گیارہ اگست کا خطاب اور سیکولر انتہا پسندی


 asif Mehmoodگیارہ اگست کی تقریر کا حوالہ ہے اور اک شور مچا ہے: دیکھیے صاحب ! قائد اعظم تو سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔۔۔۔شور سے مجھے اقبال یاد آ گئے ۔روایت ہے جب آ غا حشر کاشمیری لاہور میں پہلی دفعہ آئے تو یہاں کی بزم ادب نے استقبالیہ مجلس منعقد کی۔وقت مقررہ پر حاضرین نے شور مچانا شروع کر دیا ’’ آغا حشر کو بلاؤ ‘‘ ۔اقبال بھی اس محفل میں موجود تھے۔اٹھے اور فی البدیہہ یہ شعر پڑھ دیا:

’’ شور ایسا ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات
آ ئیے لاہور کی یہ بزم ما تم دیکھیے‘‘

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم، میں یہ دعوت تو میں نہیں دے سکتا کہ آئیے لاہور کی یہ بزم ماتم دیکھیے لیکن شور ایسا ہی ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات۔’’ گیارہ اگست کی تقریر ، سیکولرزم سیکولرزم، ہائے سیکولرزم وائے سیکولرزم ‘‘ ۔تو جناب سوال یہ ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر میں سیکولرزم کہاں سے آ گیا؟ ذرا سمجھا دیجیے، غالب کے الفاظ مستعار لوں تو ’’ حضرت ناصح گر آئیں،دیدہ و دل فرش راہ ‘‘

یہ بنیادی بات گذشتہ کالموں میں بیان کی جا چکی ہے کہ ریاست کی نظری شناخت کا تعین اس بات سے نہیں ہو گا کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔علم کی دنیا میں یہ دلیل اجنبی ہے۔پاکستان کی فکری شناخت کے تعین کی دو صورتیں ہیں۔ اول مذہبی بیانیہ، اس میں حتمی فیصلہ قرآن و سنت کا ہے کسی اور شخصیت کا جتنا بھی احترام ہو اس کی رائے کو دینی احکامات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔دوم: سیکولر بیانیہ ،اس میں صرف عوام الناس فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس شناخت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے ۔اس میں پارلیمان اگر اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتی ہے تو پھر کوئی شخصی رائے اسے سیکولر نہیں بنا سکتی۔پاکستان کی فکری شناخت کے باب میں حجت بنائے بغیر البتہ قائد کی فکر کا مطالعہ ہونا چاہیے کہ وہ کس رجحان کے آدمی تھے۔

اب آئیے گیارہ اگست کی تقریر کی جانب۔دو سوال بہت اہم ہیں۔اول، کیا اس تقریر سے اس تاویل کی کوئی گنجائش نکلتی ہے کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے؟۔دوم،کیا قائد شناسی کے باب میں ہم مجبور ہیں کہ صرف گیارہ اگست کی تقریر کو دیکھیں ؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟

پہلے سوال کے جواب میں ہم گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی سے قائد اعظم کے خطاب کے متعلقہ اقتباسات دیکھتے ہیں۔قائد نے فرمایا: ’’ آپ آزاد ہیں۔آپ اس معاملے میں آزاد ہیں کہ ریاست پاکستان میں آپ مندر مسجد یا کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں۔ریاست کے معاملات سے اس بات کا کوئی تعلق نہیں کہ آپ کس مذہب ،ذات یا نسل سے تعلق رکھتے ہیں ‘‘۔

’’ آپ دیکھیں گے کہ عنقریب یہاں نہ ہندو ہندو رہیں گے اور نہ مسلمان مسلمان۔دین کے اعتبار سے نہیں ،اس لیے کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں، ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے ‘‘

یہ اہم ترین دو اقتباسات ہیں جن کی بنیاد پر سیکولرزم کا مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ان اقتباسات میں سے سیکولرزم برآمد کرنے والے حضرات کا یا تو فہم اسلام ناقص ہے یا وہ فکری دیانت سے کام نہیں لیتے۔ان حضرات کے نزدیک کیا اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوؤں کو اپنے مندروں میں جانے کی اجازت نہ دی جائے؟ اسلام کب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی ریاست میں موجود غیر مسلموں کو رسوا کر دیا جائے ؟انہیں مندروں اور گرجوں میں جانے سے روک دیا جائے اور شعبہ ہائے زندگی کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں؟ہم جانتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کا تعین دو طرح سے ہوتا ہے ۔ایک وہ غیر مسلم جو جنگ کے بعد مفتوح کی حیثیت سے ریاست کے شہری بنے ہوں۔ انہیں ذمی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ غیر مسلم جو کسی معاہدے کے نتیجے میں ریاست کے شہری بنے ہوں۔انہیں معاہد کہتے ہیں۔انہیں مسلم شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان کے غیر مسلم ذمی نہیں ۔ان کی حیثیت معاہد کی ہے۔انہیں اسلام وہ تمام حق دیتا ہے جن کا ذکر قائد اعظم نے اپنی تقریر میں کیا۔اس بات کو میثاق مدینہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔میثاق مدینہ وہ معاہدہ تھا جو رسالت مآب ﷺ نے مدینہ کی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے یہودی قبائل کے ساتھ کیا۔اس معاہدے میں لکھا گیا کہ تمام تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہو گی۔اور بنی عوف کے یہود سیاسی حیثیت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جائیں گے۔رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور ان کے موالی اپنے دین پر۔میثاق مدینہ کے ان نکات کی روشنی میں اب قائد اعظم کے گیارہ اگست کے خطاب کو دیکھیے۔میثاق مدینہ نے بنی عوف کے یہودیوں کو سیاسی اعتبار سے امت تسلیم کیا اور قائد اعظم کہہ رہے ہیں کہ سیاسی حیثیت سے نہ ہندو ہندو رہیں گے نہ مسلمان مسلمان۔میثاق مدینہ کہ رہا ہے کہ یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اپنے دین پر اور گیارہ اگست کی تقریر کہہ رہی ہے کہ دین کے اعتبار سے نہیں کہ وہ ہر شخص کا انفرادی عقیدہ ہے۔ چنانچہ ہیکٹر بولیتھو نے ’’ جناح۔دی کری ایٹر آف پاکستان ‘‘ میں گیارہ اگست کی تقریرپر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : ’’الفاظ جناح کے تھے۔خیالات اور عقائد رسول اللہ ﷺ سے لیے گئے تھے ‘‘۔ہا ئیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفے میں نام کمانے والے کانسٹنٹ ورجل جیورجیولکھتے ہیں: ’’ ہمیں ماننا پڑے گا کہ محمد ﷺ نے اس قانون اساسی میں جو تمام مذاہب کو آزادی دی ہے وہ قرآن سے الہامی طور پر ماخوذ ہے۔۔۔سابق ادیان کے بانیوں میں سے کوئی بھی محمد ﷺ کی نسبت رواداری اور مدارات کا قائل نہیں گذرا۔آپ کی یہ اعلی کوشش تھی کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ پوری آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔مزید اطمینان ان کو دلایا گیا کہ کوئی ان کے مزاحم نہ ہو گا‘‘۔ میثاق مدینہ میں جو اصول طے کر دیے گئے تھے قائد اعظم کی تقریر انہی اصولوں کا ابلاغ تھی۔وہ جانتے تھے کہ ایک ایسی ریاست وجود میں آ رہی ہے جسے وہ اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے طے کر دیا کہ غیر مسلموں کے ساتھ اسی حسن سلوک سے معاملہ کیا جائے گا جو میثاق مدینہ میں کیا گیا۔اب جنہیں اس تقریر میں سیکولرزم نظر آتا ہے وہ اپنے فہم اسلام کے بارے میں متفکر ہوں۔

اب آتے ہیں دوسرے نکتے کی طرف ۔کیا قائد شناسی کے باب میں واحد ذریعہ گیارہ اگست کی تقریر ہے؟کیا یہ قائد اعظم کا واحد دستیاب خطاب ہے اور ان کی فکر سے آ گہی اور ریاست کی نظریاتی شناخت کے تعین کا واحد ذریعہ ہے؟اس کا جواب نفی میں ہے۔قائد کی ڈھیروں تقاریر موجود ہیں جن میں انہوں نے واضح طور پر اسلام کی بات کی ہے۔تاہم سیکولر نفسیات کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ان تقاریر سے چند حوالے پیش خدمت ہیں جو گیارہ اگست کے بعد کی گئیں تا کہ سیکولر احباب یہ نہ کہیں کہ گیارہ اگست کے خطاب میں قائد اعظم نے اپنی ابتدائی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔گیارہ اگست کی تقریر کے چھ ماہ بعد قائد اعظم نے فروری 1948میں سبی دربار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ یہ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات ان سنہری اصولوں پر عمل کرنے میں ہے جو ہمیں ہمارے عظیم قانون ساز پیغمبر اسلام نے دیے۔آئیے ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں‘‘ ۔تذکیر کے طور پر عرض کروں کہ قائد کے الفاظ تھےGolden rules set for us by our great law giver. the prophet of Islam. ۔ان الفاظ میں عشق رسول ﷺْکاجو والہانہ پن موجود ہے ذرا اس پر غور فرمائیے۔کیا یہ سیکولرزم ہے؟

قائد کی زندگی کی آخری تقریب وہ تھی جب وہ یکم جولائی 1948کوسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے لیے تشریف لے گئے۔آپ نے اس موقع پر فرمایا:’’ سٹیٹ بنک مملکت کے لیے ایک ایسا ٹھوس اقتصادی نظام وضع کرے گا جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گا۔میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی مجلس تحقیق بنکاری کے ایسے طریقے کیسے وضع اور اختیار کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں ‘‘ ۔مقام حیرت ہے کہ قائد کا اشتیاق اور دلچسپی اسلام میں ہے لیکن سیکولر حضرات فرماتے ہیں قائد رحلت فرما گئے تودستور ساز اسمبلی میں بیٹھے سازشیوں نے قرارداد مقاصد منظور کرا لی۔

دستور ساز اسمبلی کے حق دستور سازی پر انگلیاں اٹھانے والے سیکولر حضرات کو قائد اعظم کے امریکی عوام کے نام پیغام کو توجہ سے پڑھ لینا چاہیے۔آپ نے فرمایا’’ پاکستان کا آئین ابھی آئین ساز اسمبلی نے ترتیب نہیں دیا ۔میں نہیں جانتا یہ آئین کون سی حتمی شکل اختیار کرنے جا رہا ہے لیکن میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک جمہوری آئین ہو گا جو اسلام کے اہم اصولوں کے مزین ہو گا ‘‘۔

سیکولر احباب سے گذارش ہے کہ وہ شور بے شک مچائیں۔لیکن فکری دیانت ملحوظ خاطر رکھیں۔جس رویے کا وہ ابلاغ فرما رہے ہیں علم کی دنیا میں اسے اجنبی تصور کیا جاتا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

13 thoughts on “گیارہ اگست کا خطاب اور سیکولر انتہا پسندی

  • 21-04-2016 at 6:24 pm
    Permalink

    بہت زبردست، واضح اور مدلل مؤقف
    یہ ھے صحیح مقدمہ کی اساس۔۔۔۔۔ تاھم قائد کے کسی بھی خطاب سے تھیوکریسی کی حمایت کی جھلک نہیں ملتی۔۔۔پاکستانی سیکولر احباب شاید (موجودہ رویوں کے تناظر میں) تھیوکریسی کا مخالف بیانیہ ترتیب دینے کی سعی میں مصروف ہیں۔ اس زاویے سے ان کی کاشیں بعض جدید اسلامی فکر کے حامل حلقوں میں بھی مقبول ھیں جیسا کہ محترم غامدی ریاست کو(ان معنوں میں) سیکولر رکھنے کے حامی ھیں۔

  • 21-04-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    اس زاویے سے ان کی” کاوشیں” بعض جدید

  • 21-04-2016 at 7:01 pm
    Permalink

    Our liberal seculars have come up with a new interpretation of Quaid’s speeches. In his recent column, Adnan sb gave the examples of the likes of Shebaz Sharif and Imran khan to validate the double speak of Quaid. Such is the low intellectual level of our esteemed friends.

    • 21-04-2016 at 10:40 pm
      Permalink

      baani-e-pakistan ne pakistan ko tajurbah-gah yani labortary qarar diya, jahan pr islam k principles experiment kiye jayenge. agr ye correct hai to phr hamen as nation ye tasleem krna hoga ke experiment fail ho chuka hai. ab hamen aql se kaam lete hue un akabreen ko bi samjne ki koshsh krna chahiye jo iss experiment k consequences se buhht pahle na sirf aagah balke khabrdar krte rahe. iss ka nuqsan hum uthaa chuke hain ab sudharne ka time hai. warna to tabahi aur barbady hai

  • 21-04-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    یہی تو سیکولرازم ہے کہ ریاست کی نظر میں سب شہری برابر ہیں اور سب اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کو آزاد ہیں۔ اور سیکولرازم کیا ہوتا ہے؟ یہی میثاق مدینہ میں کہا گیا تھا جو آپ نے خود بیان فرمایا اور اسی بناء پر میرا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ ایک سیکولر ریاست تھی۔ اس کے حکمران اور چلانے والوں کا تو ایک دین تھا لیکن اس ریاست کا اپنا کوئی دین نہیں تھا۔ اور اگر تھا بھی تو یہی کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے اور سب کو اپنے اپنے دین پر عمل کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔
    اب جہاں تک ’’ذِمِّی‘‘ کی بات ہے تو خود کلمہ گوؤں کو ایک حدیث میں ذِمِّی کہا گیا ہے کہ جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ مسلمان ہے اور اس کا ذمہ اللہ اور رسول نے لیا ہے۔ اس طرح سب مسلمان ذِمِّی ہیں۔ شہری مفتوح علاقوں کے ہوں یا کسی اور طرح کے، اسلام کی نظر میں سب برابر ہیں۔

  • 21-04-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    آصف محمود صاحب نے بہت خوبصورت اور مدلل انداز میں یہ مقدمہ پیش کیا ہے؛ان کے بیانئے سے اختلاف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی مگر اس سارے مقدمے کی بنیاد میں ایک بہت بڑی غلط فہمی کا عنصر شامل ہے اور وہ ہے سیکولرازم کے تعریف،جس کی تشریح انصر رضا صاحب نے بھی کردی ہے۔دائیں بازو اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد میں بنیادی طور پر سیکولرازم کی تعریف کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے،اول الذکر اسکو مذہب سے قطعی طورالگ سمجھتے ہیں (حالانکہ وہ دہریت ہے ،سیکولرازم نہیں) اور آخرالذکر اسکو مذہب کے خلاف نہیں سمجھتے۔ آصف محمود صاحب نے جس ریاستی بیانئے کو پیش کیا ہے ،جو میثاق مدینہ کا حصہ تھا اور جسکو قائداعظم نے بھی لاگو کرنے پر زور دیا ،کیا وہ پاکستان میں رائج ہے؟ ایمانداری سے بتائیں کیا واقعی ریاست پاکستان مذہبی معاملات میں ہمیشہ غیرجانبدار رہی ہے؟ کیا یہاں کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب یکساں حقوق حاصل ہیں؟ کیا یہاں اقلیتیں محفوظ ہیں؟ اگر تو ان تمام سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے اور اسکا جو بھی نام رکھ لیں کوئی حرج نہیں۔

  • 22-04-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    قائداعظم کا پاکستان نہ سیکیولر ہے نہ ملائیت کا شکار بلکہ اسلام کی اصل اساس پر مبنی نظام ہے جس کا مطالبہ قیام پاکستان کا ثبب بنا اور آج بھی پاکستان کی سادہ اکثریت اسی مطالبہ پر قائم ہے مگر کچھ ناسمجھ مگر مخلص دانشوروں اور کچھ ضرورت سے زیادہ سمجھدار یا ہوشیار لکھاریوں کی کارستانی ہے کہ جو چیز روز اوّل سے اظہر من الشمس تھی اُسے اپنی رائے کی رنگ آمیزی میں دھندلانے کی کوشش یا سازش کی گئی، بعینہِ ایسے جیسے اسلام کا پیغام بین ہے مگر بعد والوں نے اپنے حساب سے اسے ڈھالنے کا بیڑا اٹھا کر گویا امت کا بیڑا غرق کردیا

  • 22-04-2016 at 7:16 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ، برادرم آصف آپ نے موضوع کا حق ادا کر دیا۔ جزاک اللہ۔

  • 22-04-2016 at 8:18 pm
    Permalink

    حضور گیارہ اگست کے صرف دو دن بعد قائدِ اعظم نے چودہ اگست کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کیا تھا۔۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں اکبر بادشاہ کی سی رواداری قائم کرنے کی نصیحت کی تو قائد نے اپنی تقریر میں اس کا منہ توڑ جواب دیا اور فرمایا کہ ہمیں رواداری کے اصول اکبر بادشاہ سے لینے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہمیں چودہ سو سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توسط سے مل چکے ہیں۔

    . As servants of Pakistan we shall make them happy and they will be treated equally with our nationals. The tolerance and goodwill that great Emperor Akbar showed to all the non-Muslim is not of recent origin. It dates back thirteen centuries ago when our Prophet not only by words but by deeds treated the Jews and Christians, after he had conquered them, with the utmost tolerance and regard and respect for their faith and beliefs. The whole history of Muslims, wherever they ruled, is replete with those humane and great principles which should be followed and practiced.

  • 23-04-2016 at 12:21 am
    Permalink

    عجیب معاملہ تو یہ بھی ہے کہ کہا جاتا ہے: “اسلام کب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی ریاست میں موجود غیر مسلموں کو رسوا کر دیا جائے ؟”

    غیر مسلموں سے جزیہ ذلیل و رسوا کرنے کی خاطر ہی لیا جاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

    “یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔” (التوبہ: 29)

    امام ابن کثیر رح نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: “پس (اللہ) فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔”
    (تفسیر ابن کثیر مترجم، ج2 ص550، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

    ایک اسلامی ریاست و حکومت غیر مسلموں کے لئے اس کے علاوہ کوئی آپشن رکھتی ہی نہیں کہ یا تو وہ مسلمان ہو جائیں یا پھر ذلیل ہو کر جزیہ دیں یا پھر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ اوپر مذکورہ آیت مکمل کچھ یوں ہے:

    “ان لوگوں سے لڑو جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہلِ کتاب ہیں یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔” (التوبہ: 29)

    اسی طرح حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کسریٰ کے عامل سے مخاطب ہو کر کہا: “ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تم سے جنگ کریں، جب تک تم اکیلے اللہ کی عبادت نہ کرو یا جزیہ نہ دو۔” (صحیح بخاری، حدیث 3159)

    حضرت خالد بن ولید نے بھی اہل فارس کے نام خط میں لکھا: “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”
    (مجمع الزوائد: 310/5، امام ہیثمی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)

    لہٰذا ایک اسلامی ریاست و حکومت کے زیر اثر غیر مسلموں کی ذلت حربی و غیر حربی ہونے سے بھی ہرگز مشروط نہیں بلکہ راہ چلتے غیر مسلموں کو بھی ذلیل کرنا اسلامی احکامات میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کوئی راستے میں مل جائے تو اُسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔” (صحیح مسلم، حدیث 5546 طبع دارالسلام)

    امام ترمذی لکھتے ہیں: “بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے نا پسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو ان کی تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیوںکہ اس میں بھی ان کی تعظیم ہے۔” (سنن ترمذی، تحت حدیث 1602)

    سیکولرازم کسی نے ماننا ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے لیکن اس ضمن میں اسلام کو تو تروڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے بلکہ پھر اس کے مندرجہ بالا صریح احکامات بھی عوام کے سامنے پیش کئے جانے چاہئیں۔ اس ضمن میں ایک بھائی نے حضرت عمر کے یروشلم کی فتح کے وقت کئے معاہدے کا ذکر بھی کیا ہے تو عرض ہے کہ اس کے لئے بنیادی ماخذ رجوع کئے جانا چاہئیں۔ حضرت عمر نے شام کو فتح کرتے وقت جن شرائط پر وہاں کے غیر مسلموں سے صلح کی تھی وہ امام ابن کثیر نے اپنی مشہور تفسیر میں سورۃ توبہ کی آیت 29 کے تحت درج کی ہیں۔ شوق رکھنے والے ملاحظہ فرما لیں۔

  • 23-04-2016 at 1:11 am
    Permalink

    یہ کہنا بھی محل نظر ہے کہ “وہ غیر مسلم جو کسی معاہدے کے نتیجے میں ریاست کے شہری بنے ہوں۔انہیں معاہد کہتے ہیں۔انہیں مسلم شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہوتے ہیں۔پاکستان کے غیر مسلم ذمی نہیں ۔ان کی حیثیت معاہد کی ہے۔”

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے مستقل معاہد کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ معاہدے جن سے بھی کئے گئے صرف وقتی طور پر کئے گئے اور بعد میں ان سے جنگ ہی کی گئی۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “جن لوگوں سے عہد ہو چکا تھا، ان کے لئے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لئے حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کی حد بندی مقرر کر دی۔۔۔۔۔ اس مدت کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے جنگ کی اجازت دے دی گئی جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔” (تفسیر ابن کثیر مترجم، ج2 ص529)

    اسی طرح یہ بھی خیال رہے کہ اسلامی ریاست یہ حق بھی رکھتی ہے کہ محض دوسروں کے معاہدہ توڑنے کے خوف اور دغابازی کے ڈر سے جب چاہے تو خود معاہدہ ختم کر دے۔ دیکھئے الانفال (آیت 58)

  • 24-04-2016 at 1:04 am
    Permalink

    نقد کرنے سے پہلے جا کر یہ تو دیکھ لیجئے کہ ذلیل کا لفظ کیا عربی میں استعمال ہوا بھی ہے کہ نہیں جو خوامخواہ عربی زبان کی تاویل لے رہے ہیں۔ یہ ترجمہ خود علماء نے ہی کر رکھا ہے اور وہ آپ سے بہتر عربی جانتے ہیں۔ دوسرا میں نے صرف ایک آیت پیش نہیں کی بلکہ وہ دلائل بھی دے دیے ہیں جن میں صاف موجود ہے کہ ایک اسلامی حکومت جزیہ کے علاوہ اور کوئی آپشن غیر مسلموں کے لئے رکھتی ہی نہیں کہ یا تو سب مسلمان ہو جائیں یا پھر لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں نہیں تو خاموشی سے ذلیل ہو کر جزیہ دیں۔

  • 26-04-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    سوال تو یہ بھی ہے کہ اسلام کو نافظ کرنے کا مطالبہ کرنے والے خود کتنے مسلمان ہیں ۔ 99 فیصد مسلمان جھوٹ بولتے ہیں 90 فیصد کرپشن کرتے ہیں 99 فیصد سیاست دان کرپٹ ہیں ۔ اب تک مذہب کے نا م پر جو تگنی کا ناچ عوام کو نچایا جاتا رہا ہے وہ کیا کم ہے یہ جاننےکے لئے کہ یہاں مذہبی ریاست نہیں بلکہ انصاف پر مبنی انسانی فلاحی ریاست کی ضرورت ہے ۔

Comments are closed.