پی ٹی ایم کو کراچی میں جلسہ کرنے کی ’اجازت مل گئی‘: کارکن اور حامی گرفتار


حکومت سندھ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو کراچی میں سہراب گوٹھ میں واقع ایک میدان میں جلسے کی اجازت دے دی ہے جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جلسہ پرامن ہوگا اور اشتعال انگیزی نہیں کی جائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ایک پیغام پر پی ٹی ایم کو جلسے کی اجازت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجازت میں تاخیر ہوئی نہ مشکلات اور انھیں امید ہے کہ اتوار کو ہر چیز پرامن رہے گی۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں تنظیم کا جلسہ روکنے کے لیے ان کے 12 سے زائد کارکنوں اور حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تنظیم کے سربراہ منظور پشتین کا ایئرٹکٹ منسوخ کردیا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پی ٹی ایم نے 13 مئی کو باغ جناح میں جلسہ عام کا اعلان کیا تھا، جس میں عوام کی شرکت کے لیے جمعے کی شام ایک ریلی نکالی گئی جو شہر کے پشتون علاقوں قصبہ سہراب گوٹھ، اورنگی اور بنارس سمیت دیگر علاقوں سے گزری۔

سندھ حکومت نے گذشتہ روز پی ٹی ایم کو باغ جناح پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ اسی روز مذہبی جماعت نے بھی احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، اس لیے اسی مقام پر جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم سنیچر کی شام حکومت سندھ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو کراچی میں سہراب گوٹھ پر الاآصف سکوائر کے عقب میں واقع میدان میں جلسے کی اجازت دے دی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کا موقف تھا کہ انھیں جلسے پر اعتراض نہیں لیکن جگہ تبدیل کی جائے۔ انھوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متبادل جگہ فراہم کریں۔

پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کے مطابق انہیں کمشنر آفس سے ٹیلیفون آیا کہ وہ انتظامی امور پر ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تین گاڑیوں میں سوار ہوکر ملاقات کے لیے کمشنر آفس پہنچے وہ تو اندر داخل ہوگئے مگر پیچھے جو دو گاڑیاں آرہی تھیں انہیں روک کر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے موبائل چھین لیے اور ہمارے تین ساتھیوں مرجان، ہاشم مندوخیل اور سیف افغان کو ساتھ لے گئے۔

تنطیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ان کے لاپتہ کارکنوں اور ہمدردوں میں منور، خان جان، اکبر جان، سیف افغان، گل مرجان، ہاشم خان، زین الدین، طارق خان، اجمل خان، عالم زیب، رضا وزیر، سعد عالم، ارمان لونی، امن خٹک شامل ہیں، جبکہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض احمد بھی لاپتہ ہیں جو ان کے حامی ہیں۔

رہنما محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کراچی آنے کے لیے جب اسلام آباد ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہوائی کمپنی نے انہیں بتایا کہ ٹکٹ منسوخ کیا جاچکا ہے جبکہ کسی بھی دوسری ہوائی کمپنی نے انہیں آج اور کل کے لیے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔

’یہ جو جتنی بھی پکڑ دھکڑ کی گئی ہے یہ ہمارا جلسہ ناکام بنانے کی کوشش ہے اور ہر طرح کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے جب ہم نے اعلان کیا تو تمام جماعتوں نے اعلان کردیا جس کے بعد ہم نے تاریخ تبدیل کردی۔‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp