اقبال اور اشتراکیت


اقبال نے اپنی نظم و نثر میں اشتراکیت کی روح ایسے پھونک دی تھی کہ آج کے زمانے میں اگر یہ کہا جائے کہ اقبال سوشلسٹ تھے تو اعتراض کرنے والے کافی کم ہوں گے۔ ان کی نظم جس میں ایک مشہور و معروف شعر ہے کہ

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

اس نظم کے بارے میں خلیفہ عبدالحکیم نے لکھا تھا کہ اگر اس کا روسی زبان میں ترجمہ ہو کر لینن کے سامنے پیش کیا جاتا تو وہ اسے بین الاقوامی اشتراکیت کا ترانہ بنانے پر آمادہ ہو جاتا اور کہ یہ نظم اشتراکی لائحہ عمل کا لب لباب ہے اور محنت کشوں کے لئے انقلاب بلکہ بغاوت کی تحریک ہے (فکر اقبال)۔

اقبال کے کارل مارکس پر کچھ اشعار تو ایسے ہیں اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو گستاخی کے الزام میں کسی مذہبی جنونی کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہوتے، ایک جگہ کہتے ہیں:
وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

ایک اور شعر میں اس سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
صاحبِ سرمایہ، از نسل خلیل
یعنی آں پیغمبر بے جبرئیل

مجھے امید ہے کہ میرے بہت سارے قارئین کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا کہ اشتراکیت کو کسی حد تک قبول کرنے اور اس کے مرکزی خیال کو اپنی نظموں کا حصہ بنانے والے اقبال پر یہ وقت بھی ارتقاء کے مراحل طے کرنے کے بعد ہی آیا تھا اور اس سے پہلے ایک مضمون میں اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔

واقع کچھ یوں ہوا کہ ایڈورڈز کالج پشاور کے ایک پروفیسر غلام حسین صاحب 1923 میں بالشویک سازش کے تحت گرفتار ہوگئے۔ پروفیسر صاحب ملازمت چھوڑ کر رسالہ ’انقلاب‘ کی پالیسیوں میں شریک رہے تھے، ’انقلاب‘ کے ہی ایک سرگرم اشتراکی اور سابق مدیر شمس الدین حسن کا ایک مضمون ’زمیندار‘ 23 جون 1923 میں چھپا جس میں انہوں نے لکھا:

”اشتراکیت کی حمایت کوئی جرم نہیں ہے۔ علامہ اقبال بھی بالشویک خیالات رکھتے ہیں۔ بالشویک نظام حکومت کارل مارکس کے فلسفہ سیاست کا لب لباب ہے اور کارل مارکس کے فلسفہ کو عام فہم زبان میں سوشلزم اور کمونزم کہا جاتا ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی تھوڑی سی عقل کا مالک بھی سر محمد اقبال کی ’خضر راہ‘ اور ’پیام مشرق‘ کو بغور دیکھے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ علامہ اقبال ایک اشتراکی ہی نہیں بلکہ اشتراکیت کے مبلغ اعلیٰ بھی ہیں، ’پیام مشرق‘ میں ’قسمت نامہ‘، ’سرمایہ دار و مزدور‘ اور ’نوائے وقت‘ کے عنوان سے جو مختصر سی نظمیں لکھی ہیں ان سے قطع نظر کر کے ص 156 کی غزل کا مطلع ملاحظہ ہو:
تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزو است
بامن میا کہ مسلک شبیرم آرزو است
کیا ایسے اشعار کی موجودگی میں کسی کو شک ہو سکتا ہے کہ علامہ اقبال ایک انتہائی خیالات رکھنے والے اشتراکی نہیں ہیں۔ ‘‘

علامہ اقبال نے ابھی خود اس مضمون کو پڑھا بھی نہیں تھا کہ کسی نے ان کو اطلاع دے دی اور انہوں نے مضمون پڑھے بغیر ہی ایک لمبی چوڑی تردید کا مضمون اگلے دن کے زمیندار میں چھپنے کو بھیج دیا (جو اگلے دن چھپ بھی گیا)۔ اس میں لکھتے ہیں:

”میں نے ابھی ایک دوست سے سنا ہے کہ کسی صاحب نے آپ کے اخبار میں یا کسی اور اخبار میں (میں نے اخبار ابھی تک نہیں دیکھا) میری طرف بولشویک خیالات منسوب کیے ہیں۔ چونکہ بولشویک خیالات رکھنا میرے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کے مترادف ہے، اس واسطے اس تحریر کی تردید میرا فرض ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سرمایہ داری کی قوت جن حد اعتدال سے تجاوز کر جائے تو دنیا کے لئے ایک قسم کی لعنت ہے لیکن دنیا کو اس کے مضر اثرات سے نجات دلانے کا طریق یہ نہیں کہ معاشی نظام سے اس اس قوت کو خارج کر دیا جائے، جیسا کہ بولشویک تجویز کرتے ہیں۔ روسی بولشوزم یورپ کی ناعاقبت اندیش اور خودغرض سرمایہ داری کے خلاف ایک زبردست رد عمل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی سرمایہ داری اور روسی بولشوزم دونوں افراط و تفریط کا نتیجہ ہیں۔‘‘ (خطوط اقبال، مرتبہ رفیع الدین ہاشمی، صفحہ 155۔ 156، اشاعت اول 1977)

علامہ اقبال کی ایسی ہی کچھ باتوں پر یار لوگ کہتے ہیں کہ جب تک حکومت برطانیہ اشتراکیت اور بالشویک تحریک کے خلاف ہندوستان میں زوروشور سے کارروائیاں کرتی رہی تب تک بالشویک خیالات رکھنے سے اسلام خطرے میں آ جاتا تھا مگر جیسے ہی حکومت کا رویہ نرم ہونا شروع ہوتا تھا تو تفریط کے پہلو کے ذکر کے بغیر ہی اشتراکیت کے خود نمائیندہ مبلغ بن جاتے تھے۔ واللہ اعلم۔ تفصیل کے لئے دیکھیں عتیق صدیقی ماہر اقبالیات کی کتاب ’اقبال جادوگرِ ہندی نژاد‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں