اور ہمت بڑھائی۔ بچوں نے اپنی زبان میں نعرے لگا کر اور جملے کس کر خوب مزا اڑایا۔

ریلی میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی یعنی محض دو نے شرکت کی اور راکاپوشی تک ہمت نہیں ہاری۔ ریلی کے آغاز کا وقت بھی دوپہر دو بجے سائیکل چلانے والوں کے لیے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھنے والے سورج نے انتہائی مشکل بنا دیا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ وی آئی پیز کی خاطر اس تقریب کو لیٹ نہیں کیا جائے گا اور جتنی صبح یا ٹھنڈے پہر میں منعقد کی جائے اچھا ہے۔

پہلی مرتبہ شرکت کرنے والے شوقین افراد کے لیے معلومات کی فراہمی کہ کتنا مشکل ہے راستہ، کتنی چڑھائی یا اترائی ہے کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا۔ منتظمین کی تمام تر توجہ محض پیشہ ور سائیکل سواروں پر مرکوز تھی۔ منتظمین کو اس ریلی میں دلچسپی بڑھانے کے لیے شوقیہ فنکاروں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ بچوں اور خواتین کے لیے ان کی صلاحیت کے مطابق راونڈ منعقد کرنا ہوں گے۔

پاکستان فوج، سوئی ناردن گیس سمیت چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں میدان میں تھی۔

پہلا مرحلہ بلوچستان کے شاہ سواروں نے دو گھنٹے اور بیس منٹ میں ریس مکمل کر کے جیت لیا۔ اب سب کی نظریں زیادہ اونچائی کی وجہ سے زیادہ مشکل دوسرے اور تیسرے مراحل پر لگی ہیں۔ آکسیجن کی کمی بھی کئی کے لیے بڑا مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ خنجراب ہیر دے کم!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4878 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp