ماؤں کے عالمی دن پر ایک بہت بری ماں کو فون کال


امی آپ کیوں آ جاتی ہیں ہماری زندگی میں تہلکہ مچانے؟ آپ مان کیوں نہیں جاتیں کہ آپ ایک بہت بری ماں ثابت ہوئی ہیں؟ ایک ایسی ماں جس نے پوری زندگی بابا کے ساتھ گزار دی اورجب آپ کی اپنی زندگی پوری ہو چکی ہے تو آپ کو خیال آیا کہ ہمارا باپ برا ہے اور آپ کو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ مائیں کیا نہیں کرتیں اپنے بچوں کے لیے، اور آپ ایک آدمی کو برداشت نہ کر پائیں۔

آپ ایک ناکام انسان ہیں۔ نہ آپ کے پاس بچے ہیں، نہ شوہر، نہ گھر۔ اور نہ ہی معاشرے میں عزت۔ ہم آپ سے کیوں ملیں؟ کیا دے سکتی ہیں آپ ہمیں؟ آپ کو پتہ ہے کہ ہمارا باپ ایک کامیاب انسان کیوں ہے؟ اس کے پاس ایک فیملی ہے، بیوی ہے، بچے ہیں پیسہ ہے، عزت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے ہمارے ابا کے خلاف کارروائی کی اور وہ بیچارہ سب کچھ سہتا رہا۔ اس نے آپ کو تو کچھ نہیں کہا نا! جب یہ رشتہ ناسوربن گیا۔ اس نے بس پھر دوسری شادی کر لی۔ عین شرعی حق تھا اس کا۔ آپ اگر ساتھ رہنے سے انکار نہ کرتیں تو خرچ تو وہ آپ کو دے رہا تھا مگر آپ کی عزت نفس بہت اچھل رہی تھی۔ آپ برداشت کر جاتیں توآج یوں اکیلی نہ ہوتیں۔ آپ کی عدم برداشت ہے، جس کی وجہ سے اللہ نے اسے ترقی دی ہے اور آپ کی حالت کو قابل رحم بنا دیا ہے۔

آپ کو کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ اب بھی آپ ہم سے توقع رکھتی ہیں کہ ہم، آپ کے بچے، آپ کی قدر کریں۔ آپ ایک خود غرض ماں ہیں۔ عورتیں خاموشی سے ہر ظلم سہہ جاتی ہیں۔ پھر ان کے نصیب کھلے رہتے ہیں۔ جانے کس چیز نے آپ کی گردن میں سریا بھر دیا تھا؟ آپ کو لگتا تھا کہ آپ خودی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ آپ کی اس خودی میں محض برداشت نہ کرنے کی کم ہمتی تھی۔ کیا باقی سارے زمانے کی عورتیں شوہروں کے ایسے رویے برداشت کر نہیں رہیں؟ آپ نے صرف اپنے بارے میں سوچا کہ آپ کو مار نہیں کھانی، اکیلے نہیں رہنا اور بے عزتی برداشت نہیں کرنی۔

دیکھیں امی آپ حالات کی مار بھی کھا رہی ہیں، ہم سب بھی آپ سے نہیں ملتے اور خاندان میں آپ کی ذات کی بے بسی پر لوگ ہنستے ہیں۔ جبکہ ہمارا باپ ہمارا خرچ برداشت کر رہا ہے۔ ہماراخیال بھی رکھتا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ ہر نعمت ہمارے سامنے لا کر رکھ دے۔

ہم آجائیں آپ سے ملنے، کریں آپ کوجلدی جلدی کالز۔۔۔ مگر آپ کے پاس ہے کی اہمیں دینے کے لیے؟ کھلا سکتی ہیں ہمیں دو وقت کا کھانا، آپ ہمیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں تو ہم پاپا سے کیوں بگاڑیں اور آپ سے ملیں؟ ہمیں بھی تو اپنا فائدہ دیکھنا ہے ۔ ویسے بھی جب بھی آپ سے بات کرو آپ رونے لگ جاتی ہیں۔ انسان کے اپنے مسائل کم ہوتے ہیں کہ وہ آپ کے مسئلے بھی ساتھ سنے۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا آپ سے یہ سب کہنا مگر آپ نے پاپا کے خلاف کھڑے ہو کر ہمیں اس لائق رکھا ہی نہیں کہ ہم آپ سے تعلق رکھیں۔

ہمیں اپنے مستقبل کے لیے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اور وہ ہماراباپ ہے۔ آپ خود کو سنبھالیں۔ یہ آپ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو پاپا کے ساتھ نہیں رہنا تو سوچنا تھا کہ پھر ہم کہاں جائیں گے۔ آپ نے بہت سہا ہو گا تو آگے بھی سہتی رہتیں تو آج ہم اکھٹے ہوتے۔ اب آپ پلیز ہم سے دور ہی رہیں۔ مت آیا کریں ہمیں ملنے کی آس لے کر۔ ہمارا فیوچر خراب نہ کریں۔ پاپا اور ان کی وائف کو پسند نہیں کہ ہم آپ سے ملیں اور ویسے بھی آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟ صرف پیدا کیا ہے اور پالا تو وہ تو آپ کا فرض تھا۔ مائیں تو بچوں کے لیے خود کو بیچ دیتی ہیں۔ فنا ہو جاتی ہیں۔ آپ اب ایک اچھی ماں کی طرح ایک قربانی تو دے دیں ۔ ہم زیادہ کچھ نہیں مانگتے۔ بس ہماری زندگی میں دوبارہ آنے کی کوشش نہ کریں۔

ایک 25سالہ بیٹی کی فون کال کے بعد ماں نے یہ سب بے نقط سننے کے بعد کہا، “میں معافی چاہتی ہوں بیٹی کہ میں نے خود کو بیچنے سے انکار کیا۔ میں بہت بری ماں ہوں۔۔۔۔”

۔۔۔۔ اور دوسری طرف سے لائن کٹ گئی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں