12مئی کو کیسے یاد کیا جائے؟


جب ریاست بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے حادثے کا حصہ بن جاتی ہے جہاں بات قتل عام تک پہنچ جائے تو وہ وہاں افسوس کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں ظلم کے شکار خاندان کو انصاف مشکل سے ہی ملتا ہے۔ ایسا ہی 12 مئی، 2007 کو ہوا تھا۔ جسے گزشتہ 11 برس سے سیاسی جماعتیں غم کے دن کے طور پر منا رہی ہیں، کیوںکہ اس روز 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے اور ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن کا تعلق اے این پی، پی پی پی اور ایم کیو ایم سے تھا۔ جو لوگ سندھ بالخصوص کراچی میں رہتے ہیں،  وہ اس طرح کی افسوسناک صورتحال دیکھتے رہے ہیں۔

12 مئی، 2007 کا دن ہماری پرتشدد سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اگر حکمرانوں میں اچھی سوچ پنپتی تو اس سے بچا جا سکتا تھا اور آج کوئی بھی اس دن کو یاد نہ کرتا۔ اس شہر نے گزشتہ 40 برسوں میں خاص طور پر 1977 کے مارشل لاء کے بعد بہت سے تباہ کن دنوں کا سامنا کیا ہے، جنہیں اگر یاد کرنے بیٹھیں تو پورا سال لگ جائے گا کیوں کہ یہاں مقامی اور عالمی دہشت گردی کے علاوہ لسانی، فرقہ واریت اور سیاسی تشدد کے باعث 50 ہزار افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ ان میں سے بہت سے واقعات میں ریاستی مشینری کے کردار پر سخت سوالات اٹھتے ہیں، اسی وجہ سے انصاف اس شہر میں ناپید ہے۔

12 مئی سے قبل، حیدر آباد کا قتل عام، 1988 میں کراچی کے علاقے قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی میں ہونے والی خون ریزی، سہراب گوٹھ، پکا قلعہ کی قتل وغارت گری اور ٹارگٹ کلنگ میں سینکڑوں ہلاکتیں جن میں اہم سیاست دان بھی شامل تھے۔ یہ تمام کیسز آزاد انکوائری کے انتظار میں ہیں ۔ یہ سب کراچی کی خونی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، جو روشنیوں کے شہر سے خون کے شہر میں تبدیل ہوا اور کم از کم امن بحالی کے لیے یہاں چار آپریشنز کیے گئے۔ لہٰذا اب تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کونسا راستہ ہے؟ انہیں برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اسلحہ سے پاک شہر اور سیاست ہونی چاہیئے۔ مخالفین کا احترام اور داخلی سیاسی تنازعات میں ریاستی اداروں کی عدم مداخلت پر یقین رکھنا چاہیئے۔ تاہم، کچھ روز قبل پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جو کچھ ہوا وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے اب تک کچھ زیادہ نہیں سیکھا۔ یہ 12 مئی کی یادگار کے حوالے سے منعقد کیے جانے والے جلسے کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، ایک جگہ کارکنان کے درمیان تصادم واضح طور پر ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی علامت ہے۔ کیا وہ تشدد کر کے اس دن کی یاد منانا چاہتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ لیڈرشپ کے دیر سے ہی سہی، درست اقدام نے مسئلہ سلجھا دیا اور دونوں جماعتوں نے اپنے جلسوں کے مقامات تبدیل کر لیے۔

12 مئی، 2007 کا دن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس وقت کے معزول چیف جسٹس پاکستان، جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سادہ سے جلسے کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال دیکھا تھا اور وہ بھی مبینہ طور پر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ہدایت پر ایسا ہوا تھا۔ انہوںنے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ سیاسی جماعتیں اسی صور ت کسی دن کو یاد رکھتی ہیں جب سیاسی کارکن ریاستی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ انہیں اس روز کو بھی یاد رکھنا چاہیئے جب سیاسی کارکنان نے عدلیہ کے وقار اور عدلیہ کی خود مختاری کی بحالی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، جو لوگ 12 مئی، 2007 کے حالات سنبھال رہے تھے انہوںنے خود اقرار کیا تھا کہ اگر سابق صدر اور ان کے ساتھیوں نے اپنی انا کو ہٹا کر حکومت سندھ کے کچھ سمجھدار عناصر کی مشورے پر ایک روز قبل (11مئی) کو عمل کرتے اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے سندھ ہائی کورٹ جانے کی اجازت دے دیتے تو حکومت جیت جاتی۔ اس وقت کے چیف سیکریٹری سندھ نےاس سانحہ سے متعلق اپنی خفیہ رپورٹ میں جو کہ وفاقی حکومت کو بھیجی گئی تھی،  جس میں بتایا گیا تھا کہ اصل میں ہوا کیا تھا اور اس سے کیسے بچا جاسکتا تھا، اس متعلق اظہار افسوس کیا تھا کہ ایک اچھے مشورے کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کے برعکس اسلام آباد کی جانب سے حکم تھا کہ انہیں (افتخار چوہدری) کو کسی بھی قیمت پر روکنا چاہیے۔ جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور یہ سب کراچی کے امن کی قیمت پر ہوا۔ اگر اس کی آزادانہ تحقیقات کرائی جاتیں تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے مرکزی افراد کا کردار سامنے آجاتا۔

پریزیڈنسی کے حکم نامے پر عمل پیرا ہونے کے سبب سیاسی محاذ پر سب سے زیادہ ناکام ایم کیو ایم ہوئی تھی ۔ 11 مئی،  2007 کو گورنر ہائوس میں ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں تمام متعلقہ عہدیداروں نے شرکت کی تھی،  جس میں کراچی کے انٹیلی جنس چیف، چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ شریک ہوئے تھے تاکہ کسی بھی متوقع تشدد سے بچنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ اگر کراچی بار ایسوسی ایشن، کے بی اے، سندھ ہائی کورٹ اور سب سے بڑھ کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریلی ملتوی کرنے کو تیار نہیں تو انہیں اجازت دے دی جائے ۔ یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ ایم کیو ایم سے درخواست کی جائے کہ وہ عوامی اجتماعات ملتوی کریں اور وکلاء کے جلوس بلاک کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ کچھ سینئر عہدیدار اور گورنر صدر سے بات کریں اور انہیں مشورہ دیں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد کو بلاک کرنے کی کوئی بھی کوشش مخالفین کو فائدہ پہنچائے گی اور تشدد بھی ہوسکتا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ جنرل مشرف نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اظہار رضا مندی کردیا تھا تاہم یہ کہا تھا کہ وہ انہیں بعد میں دیکھ لیں گے ۔

شام میں میجر جنرل ریٹائرڈ ندیم اعجاز نے پیغام بھیجا کہ ریلی کو روکا جائے۔ بعد ازاں ایک آرڈیننس جاری کرنے کا مشورہ دیا گیا،  جس کے تحت تمام ریلیوں پر 30 روز تک پابندی عائد کردی جائے۔ جس کا ڈرافٹ بھی تیار کرلیا گیا تھا اور اسے وزیر اعلیٰ کی منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے بھی روک دیا گیا تھا۔ رات دیر گئے جو رپور ٹس تھیں اس میں بڑے پیمانے پر تشدد سے متعلق آگاہ کیا گیا کیوں کہ اہم سیاسی جماعتوں نے معزول چیف جسٹس کو خوش آمدید کہنے کے لیےایئر پورٹ پر ریلیوں کا اعلان کیا تھا، جو انہیں سندھ ہائی کورٹ میں جلوس کی صورت لانا چاہتے تھے۔ ایم کیو ایم نے ایم اے جناح روڈ پر ایک علیحدہ عوامی اجتماع کا اعلان کیا تھا۔ اگلی صبح شہر کی وہ تمام سڑکیں جو ایئرپورٹ کی جانب جاتی تھیں بلاک کردی گئیں،  جس میں سروس روڈ بھی شامل تھے ۔ جب کہ شاہراہ فیصل مسلح افراد کے کنٹرول میں تھا جب کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اگر جلوس کو گزرنے کی اجازت دے دی جاتی اور سابق چیف جسٹس کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرلیتے تو کوئی بھی اس دن کو یاد نہ کرتا۔

آج 18برس گزرنے کے بعد بھی کوئی بھی اس بات کو بھلانے کو تیار نہیں کہ اس روز کیا کچھ ہوا تھا۔ سیاست میں وقت بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جب کہ دیر سے مانگی گئی معافی صرف تاریخ بن جاتی ہے۔ اگر کوئی 2007 میں وقوع پذیر واقعات کا جائزہ لے تو اس کے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ ہوگا کہ اس وقت کے پاکستان کے سب سے طاقتور حکمران،  جو نہ صرف صدر پاکستان تھے بلکہ آرمی چیف بھی تھے انہوں نے آٹھ برس کی حکمرانی کے بعد بہت سی غلطیاں کیں جس میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹانے سے لے کر لال مسجد، 12مئی کا واقعہ اور آخری اقدام ایمرجنسی کا نفاذ،  تاہم کسی سے بھی وہ بچ نہ سکے اور بالآخر ان کے پاس استعفیٰ کے سوا کوئی راستہ نہ رہ گیا اور وہ بھی شرمناک انداز میں، اب سب کو یہ دعا کرنی چاہیئے کہ 12مئی جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہو کیوں کہ یہ ملک اور یہ شہر پہلے ہی بہت خوںریزی دیکھ چکا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں