داسو کی گمشدہ بستی اور برسین کا تارڑ !


waqar ahmad malikجب مستنصر حسین تارڑ ، دران ریسٹ ہاﺅس مناپن میں چیری کے باغ میں کھڑے تھے اور چیریوں کے قدرے زیادہ سرخ گچھے کی جانب ہاتھ بڑھاتے تھے، عین اس لمحے ایک نیٹکو بس داسو میں مختصر وقفے کے لیے ر کی تھی۔ جس سے اتر کر میں نے داسو کی جانی پہچانی ہوا میں پھیلی خوشبو کو محسوس کیااور کانوں نے دریائے سندھ کی گہری چیخ سنی۔

داسو سے ہزار بار گزرے، جب گزرے یہی احساس ہوا، اپنا گھر ہے۔

نیٹکو یہاں تھوڑی دیر رکتی ہے۔ میں باہر نکل کر سندھ کنارے بیٹھ گیا۔ داسو کے پل سے پہلے کی آبادی کو کمیلہ کہتے ہیں اور پل عبور کر کہ آبادی داسو ہو جاتی ہے۔ داسو میں ضلعی دفاتر اور دوسرے سرکاری دفاتر ہیں۔ بظاہر دونوں آبادیاں ایک ہی آبادی لگتیں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نام دو کیوں ہیں؟

قراقرم ہائی وے کی خوش قسمتی ہے کہ 167 کلومیٹر کا سفر کوہستان میں کرتی ہے۔ کوہستان کی خوش قسمتی ہے کہ قراقرم ہائی وے نے اس کی جغرافیائی ہیئت ہی تبدیل کر دی۔ بشام سے کومیلہ تک قراقرم ہائی وے دریائے سندھ کے بائیں جانب سفر کرتی ہے۔ داسو کا پل عبور کر کے بقیہ نوے کلومیٹر دائیں ہاتھ ہو جاتی ہے۔

0000

سندھ ایک خوفناک سلیٹی رنگ کا اژدھا جو کوہستان کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ آج یہ تقسیم شاید اتنی زیادہ معنی نہیں رکھتی لیکن قراقرم ہائی وے سے پہلے دریائے سندھ کوہستان کو صرف جغرافیائی حوالے سے ہی تقسیم نہیں کرتا تھا بلکہ ثقافتی، نسلی حوالوں سے بھی تقسیم نظر آ تی ہے۔ آج کومیلہ اور داسو بھلے ایک ہی لگتے ہوں قراقرم ہائی وے سے پہلے دو آبادیا ں تھیں جن کا فاصلہ بمشکل دو سو میٹر تھا لیکن اس کے باوجود بہت فاصلے پر تھیں کہ درمیان میں دریائے سندھ تھا۔

میں داسو میں تھا اور سندھ کنارے بیٹھا تھا۔ بس کی سواریاں ہوٹل میں جانے کیا کھا رہیں تھیں اور کیوں کھا رہیں تھیں؟

 قراقرم ہائی وے پر یہ دو سو کلومیٹر کا سفر ایسا ہے کہ کھانے کو کچھ خاص نہیں ملتا ۔ کوہستانی گندم میں سر زمین پنجاب و خیبر پختونخوا کے باسیوں کو ایک ناگوار سی بو محسوس ہوتی ہے، ہمک سی آتی ہے۔ سالن بھی خوش ذائقہ نہیں ہوتا۔ کوہستانی زندگی اس قدر مشکل ہے کہ کھانے کی جمالیات عیاشی سے کم نہیں ہیں۔ زندگی کی بقا کی کچھ ضمانت حاصل ہو تو انسان جدت اور حسن کو پہچانتا اور ان میں مزید بہتری لانے کے لیے کوشش کرتا ہے۔

1111

کوہستان میں دکانیں لکڑی کے بنے مکعب نما دڑبے ہیں۔ اور اگر یہ دڑبے تعداد میں دس سے تجاوز کر جائیں تو بازار کہلاتے ہیں۔

اس بازار میں چند کولڈ ڈرنکس اور موبائل فون کی دکانیں کوہستان کے اکیسویں صدی میں سانس لینے کا اشتہار لگتی ہیں۔

کوہستانی بھی کمال دوست ہیں۔ ہم نے کوہستان کی ہمیشہ وکالت کی اور بڑھ چڑھ کر کی اور کوہستانی دوستوں سے درخواست کی کہ آپ اپنی وکالت کم ہی کیا کریں، کہ کوہستانی دوست بظاہر اپنی وکالت ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، سادگی میں ایسی بات کر جاتے ہیں کہ مخاطب کا دل دھڑکنا بھول جائے۔

ایک سال پہلے کی بات ہے ، داسو میں تھے ۔ شام ہو رہی تھی اور ہم لوگ ہوٹل میں کرسیوں پہ یوں بیٹھے تھے کہ پاﺅں دوسری کرسی پر دھرے تھے۔ سامنے دریائے سندھ کو غور سے دیکھتے تھے کہ ہر تھوڑی دیر بعد دریا کے پیندے میں کسی دیو ہیکل پتھر کے سرکنے سے دل دہلانے والی آوازآتی تھی۔ چائے کا پانچواں دور چلنے کو تھا کہ کچھ سہمے ہوئے نوجوان جن کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ ہوں گی، داخل ہوئے۔

2222

ان کی گفتگو میں ایک اختلاف سنائی دیتا تھا کہ کچھ نوجوان واپس جانے کو مضر تھے۔ پہلی دفعہ جانے والوں کے ساتھ عموما یہ ہو جاتا ہے کہ پورا دن پہاڑوں میں سفر کرنے کے بعد آپ داسو پہنچتے ہیں اور اطلاع ملتی کہ گلگت ابھی بہت دور ہے اور کل کا پورا دن سفر کرنے کے بعد آئے گا۔

نوجوانوں کو کوہستان میں شام پڑ گئی تھی اور کوہستان کا کچھ اچھا تعارف نہیں رکھتے تھے۔

 ہم نے نوجوانوں کو بٹھایا اور کوہستانیوں کی وسیع القلبی اور محبت کی داستانیں سنانے لگے ۔اس وکالتی گفتگو کہ دوران میں نے دیکھا کہ ہوٹل کا مالک بھی کچھ دلائل دینے کے لیے بے چین ہے اورہماری باتوں کو ٹوک کر، کوہستانی جھنڈا پکڑ کر میدان بحث میں چھلانگ لگا نا چاہتا ہے۔ اور جب وہ بات شروع کرنے لگتا میں ٹوک کر زیادہ بلند آواز سے کوہستان کی تعریف میں ایک اور قصہ شروع کر دیتا۔ مجھے لاشعوری طور پر ایک خوف تھا کہ ان کی دلیل ہماری ساری محنت پر پانی پھیر دے گی۔ آخر کوہستانی دوست نے جب دیکھا کہ ان کو بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا تو وہ نشست سے کھڑے ہو کر کرسیوں کے بیچ میں آگئے اور نوجوانوں کو خطاب کے انداز میں کہا، ” وقار بھائی بالکل ٹھیک کہتا ہے، کوہستانی تو اچھے لوگ ہوتے ہیں، ابھی تم لوگ اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلیاں آگے کرو اور ہاتھ کھول لو“

نوجوانوں نے ان کے کہے پر عمل کیا۔ ادھر میرا دل ڈوبنا شروع ہو گیا کہ نوجوانوں کا اعتماد بڑی مشکل سے بحال ہوا تھا اور ان کے چہروں پر ایک اطمینان نظر آ رہا تھا اور اب وہ دریائے سندھ کی آواز سن رہے تھے اور ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ کیا دبنگ گونج ہے۔اور معلوم نہیں کوہستانی دوست کی دلیل کیا رنگ دکھاتی ہے۔

3333

ہوٹل کا مالک کوہستانی دوست کہنے لگا، ” دیکھو اگر تم دوسرے ہاتھ میں ایک کانٹا لو اور ہتھیلی پر چبھو دو تو کیا ہو گا،۔۔ درد ہو گا ناں! ہاں یہ پوائنٹ ہے۔ لیکن اگر یہی کانٹا جہاں تمھاری ہتھیلی ختم ہوتی ہے یعنی ہوا میں مارو تو کیا ہو گا؟ کچھ نہیں ہو گا۔۔ ہاں یہی تو پوائنٹ ہے “

میں پوائنٹ کو پہنچ چکا تھا اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس طوفانی اور تباہ و مسمار کر دینے والی دلیل کو کیسے روکوں؟

کوہستانی دوست نے بات جاری رکھی، ” نہیں سمجھے پوائنٹ؟ ہاں یہی تو بات ہے۔ دیکھو اپنے علاقے میں جرم کرو گے ڈاکہ ڈالو گے بندہ مارو گے تو تکلیف ہو گی لیکن علاقے سے باہر کچھ نہیں ہو گا۔ اسی لیے ہمارا رشتہ دار بھی ڈاکہ ادھر بابو سر جا کر مارتا ہے، ابھی کل ہی دو زخمی ہوا ہے ، بابو سر ٹاپ پر پولیس سے فائرنگ کا مقابلہ ہو گیا تھا۔ لیکن کوہستان میں ہم کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے ، کوہستان ہمارے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح ہے۔ اپنی ہتھیلی پر کانٹا مارو گے اپنے آپ کو ہی تکلیف ہو گی“

یہ منطقی دلیل دینے کے بعد کوہستانی نے داد طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھا، اور کہا ۔۔ کیوں وقار بھائی ۔۔کیسا؟

وقار بھائی گنگ تھے اور روہانسے تھے اور جانتے تھے کہ انہوں نے مبالغہ کیا ہے ۔ اور اگر کہیں ایک آدھ ایسا واقعہ ہے بھی تو کوہستان کا تعارف کیسے بن سکتا ہے۔ درحقیقت یہ پرانے کوہستانیوں کی سادہ دلیل رہی ہو گی کسی زمانے میں لیکن آج کا کوہستان بہت تبدیل ہو چکا ہے۔

waqar02داسو ایک عجیب گمشدہ بستی کانام ہے۔ سوچتا ہوں اور سوچ کر بے وقعت ہوتا ہوں کہ گذرے زمانوں میں کسی قافلے کی نظر جب اس بستی پر پڑتی ہو گی تو وہ لوگ کیا سوچتے ہوں گے؟ سوچتا ہوں کہ شاید خوش ہوتے ہوں گے کہ اتنے عرصے بعد ان کو ، ان کے ہم جنس دکھتے ہوں گے۔ سوچتا ہوں اور سوچ کر بے وقعت ہوتا ہوں کہ کیا خبر کتنے قافلوں نے سندھ دریا کنارے ریت پر خیمے نصب کیے ہوں گے اور شام کو آگ جلا کر ریت پر بیٹھے کھانا کھاتے ہوں گے۔ شاید کچھ لطیفے ان کے علم کا حصہ ہوں۔

سوچتا ہوں اور سوچ کر بے وقعت ہوتا ہوں کہ کیا خبر رات کے اندھیرے میں دو مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے دو پریمی خیموں سے کچھ ہٹ کر ملے ہوں اور دریائے سندھ نے ان کی محبت بھری سسکیوں کو اپنی گونج میں دبا دیا ہو۔ دریائے سندھ نے ایسا تعاون آخرکیوں نہ کیا ہو گا؟

نیٹکو روانگی کے لیے تیار تھی۔ میں نے اپنی نشست کی کھڑکی کے آگے پردے سرکا دیے کہ داسو سے بنجر پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پتھر پتھر پتھر اور ہر سمت پتھر، ان پتھروں میں اعتماد سے شغل بہاﺅ میں مصروف دریائے سندھ۔ یہاں سے منفرد لینڈ سکیپ شروع ہوتی ہے ایک ایسی لینڈ سکیپ جو پاکستان اور نیپال کو دنیا بھر میں منفرد اور ممتا ز کرتی ہے۔ یہاں سے ہی تھوڑ ا آگے دنیا میں دریا کی بنائی گہری گھاٹی آتی ہے جس کا شمار دنیا کی تین گہری ترین گھاٹیوں میں ہوتا ہے۔

اور پھر برسین آتا ہے۔

tarrar3برسین میں تنہائی ہے ۔یا یوں کہیے جہانِ تنہائی کا دروازہ ہے کہ اس سے آگے بلند و بالا پہاڑ اور شفاف چمکتے ہوئے پانیوں کے نالے ہیں۔ ذی روح کم دکھتے ہیں اور گماں ہوتا ہے کہ اس قدر ویران اور تنہا پہاڑوں میں جنات کی گھنی بستیاں ہو ں گی۔ کیا خبر جنوں کا واشنگٹن اور نیو یارک ہو یہاں پر۔

جہان تنہائی کے اس دروازے کے مستنصر حسین تارڑ عاشق ہیں۔ ان سے جب پوچھیں کہ قراقرم ہائی وے پر پسندیدہ جگہوں کے نام بتائیں ، کیسے ممکن ہے کہ ذکر برسین نہ کریں۔ برسین میں سڑک کنارے پی ٹی ڈی سی ہے اور تھوڑا اوپر ایف ڈبلیو او کا ایک پرانی سی عمارت میں کیمپ ہے۔

یہاں پی ٹی ڈی سی کیوں بنا؟ کس کی تجویز تھی؟ پی ٹی ڈی سی داسو میں کیوں نہ بنایا گیا؟

متذکرہ بالا کسی سوال کے جواب کو تلاش کرنے کی میں نے نہ کبھی کوشش کی نہ خواہش کی۔ کیوں کروں کہ نفع نقصان کے معاملات سے ہٹ کر دیکھیں توپی ٹی ڈی سی کے لیے ہمارے جیسے آوارہ مزاجوں کے لیے اس سے بہتر جگہ کیا ہوگی۔ پی ٹی ڈی سی برسین کے چار کمرے ہیں۔ ایک ڈائننگ ہال ہے اور ایک استقبالیہ۔

میں نے ان کمروں میں کسی کا قیام نہیں دیکھا، عموما خالی پڑے رہتے ہیں۔

انہی میں ایک کمرہ ہے۔ کمرہ نمبر چار۔ جہاں تارڑ صاحب آدھے گھنٹے کے لیے جاتے ہیں، کمرہ اندر سے بند کر لیتے ہیں اور پھر جب واپس آتے ہیں تو ان کی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں۔ کیوں سرخ ہوتی ہیں ؟ پی ٹی ڈی سی برسین میں کھڑے تارڑ صاحب اس ویڈیو میں جواب دیتے ہیں۔

 

 


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 64 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

3 thoughts on “داسو کی گمشدہ بستی اور برسین کا تارڑ !

  • 22-04-2016 at 12:30 am
    Permalink

    بہت خوبصورت ،،بہت عمدہ

  • 22-04-2016 at 1:27 am
    Permalink

    Mustansar Sb is right. I was fortunate to spend one month in Barseen (FWO camp) in 1997. THe place is less visited by the people. Hence it is not polluted. You feel the air and the lonliness. Wonderful. This post feels like ‘Niklay teree talash main” . likhtay rahain. Mujhay intezar rehta hai .

  • 22-04-2016 at 10:35 am
    Permalink

    بہت عمدہ۔
    آپ اکسا رہے ہیں
    اشتعال دلا رہے ہیں.
    ہم جامد کیوں ہیں۔ فرصت کے لمحات میں کیوں گھر پڑے رہتے ہیں۔
    باہر نکلیں ، دنیا دیکھیں پاکستان دیکھیں اور کچھ نہیں تو اپنے ارد گرد ہی دیکھ لیں
    شاید ہماری جامد سوچ میں کوئی ہلکا پھلکا ارتعاش ہی آ جائے
    لکھتے رہیں کہ انسپائیریشن ملتی رہے۔

Comments are closed.