نواز شریف، بچوں کو ڈرانے والا بھاؤ اور الیکٹ ایبل


حسب توقع الیکٹ ایبل خواتین و حضرات جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان میں مسلم لیگ ن کے اراکین بھی شامل ہیں۔ میاں نواز شریف نے سیرل المیڈا کو انٹرویو میں ان کے بارے میں بتایا کہ ”انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی، انہیں اٹھا کر لے جایا گیا ہے۔ انہیں کون لے گیا ہے؟ “

آپ اپنے بچپن میں باہر اندھیرے میں بیٹھے ہوئے بھاؤ سے خوب ڈرے ہوں گے اور آپ نے اپنے بچوں کو بھی بھاؤ سے خود ڈرایا ہو گا۔ اب بچہ تو ڈر ہی جاتا ہے۔ اب میاں صاحب اگر خود بھاؤ سے ڈرے رہتے ہیں تو ان کے یہ جماعتی الیکٹ ایبل بچے کیوں نہیں ڈریں گے؟

سیرل المیڈا نے ہی ڈان لیکس کی خبر دی کہ چھوٹے میاں صاحب کچھ تنظیموں کے بارے میں شاکی ہیں کہ ان کی پولیس انہیں پکڑتی ہے تو وہ چھڑوا دیے جاتے ہیں۔ ڈان لیکس کے شائع ہونے کے بعد ہنگامہ برپا ہوا تو میاں صاحب واضح طور پر خوف کا شکار دکھائی دیے۔ پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے میاں صاحب کو یہ قانونی اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی بھی میٹنگ یا دستاویز کو پبلک کرنے کا حکم دیتے۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ اپنی اتھارٹی کا واضح اظہار کرتے اور کہتے کہ یہ خبر میری اجازت دے دی گئی ہے، وہ بھاؤ سے ڈر گئے اور انہوں نے اپنی پارٹی کے گنے چنے ڈیموکریٹس میں سے ایک پرویز رشید کو قربان کر دیا کہ میں تو معصوم ہوں، یہ ہی شریر لگتا ہے۔

اب اس نئے انٹرویو میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ”جہادی تنظیمیں ایکٹو ہیں۔ آپ انہیں نان سٹیٹ ایکٹر کہیں، لیکن کیا ہمیں یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ بارڈر پار کر کے ممبئی میں 150 افراد کو قتل کر دیں؟ مجھے بتائیں، ہم یہ مقدمہ کیوں مکمل کر نہیں سکتے؟ یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی ہم کوشش کر رہے ہیں۔ (روسی) صدر پوتن نے کہا ہے۔ (چینی) صدر ژی نے یہ کہا ہے۔ افغانستان کی بات سنی جا رہی ہے لیکن ہماری نہیں“۔

سوال یہ ہے کہ بطور وزیراعظم انہوں نے مقدمہ پورا کر کے فیصلہ سنانے کا حکم کیوں نہیں دیا؟ کم از کم ان کا موقف تو ریکارڈ پر آ جاتا۔ ان سے زیادہ دلیر تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی رہے ہیں۔ انہوں نے ممبئی حملے پر اپنا حکم دیا۔ خواہ ہم اس حکم کو جتنا مرضی احمقانہ سمجھیں، لیکن انہوں نے جو ٹھیک سمجھا وہ کہا۔ بعد میں دباؤ پر ان کو وہ حکم واپس لینا پڑا۔ ان کی اپنی ذات تو صاف دکھائی دی کہ بطور وزیراعظم انہوں نے اپنا اختیار استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیا میاں نواز شریف نے کبھی بھی ایسی کوشش کی ہے اور عوام کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے؟ جبکہ میاں نواز شریف اندھیرے میں باہر کھڑے بھاؤ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اپنے دوستوں کو بلاجھجک قربان کرتے ہیں۔ کیا میاں نواز شریف نے ان جہادی تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا حکم دیا جن پر اب وہ اتنا سیاپا کر رہے ہیں؟ میاں صاحب خود تو وزیراعظم کے آئینی اور قانونی اختیارات استعمال کرتے نہیں ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالتے ہیں کہ وہ مجھے ڈراتا ہے۔

جب الیکٹ ایبل یہ دیکھتے ہیں کہ میاں نواز شریف خود تو بھاؤ سے اتنا زیادہ ڈرتے ہیں تو وہ باہر اندھیرے کی بے یقینی میں خود کیوں اکیلے جائیں اور بھاؤ کا سامنا کریں؟ جبکہ ان کو یہ پتہ ہے کہ وہ ایک فون پر ہی تحریک انصاف میں بلا جبر و اکراہ شامل ہو گئے تو ان کے اگلے پانچ برس وزارت کے مزے لوٹتے گزریں گے اور اس کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت دوبارہ آ گئی تو ان کو مشاہد حسین اور زاہد حامد کی طرح کھلے دل سے مسلم لیگ نون واپس قبول کرے گی اور عہدوں سے نوازے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 901 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar