اقبال کا نظریہ خلافت و جمہوریت و اجتہاد


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اپنے گزشتہ مضمون ’اقبال، خلافت اور اسلامی نظریاتی کونسل‘ میں راقم الحروف نے علامہ اقبال کی کتاب ’تجدید فکریات اقبال‘ کے مقالہ نمبر چھے کے کچھ حصے نقل کیے تھے۔ آج مزید کچھ اقتباسات حاضر ہیں۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ فکر اقبال و قائد کی روشنی میں ہی ملک کا نظام چلایا جائے اور آج کے پاکستانیوں کے لیے اس فکر سے ہٹ کر کچھ سوچنا ممنوع ہے، ان کے لیے یہ مضمون خاص طور پر دلچسپ کا باعث ہو گا۔

ایک طرف اقبال ہمیں اسلام کے نظام خلافت اور سیاسی نظام وغیرہ میں بعض نہایت ہی انقلابی اقدامات کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، اور اتاترک کی سیکولر مملکت اور پارلیمان کو خلافت کی جدید شکل قرار دیتے ہوئے تمام مسلم ممالک کو ایسا ہی کرنے کے  لیے کہتے ہیں، دوسری طرف ہمارے یہ دوست ہمیں حکم دیتے ہیں کہ خبردار، سوچنا منع ہے۔

حضرات ہم تو برے ٹھہرے کہ روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے  خود سے سوچنے کے قائل ہیں، آپ ہی اقبال کے احکامات و انداز  فکر کی پیروی کر لیں۔ تھوڑا بہت اجتہاد آپ بھی کر لیں۔


اسلام میں حرکت کا اصول

اگر ان ابدی اصولوں میں سے ہم تغیر کے سارے امکانات کو ختم کردیں گے جو قرآن کے مطابق خدا کی عظیم ترین نشانیوں میں سے ہے تو اسے سے ایک فطرتاً متحرک شے کو غیر متحرک بنانے کا رویہ سامنے آئے گا۔۔۔۔اسلام میں حرکت کا اصول کیا ہے؟ اس کو عرف عام میں اجتہاد کہتے ہیں۔

اجتہاد کی تین منازل یا مدارج:

۔1۔ قانون سازی کا مکمل اختیار، جو عملی طور پر آئمہ فقہ تک محدود سمجھا گیا۔
۔2۔ اضافی اختیار جس میں کسی مخصوص فقہ کے مکتب کے دائرہ کار میں رہ کر عمل کیا جاسکتا ہے۔
۔3۔ خصوصی اختیار، جس کا تعلق کسی مخصوص معاملہ سے ہے جو آئمہ فقہ کی طرف سے بیان ہونے سے رہ گیا ہو۔

اس مقالہ میں میں نے اپنے آپ کو اجتہاد کے پہلے درجے تک محدود رکھا ہے یعنی قانون سازی میں مکمل اختیار۔ اہل سنت نظری طور پر اس درجے کے اجتہاد کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں مگر عملی طور پر فقہ کے مکاتب فکر کے قیام کے بعد سے کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ اجتہاد کی کامل آزادی کو یوں مشروط کر دیا گیا ہے کہ کسی فرد واحد کا ان شرائط کو پورا کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ اس طرح کا رویہ ایک ایسے قانونی نظام کے پیش نظر عجیب لگتا ہے جس کا انحصار زیادہ تر قرآن پر ہو جو زندگی کے متحرک نکتہ نظر کو لازم گردانتا ہے۔
…..
…..
یہ رجحان کہ ماضی کی تعظیم کرتے ہوئے معاشرے کو کچھ زیادہ ہی منظم کر دیا جائے جیسا کہ تیرہویں صدی اور اسے کے بعد مسلمان فقہا نے کیا خود اسلام کے اپنے مزاج کے منافی ہے۔ نتیجۃً ابن تیمیہ کی فکر کی صورت میں اس کے خلاف شدید ردعمل ظاہر ہوا جو اسلام کے مبلغین اور نہایت سرگرم اہل قلم میں سے تھا۔ ابن تیمیہ حنبلی روایت میں پروان چڑھا۔ اپنے لیے آزادانہ اجتہاد کا دعوی کرتے ہوئے اس نے مکاتب فقہ کی قطعیت کے خلاف بغاوت کی اور اپنے اجتہاد کے آغاز کے لیے اسلام کے اولین اصولوں کی طرف رجوع کیا۔ ظاہری مکت فکر کے بانی ابن حزم کی طرح اس نے قیاس اور اجماع کے مطابق استدلال کرنے کے اصول پر حنفی استدلال کو مسترد کر دیاجیسا کہ پرانے فقہا نے انہیں سمجھا ہوا تھا کیونکہ اس کی فکر کے مطابق اجماع ہی تمام تر توہم پرستی کی بنیاد ہے۔۔
۔۔۔
۔۔۔
اب ترکی کی طرف نظر کیجئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اجتہاد کا تصور جو جدید فلسفیانہ نظریات کے نتیجے میں زیادہ وسیع اور موثر طور پر بھی ہوا ہے ترک قوم کے سیاسی اور مذہبی افکار میں طویل عرصے سے زیرعمل تھا۔ یہ امر سعید حلیم ثابت کے پیش کردہ محمڈن قانون کے نئے نظریے سے بالکل واضح ہے جو جدید عمرانی تصورات پر مبنی ہے۔ اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ایک حقیقت ہے، اور میرا ایمان ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے، تو ہمیں بھی ایک نہ ایک دن ترکوں کی طرح اپنے فکری ورثے کی ازسرنو قدر متعین کرنا ہوگی۔ اور اگر ہم اسلام کے عظیم فکر میں کوئی طبع زاد نیا اضافہ نہیں کر سکتے تو ہمیں صحت مند قدامت پسندانہ تنقید کے ذریعے کم از کم اتنی خدمت تو کرنی چاہیے کہ ہم اسلامی دنیا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی لبرل ازم کی تحریک کو روک سکیں۔

اب میں آپ کو ترکی میں مذہبی اور سیاسی فکر کے ارتقا کا کچھ تصور دیتا ہوں جس سے آپ پر ظاہر ہو گا کہ کس طرح اجتہاد کی قوت نے ملک میں سیاسی اور فکری سرگرمیوں کو متحرک کیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ترکی میں فکر کے دو انداز تھے جن کی نمائندہ جماعتیں نیشنلسٹ پارٹی اور اصلاح مذہب پارٹی تھی۔ نیشنلسٹ پارٹی کی تمام تر دلچسپی صرف ریاست سے تھی، مذہب سے اسے کوئی سروکار نہ تھا۔ ان مفکرین کے مطابق مذہب کا اپنے طور پر الگ سے کوئی کردار نہیں۔ قومی زندگی میں ریاست کا ہی بنیادی کردار ہے جو تمام دوسرے عناصر کے وظیفے اور ان کی نوعیت کا تعین کرتی ہے۔ چنانچہ وہ ریاست اور مذہب کے تعلق سے پرانے تمام تصورات کو رد کرتے ہوئے ان دونوں کی علیحدگی پر زور دیتے ہیں۔ اگرچہ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے کہ ریاست کا ادارہ زیادہ کلیدی حیثیت کا حامل ہے اور یہ کہ یہ اسلامی نظام کے باقی تمام تصورات پر حاوی ہے
۔۔۔
۔۔۔
آئیے اب دیکھیں کہ [ترکی کی] قومی اسمبلی نے خلافت کے ادارے کے بارے میں اجتہاد کے اختیار کا کس طرح استعمال کیا ہے۔ اہل سنت کے قوانین[فقہ] کی رو سے امام یا خلیفہ کا تقرر قطعاً ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں جو پہلا سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا خلافت فرد واحد تک محدود رہنی چاہیے؟ ترکوں کے اجتہاد کی رو سے یہ اسلام کی روح کے بالکل مطابق ہے کہ خلافت یا امامت افراد کی ایک جماعت یا منتخب اسمبلی کو سونپ دی جائے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں برصغیر اور مصر کے علمائے اسلام اس مسئلے پر ابھی تک خاموش ہیں۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ترکوں کا موقف بالکل درست ہے اور اس کے بارے میں بحث کی بہت کم گنجائش ہے۔ جمہوری طرز حکومت نہ صرف یہ کہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے بلکہ یہ عالم اسلام میں ابھرنے والی نئی طاقتوں کے لحاظ سے بہت ضروری ہے۔ ترکوں کے اس نکتہ نظر کو سمجھنے کے آئیے ابن خلدون سے رہنمائی حاصل کریں جو تاریخ اسلام کا پہلا تاریخ دان فلسفی ہے۔ اپنے مشہور مقدمہ میں ابن خلدون نے اسلام میں عالمی خلافت کے تصور کے بارے میں تین واضح نکتہ ہائے نظر پیش کیے ہیں۔

۔1۔ عالمی امامت ایک الوہی ادارہ ہے لہذا اس کا وجود ناگزیر ہے۔
۔2۔ یہ مصلحت زمانہ کی پیداواز ہے۔
۔3۔ اس ادارے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت ہی نہیں۔

آخری نکتہ نظر خوارج نے اپنایا تھا۔ کچھ یوں نظر آتا ہے کہ ترک پہلے نکتے سے دوسرے نکتہ پر آگئے ہیں جو معتزلہ کا نکتہ نظر تھا جو عالمی امامت کو محض مصلحت زمانہ تصور کرتے تھے۔ ترکوں کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں اپنے سیاسی افکار میں اپنے ماضی کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہیے جو بغیر کسی شک و شبہ کے ہمیں بتاتا ہے کہ عالمی امامت کا تصور عملی طور پر ناکام ہوگیا ہے۔ یہ تصور اس وقت قابل عمل تھا جب مسلمانوں کی سلطنت متحد تھی۔ جونہی یہ سلطنت بکھری تو خودمختار سیاسی حکومتیں وجود میں آگئیں۔ یہ تصور اب اپنی عملی افادیت کھو بیٹھا ہے اور جدید اسلام کی تنظیم میں ایک زندہ عنصر کی حیثیت نہیں رکھتا۔ چہ جائیکہ یہ کسی مفید مقصد کے لیے کارگر ہو یہ آزاد مسلم مملکتوں کے دوبارہ اتحاد کی راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے۔ ایران خلافت سے متعلق اپنے نظریاتی اختلاف کی وجہ سے ترکوں سے الگ تھلگ کھڑا ہے۔ مراکش نے بھی ان سے بے توجہی کا رویہ رکھا ہے اور عرب اپنی ذاتی خواہشوں کا اسیر رہا ہے۔ یہ سب دراڑیں اسلام کی محض ایک علامتی قوت کے لیے ہیں جو عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔ استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیوں نہ ہم اپنی سیاسی سوچ کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔ کیا قریشیوں کے سیاسی زوال کے باعث اور عالم اسلام پر حکمرانی کی اہلیت کے فقدان کے تجربے کے پیش نظر قاضی ابوبکر باقلانی نے خلیفہ کے لیے قرشیت کی شرط کو ساقط نہیں کردیا تھا؟ کئی صدیاں قبل ابن خلدون جو ذاتی طور پر خلافت کے لیے قرشیت کی شرط کا قائل تھا نے بھی اسی انداز میں استدلال کیا تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ قریش کی طاقت ختم ہو چکی ہے اس کا متبادل اسے کے علاوہ کوئی نہیں کہ کسی طاقتور انسان کو اس ملک میں امام بنا لیا جائے جہاں اس کو قوت حاصل ہو۔ یوں ابن خلدون حقائق کی درشت منطق کو سمجھتے ہوئے وہ نکتہ نظر پیش کرتا ہے جسے آج کے بین الاقوامی اسلام کے حوالے سے بصیرت کی پہلی مدہم سی جھلک کہا جاسکتا ہے۔ یہی جدید ترکوں کا رویہ ہے جس کی بنیاد تحربی حقائق پر ہے نہ کہ فقہا کے مدرسی استدلال پر جن کی زندگی اور فکر کا تعلق ہم سے ایک مختلف زمانے سے تھا۔

میرے خیال کے مطابق یہ دلائل، اگر ان کا درست طور پر ادراک کیا جائے، ایک بین الاقوامی نصب العین کی آفرینش کی جانب ہماری راہنمائی کریں گے جو اگرچہ اسلام کا اصل جوہر ہے، اسلام کی ابتدائی صدیوں میں عرب ملوکیت نے اسے پس پشت ڈال دیا تھا یا دبا رکھا تھا۔ یہ نیا نصب العین ممتاز نیشنلسٹ شاعر ضیا کے کلام میں صاف طور پر جھلکتا ہے جس نے آگیسٹ کومت کے فلسفے سے جلا پاکر جدید ترکی کے موجودہ افکار کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں یہاں اس کی ایک نظم کا خلاصہ پروفیسر فشر کے جرمن ترجمے سے پیش کرتا ہوں:

“اسلام کی حقیقی طور پر موثر سیاسی وحدت کی تخلیق کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مسلمان ممالک خود آزادی حاصل کرلیں۔ تب اپنی مجموعی صورت میں وہ اپنے آپ کو ایک خلیفہ کے تحت لے آئیں۔ کیا یہ چیز موجودہ حالات میں ممکن ہے؟ اگر آج نہیں تو پھر لازماً انتظار کرنا ہوگا۔ دریں اثنا چاہیے کہ خلیفہ خود اپنی اصلاح احوال کرلے اور ایک قابل عمل جدید ریاست کی بنیاد رکھے۔ بین الاقوامی دنیا میں کمزوروں سے کسی کو کوئی ہمدردی نہیں صرف طاقتور کو ہی احترام حاصل ہے۔”

ان سطور سے جدید اسلام کے رجحانات واضح طور پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ موجودہ صورت حال میں ہر مسلمان قوم کو اپنے آپ میں گہرے طور پر غوطہ زن ہونا چاہیے اور عارضی طور پر اپنی نظر خود اپنے آپ پر جما لینی چاہیے حتی کہ تمام اس قدر مظبوط اور مستحکم ہو جائیں کہ وہ جمہوریتوں کا ایک زندہ خاندان تشکیل دے سکیں۔ ایک سچی اور زندہ وحدت نیشنلسٹ مفکرین کے مطابق کوئی ایسی آسان نہیں کہ اسے محض ایک علامتی عالمگیر حکمرانی کی وساطت سے حاصل کرلیا جائے۔ اس کا سچا اضہار خودمختار اکائیوں کی کثرت سے ہوگا جن کی نسلی رقابتوں کو مشترک روحانی امنگوں کی وحدت سے ہم آہنگ اور ہموار کردیا گیا ہو۔ مجھے یوں نظر آتا ہے کہ خدا ہمیں آہستہ آہستہ اس حقیقت کے ادراک کی طرف لا رہا ہے کہ اسلام نہ تو قومیت ہے اور نہ ملوکیت بلکہ ایک مجلس اقوام ہے جو مصنوعی حد بندیوں اور نسلی امتیازات کو محض پہچان کے لیے تسلیم کرتی ہے ، نہ کہ اس لیے کہ ان رکن ممالک کے اپنے اپنے سماجی آفاق کو تنگ کردیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “اقبال کا نظریہ خلافت و جمہوریت و اجتہاد

  • 23-04-2016 at 3:13 pm
    Permalink

    پتہ نہیں آپ کیا کہنا چہ رہے ہیں.

Comments are closed.