یہ شہر کراچی کس کا


کراچی کو ہر قوم، مذہب، رنگ و نسل والا اپنا سمجھتا ہے اور اس شہر میں اپنی طاقت، حکومت اور زور دکھانے کے لئے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں دیں اور جانیں لیں۔ اس شہر میں طاقت دکھانے کے لئے مختلف فارمولے آزمائے گأ جن میں لسانیت اورمذہب کی بنیاد پر سیاست کی گئی اور یہ سب کچھ خلائی مخلوق کی مرضی کے مطابق ہو رہا تھا۔ اس شہر کو قابو میں رکھنے کے لئے صرف خلائی مخلوق ملوث نہیں بلکہ یہاں کی خلائی مخلوق نے تو صرف نفرت کا بیج بویا تھا بلکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جو ہم دنیا کا خطرناک کام کرنے جا رہے ہیں کل کو کالے سانپ کی طرح یہ ہمارے گلے پڑ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی۔ ہماری خلائی مخلوق نے تو اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کردیا اب بچے کے ہاتھ میں ہے وہ کس قسم کا پیشہ اختیار کرتا ہے اور کس کس کا دروازہ کھٹ کھٹاتا ہے۔

آئیے اب اس شہر کا ماضی دیکھتے ہیں کہ یہ کیا تھا، کن لوگوں نے اس شہر کو بنایا تھا اور جنہوں نے بنایا اب وہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں کیا وہ بھی شہر کو حاصل کرنے کے لئے ہماری طرح ہتھیار اٹھائیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو مار کر سڑکوں پر پھینک دیں، وہ جو اس شہر کے مالک تھے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ بس ہمارا جو اس شہر میں ثقافتی ورثہ ہے بس اس کی حفاظت کی جائے۔

اب شروع ہوتی ہے اصل کہانی 1723ع میں جب ٹھٹہ جو کہ سندھ کا ایک تاریخی شہر اور دارالحکومت رہ چکا ہے۔ ٹھٹہ سے ایک مشہور کاروباری شخصیت سیٹھ بھوجھومل کراچی کی طرف گھوڑوں پر روانہ ہوئے جب کاروباری لشکر کراچی پہنچا تو دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہ تھا صرف یہاں کچھ مچھیروں، جوکھیا، خاصخیلی وغیرہ کے گاؤں تھے باقی پوری بنجر اور پہاڑی زمین تھی۔ سیٹھ بھوجومل یہاں آئے اور ایک ایسا قدم اٹھایا جو کہ شاید سندھ کی تاریخ میں کسی نے نہیں اٹھایا ہوگا، سیٹھ بھوجومل نے یہاں آتے ہی ایک قلعہ شہر کے گرد بنوایا اور اس کے ساتھ یہاں کی بنجر زمین کو آباد کرنا شروع کر دیا، آہستہ آہستہ یہ علاقہ ترقی کرتا چلا گیا، اور اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے سیٹھ بھوجومل نے باقی سندھی ہندوؤں کو پورے سندھ سے کراچی کاروبار کے حوالے سے بلا لیا جو کہ پہلے ہی کاروبار کی دنیا کے بے تاب بادشاہ تھے۔

سندھی ہندوؤں کے آنے سے کراچی ترقی کرتا چلا گیا، سمندری راستوں سے باقی دنیا سے بھی ان کا کاروبار شروع ہوگیا جس میں مسقط، قطر، ایران، اٹلی، اسپین اور باقی دنیا سے ان کا مکمل کاروباری رابطہ قائم ہوگیا اور یوں کاروبار سے یہاں شہری آبادی بھی وجود میں آگئی اور سیٹھ بھوجومل کے بعد کراچی کو جدید اور انٹرنیشنل سٹی بنانے میں کردار ہرچند رائے بھروانی کا رہا ہے اسی لئے سیٹھ بھوجومل کو ’فاؤنڈر آف کراچی‘ اور ہرچند رائے بھروانی کو’ فادرآف ماڈرن کراچی‘ کہا جاتا ہے اور اسی ہرچند رائے بھروانی کے مجسمے کا گلا کاٹ کر موہٹا پیلیس میں پھینک دیا گیا ہے۔

1843ع میں انگریزوں کے حملے سے پہلے سندھ ایک الگ آزاد ریاست تھی، انگریزوں نے جب سندھ فتح کیا تو اس سے پہلے سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد تھا، انگریزوں کے قبضے کے بعد سندھ کا دارالحکومت حیدر آباد سے کراچی منتقل کیا گیا اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انگریزوں نے اس خطے کی تجارت کے لئے کراچی کو سندھ کا دارالحکومت بنایا اور یہاں ایک بات واضح کرنا بھی لازمی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کے کراچی کو صرف انگریزوں نے بنایا تھا لیکن انگریز تو صرف انتظامیہ، پولیس، فوج، کمیونیکیشن وغیرہ چلا رہے تھے تو کیا کراچی میں اس سے پہلے انسان نہیں رہتے تھے؟ کیا یہ ثبوت کافی نہیں کہ کراچی میں صدیوں پرانے مندر آج بھی قائم ہیں اور یہ بنگلوز، اپارٹمینٹ، بلڈنگز، دھرم شالہ، پنچایت ہال وغیرہ اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ کراچی کو بنانے والے سندھی ہندو ہی تھے۔ کراچی شہر میں آج بھی بنگلوز، اپارٹمینٹ، بلڈنگز، دھرم شالا، پنچائت ہال وغیرہ پر ہندوں کے نام کی لگی ہوئی تختیاں اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کے کہ کراچی کو ان لوگوں نے ہی بنایا تھا۔ سندھی ہندوؤں کے علاوہ کراچی کو بنانے میں تھوڑا بہت کردار انگریز، پارسی اور سکھوں کا بھی تھا۔ وہ کراچی جہاں ہمیں کافی ساری نشانیاں ملیں گی جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کے یہ لوگ کتنے انسان دوست تھے اگر ہم صدر کے علاقے چلے جائیں تو ہمیں بہت ساری پانی کی سبیلیں ملیں گی جن پر ہندوؤں کے نام آج بھی لکھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ ہر مذہب کے لوگ آپس میں سکون اور امن کے ساتھ رہتے تھے چاہے وہ ہندو ہو یا یہودی، فارسی، کرسچن یا سکھ ہو ان کے درمیان کبھی کوئی فساد نہیں ہوا۔

جن لوگوں نے یہ شہر بنایا تھا وہ جنوری 1948ع کے مذہبی فاسادات کی وجہ سے یہ لوگ کراچی چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے ہندوستان، امریکہ، انگلینڈ، ہانگ کانگ، سنگاپور وغیرہ ہمیشہ کے لئے چلے گئی لیکن 1947ع اور 1948ع کے فسادات ابھی تک اس شہر کی جان نہیں چھوڑ رہے، اس شہر کے اصل مالکان بھی آپس میں کبھی اس طرح نہیں لڑے ہوں گے جس طرح ہم لڑرہے ہیں۔ سندھی ہندو آج بھی باہر ملک سے اس شہر میں اپنے گھر وغیرہ دیکھنے آتے ہیں یا باہر ملک میں بیٹھ کر کراچی میں کسی فساد کی خبر سن رہے ہوتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یہی جملے دہراتے ہیں ’ جب ہم کراچی میں تھے تو کسی قسم کا کسی غیر مذہب یا کسی قوم کے ساتھ کبھی کوئی فساد نہیں ہوا اب تو آپ کے مذہب کے لوگوں کا الگ ملک بن گیا ہے اب کیوں اس قسم کے فسادات ہورہے ہیں؟ ‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں