اپنی مرحومہ ماں کے نام، اِک بیٹی کا پیغام


پیاری ماں، ہاں اچھی ماں
ٹھنڈی، میٹھی، گھنیری چھاں
لوٹ بھی آ کہ بیٹھی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

یہ بھلا کیا بات ہوئی
تو دور گُلوں میں بیٹھی ہے
اور ہم دنیا میں تنہا
ظالم زمانوں سے لڑتی ہیں
اور پھر دنیا والےکہاں کے اچھے
لڑتے لڑتے تھکتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

گھر میں کتنے لوگ ہیں ماں
پھر بھی سُونا سُونا ہے
پھولوں بھرا اِک باغ ہو جیسے
اور خوشبو بِنا ہر کونا ہے
دروازے جب بند کر دیں سارے
اک کھڑکی کو ہاں کھولتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

بہنا کو ہی ملنے آ
چھوٹی عمر میں بڑی ہوئی
گڑیا بھی رکھ دی ہے اس نے
سہیلیاں بھی وہ چھوڑ چکی
ہنستی ہے، نہ کہتی ہے
چپ چپ ہاں وہ رہتی ہے
وہ آج بھی رستہ تکتی ہے

بھیا کو ہی لوری دو
رات پھر جاگ گیا تھا وہ
پھر دیر تلک وہ سویا نہیں
آنسو کب کے خشک ہوئے
اب تو کبھی وہ رویا نہیں
ہاں تیرے لمس کو ترستا ہے
وہ آج بھی رستہ تکتا ہے

مانا کہ ابو اچھے ہیں
خیال ہمارا رکھتے ہیں
پیار ہمِیں سے کرتے ہیں
پر تیری بات اور تھی ماں
ڈھیروں باتیں ایسی ہیں
تجھ سے کرنا ہوتی ہیں
اب تنہائی سے کرتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

ماں تیری تو اِک خواہش تھی
بھائی کی دلہن لائے گی
ہمیں ڈولی چڑھائے گی
پھر روٹھ کے پیا کے گھر سے
تیرے پاس ہی آنا تھا
اپنی پگلی بیٹی کو

تو نے ڈانٹنا تھا، سمجھانا تھا
اب کون مجھے سمجھائے گا
دل ہی دل میں ڈرتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

جو صبح ہوئی، تُو پاس تھی
جو شام ڈھلی، تو چلی گئی
وہ دن بھی ظالم دن تھا ماں
اس دن سے روٹھ گئی ہوں میں
خدا سے کیا شکوہ کرنا
سورج سے ہاں لڑتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

ابھی تو رستہ لمبا تھا ماں
کس منزل پہ رک گئی ہو
پھر سے آؤ اور تھام لو اس کو
ہاتھ جو میرا چھوڑ گئی ہو
اب آؤ گی، نہ بولوں گی
سوچ ہی سوچ میں روٹھتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں

پر تو کیوں آئے گی اب
جنت ہو جب قدموں تلے
جو گیا وہاں، خوش ہی رہا
ایسی جگہ کو کون چھوڑے

جنگ زندگی کی جب ہار چُکوں گی
ماں تم کو میں وہاں مِلوں گی
اب یہی سوچ کر بہلتی ہوں
میں آج بھی رستہ تکتی ہوں
ہاں آج بھی رستہ تکتی ہوں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں