سیاسی بساط، قانون اور ہوا کا رُخ


حالیہ دنوں میں پاکستانی بری افواج کے کمان دار جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک تصویر اخباروں کی زینت بنی ہے جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ ایک پاکستانی طالبہ کے ساتھ شطرنج کھیلتے نظر آرہے ہیں۔ آج کل ہماری افواج کا شعبہ تعلقات عامہ رابطہ کے حوالہ سے خاصا سرگرم عمل ہے۔ پاکستانی سکولوں کے طالب علم جی ایچ کیو میں جاکر افواج کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ اس تصویر میں جنرل صاحب کوئی چال چلتے نظر آرہے ہیں۔ ان کے اردگرد دیگر طالب علم اور جنرل صاحب کا عملہ بھی نظر آرہا ہے اور تعلقات عامہ کے سربراہ کا چہرہ بہت ہی خوشگوار ہے اور وہ اپنے چیف کی چال کو پسند بھی کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف جو طالبہ ہے وہ بھی بڑی توجہ سے کھیل میں شامل نظر آرہی ہے۔ اس تصویر کے حوالہ سے جو پریس نوٹ اخباروں میں شائع ہوا ہے اس کے مطابق جنرل باجوہ نے اعتراف کیا ہے ”پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ہماری نوجوان نسل ہی ہماری اصل میں دفاعی صلاحیت ہے۔ “ آرمی چیف نے جذبہ خیرسگالی کے تحت شطرنج بھی کھیلی۔

مجھے یہ تصویر بہت ہی بھلی سی لگی۔ فوج کے بارے میں ہمارے سیاست دان جس قسم کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں یہ تصویر ان کی باتوں کا اثر کم کرتی نظر آتی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے اس تصویر پر تبصرہ بھی کیا ہے۔ ہمارے دوست کا تعلق اشرافیہ سے ہے اور شکر ہے وہ سیاست دانوں کی طرح زیادہ سیاسی باتیں نہیں کرتے۔ میری ان سے بحث جمہوریت کے تناظر میں رہتی ہے۔ وہ جمہوریت کے طرزِ فکر کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے طرز عمل نے ملک میں جمہوریت کا مستقبل برباد کردیا ہے اور لوگ اس طرح کی جمہوریت سے خائف ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا۔ جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت ہے کہ ووٹر کی۔ ان کا جواب تھا ووٹر کو عزت دو اور ووٹ اور پرچی دونوں ہی بدنام ہورہے ہیں۔

میرے دوست کا تصویر پر تبصرہ بھی خوب تھا۔ تبصرہ سے پہلے کہنے لگا ”اس تصویر سے تو یوں لگتا ہے کہ ابھی شطرنج بچھائی ہے اور مہرے دیکھے جارہے ہیں اور کھیل کے اس مرحلہ پرجنرل باجوہ مہروں سے زیادہ فیل (ہاتھی )اور رخ کا جائزہ لے رہے ہیں اور طالبہ کی چال کے جواب میں وہ چال نہیں چلنا چاہتے صرف باور کروانا چاہتے ہیں کہ شطرنج کے کھیل میں تجربہ آپ کے کھیل کی عمر بڑھا دیتا ہے اور اس کے لیے مہروں کو مارنا ضروری نیں ہے، اور نہ ہی ملکہ، فیل اور رخ کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے جبکہ طالبہ بھی حیرانگی سے اس منفرد چال کو دیکھ رہی ہے اور طالبہ کے ساتھی بھی حیرانگی اور خوشی سے کھیل میں شریک نظر آرہے ہیں جبکہ جنرل صاحب کا عملہ بھی خوش ہے کہ چال نے شطرنج کے کھیل کو نیا رخ دے دیا ہے۔ “

مجھے اپنے دوست کا تبصرہ اچھا لگا۔ میں نے اس تصویر میں سے طالبہ کو علیحدہ کرکے صرف جنرل باجوہ اکیلے کی تصویر شطرنج کھیلتے نظر آنے والی بنائی اور ایک سیاسی دوست کو دکھائی۔ اس نے تصویر کودیکھا اور مجھے کہنے لگا۔ یہ فوجی شطرنج کب سے کھیلنے لگے۔ میں نے جواب دیا یہ شاہی کھیل ہے اور فوجی میدان جمانے کے لیے اس کھیل کو پسند کرتے ہیں اور جنرل صاحب تو ویسے ہی بساط کو پسند نہیں کرتے۔ شوقیہ طور پر کھیلتے نظر آرہے ہیں ویسے تمہارا کیا خیال ہے۔ ا س نے مجھے تشویش بھری آنکھوں سے دیکھا۔ کہنے لگا اعتبار نہیں آرہا ہے کہ تصویر کیسے بن گئی۔ میں نے کہا۔ بھائی کھیل ہے اور کھیل کے حوالہ سے ہی تبصرہ کردو۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا اور میرے آئی پیڈ پر تصویر کو غور سے دیکھتا رہا۔ پھر کہنے لگا کیا کسی اور نے تبصرہ کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ ہمارا مشترکہ دوست سالک اس پر تبصرہ کرچکا ہے۔ اچھا اس نے کیا تبصرہ کیا ہے۔ میں نے کہا۔ وہ تو بعد کی بات ہے تمہارے من میں اس تصویر کے بارے میں جو کچھ ہے وہ بیان کرو۔

وہ پھر بھی کچھ دیر کو چپ رہا۔ پھر گویا ہوا۔ ”اس شطرنج کے کھیل کی بساط کیوں جنرل صاحب کے سامنے بچھائی گئی ہے۔ جب کھیل شروع ہے تو معلوم نہیں کہ جنرل صاحب کس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کمان دار صرف شطرنج کے مہروں کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ چال چلنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے ویسے ان کا عملہ خوش ہے کہ چال نہیں چل رہے۔ “

اب میں نے اپنے ایک تیسرے دوست کو فون کیا جو نوکرشاہی کا اعلیٰ افسر ہے۔ میں نے اس کو بتایا کہ آج کے اخبار میں تصویر دیکھی ہے۔ وہ بولا کونسی تصویر۔ میں نے بتایا آرمی چیف فوجی ہیڈکوارٹر میں طالب علموں کی جماعت کے ساتھ شطرنج کھیل رہے ہیں۔ ہاں ہاں میں نے بھی دیکھی ہے۔ جنرل صاحب بڑے فارم میں نظر آرہے ہیں اور جنرل غفور بھی کافی خوش نظرآ رہے ہیں۔ میں نے اس کو ٹوکا اور پوچھا بھائی تم اس تصویر پر تبصرہ کرو۔ وہ ایک دم خاموش سا ہوگیا اور بولا تبصرہ کیوں۔ کیسی ایک اچھی تصویر ہے اور طالب علم کھیل سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور بس۔ میں نے اس سے پوچھا۔ عام عوام اس سے کیا تاثر لیں گے وہ پوچھنا ہے۔ عوام کی سمجھ ذرا مخدوش ہے۔ ہمارے سیاست دان اس تصویر کو پسند نہیں کریں گے۔ اصل میں وہ ہی اس کھیل کے راکھیل ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے عوام کے ساتھ شطرنج کھیل رہے ہیں۔ عوام بھی مہرے ہیں اور آئے دن قربان ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے اس کو پھر ٹوکا اور پوچھا۔ کیا شطرنج کی بساط کو نظام کا نام دے سکتے ہیں۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔ نظام ہوگا تو کھیل ہوگا اور بھائی ہم سرکاری ملازم تو ہیں ہی مہرے۔ نہ جانے کب کونسی چال ہماری حیثیت مشکوک کردے اور ہم قربان ہوجائیں۔ مجھے اس کا تبصرہ اچھا لگا۔ اب اس نے مجھ سے پوچھ ہی لیا کہ تم اس تصویر تبصرہ کرو۔

اب میرے سوچنے کی باری تھی۔ اس تصویر میں جو طالبہ کھیل رہی ہے وہ بڑی پراعتماد ہے اور اس کے پیچھے کھڑے لوگ بھی شطرنج اور بساط پر نظریں جمائیں ہیں۔ دوسری طرف جنرل باجوہ اپنے مہروں کودیکھ رہے ہیں اور چال کا سوچ رہے ہیں اور ان کا عملہ ان کی چال کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہے۔ جنرل آصف غفور اس لیے خوش ہیں کہ دونوں طرفین شاطر نہیں ہیں اور صرف کھیل جذبہ خیر سگالی کی وجہ سے کھیلا جارہا ہے۔ ویسے ہمارے ملک میں میں سیاسی لوگ بھی اس وقت شطرنج ہی کھیل رہے ہیں مگر فیصلے بساط پر نہیں قانون اور اصول پر ہوں گے۔ سنا ہے اعلیٰ عدلیہ کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔ بس اس سارے کھیل کا صرف ”رُخ‘’ ہی بدل سکتے ہیں۔ وہ بھی ہوا کا رُخ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں