میری امی۔ میری سپر ہیرو


کائنات کی سب ماؤں کی کہانی ایک سی ہو تی ہے۔ محبت، مہربانی اور قربانی کی کہانی۔ جس کہانی میں یہ سب نہ ہو، وہ عورت تو ہو سکتی ہے، بچہ پیدا کرنے والی مشین بھی ہو سکتی ہے، مگر ماں نہیں، دوسری طرف وہ عورت جو کسی طبی مجبوری کی وجہ سے بچہ پیدا کر نے کی اہل نہ ہو مگر یہ سب محبت، قربانی اور مہربانی کر نے کی اہلیت رکھتی ہو، وہ بچہ نہ جننے کے باوجود ماں ہو تی ہے۔ ماں کے رتبے کا صرف بچہ پیدا کر دینے سے تعلق نہیں، کیونکہ ماں وہ عورت ہو تی ہے جو حالات کیسے بھی ہوں اپنے بچوں سے پیار کر نا نہیں چھوڑتی، اپنے بچوں کو نہیں چھوڑتی۔ وہ خوشیوں کو بچوں کی خاطر چھوڑ دیتی ہیں، اپنی خوشیوں کی خاطر بچے نہیں چھوڑ تی۔ تو آج کے مشینی دور میں عورت اور ماں کے فرق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کئی عورتیں بچوں کو، صرف جنم دے کے عمر بھر کے لئے جذباتی بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا لیتی ہیں اور جو اصلی مائیں ہیں وہ سب کر نے کے بعد بھی بچوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو تی رہتی ہیں۔

ماں کو زمانہ ستائے یا بچے، پھر بھی اس کا دل دنیا کی وہ واحد مسجد رہتی ہے جہاں سے انسان کے لئے صرف دعا نکلتی ہے۔ ورنہ تو دنیا نام ہے لین دین کا۔ اس رشتے کو رب نے اپنی شکل میں دنیا میں اتار دیا۔ اس نے کہا میں ہر جگہ ہو تا تو ہوں لیکن ہر کسی سے ایک جیسی محبت نہیں کر سکتا تو اس کا حل یہی تھا کہ ماں بنا دی جائے جو خدا کی بنائی مخلوق کو بے لوث اور بے غرض پیار سے نوازتی جائے۔

مدرز ڈے۔ میں ان سب بچوں کی زبان بن کر ان ساری ماؤں کا شکریہ ادا کر نا چاہتی ہوں، جو عورت بعد میں اور ماں پہلے ہیں۔ جنہوں نے اپنا حسن، جوانی، ذہانت، خواہش، سب اپنے بچوں میں رکھ دیں، او ر خود مٹ گئیں، مگر یہ مٹنا ایسا مٹنا ہو تا ہے، جو کبھی مٹتا نہیں، آپ کے بچوں میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور ایک ماں کی خوشی اور اطمینان اس سے زیادہ کیا ہو گا کہ اس کے بچے دنیا کے حسین، صحت مند، لائق فائق، کامیاب بچے بن جائیں ایسا نہ ہو تو ماں کو اپنا حسن، صحت، ذہانت، اور کامیابی، سب زہر لگنے لگ جاتی ہیں۔ ایک دفعہ پھر سے یاد کرا دوں میں ماؤں کی بات کر رہی ہوں، عورتوں کی نہیں۔ مائیں جو صرف بچوں کو جنم ہی نہیں دیتیں، ان کی پرورش، خوشی، صحت کے لئے، اپنا آپ زندگی کے آخری لمحے تک حاضر جناب رکھتی ہے۔ بچے لاکھ گستاخ ہو جائیں، قسمت ان ماؤں پر جتنی بھی نا مہربان ہو جائے، حالات کتنے بھی دشوار گذار ہو جائیں، وہ ساری دنیا سے کنارہ کش ہو جائیں، مگر ان کے ماتھے پر اپنے بچوں کے لئے availableکا بورڈ لگا ہی رہتا ہے۔ صرف موت ہی ہے جو لے جائے تو ماں، بچے کے بلکنے رونے بلانے پر، واپس نہیں آتی، آکراپنی گود میں اس کا سر نہیں رکھتی، اس کو یہ نہیں کہتی بچے فکر نہ کر میں آگئی ہوں۔ بس تب ہی نہیں وہ ہوتی، ورنہ تو ماں ہر جگہ ہو تی ہے۔

یہ تو ہو گئی سب ماؤں کی بات، مگر ایک بات ہے جو میری ماں کی ہے اور وہ یہ کہ وہ صرف میری ماں نہیں میری ہیرو بھی ہے۔ اور ہیرو بھی صرف ہیرو نہیں بلکہ سپر ہیرو۔ ایونجیرز میں جو کام سب ہیرو مل جل کر رہے ہیں، میں نے اپنی ماں کو اکیلے کرتے دیکھا ہے۔

ہر ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے، ہر قسم کے حالات میں ڈٹے ہو ئے، زندگی میں بار بار گری ہو ئی عمارت کو نئے سرے سے پہلی اینٹ کے ساتھ جوڑتے ہوئے، زندگی میںآنے والے مصیبتوں کے مانسٹرز سے بہادری سے ٹکراتے ہو ئے۔ بچوں کو مشکل سے بچانے کا وقت ہو تو، کبھی سپائڈر میں، تو کبھی آئرن مین، کبھی کپیٹن امریکہ، کبھی تھور تو کبھی ہلک۔ میں نے تو اپنی ماں کو ایسی ہی حالتوں میں دیکھا۔ ۔ ماؤں کی کہانیاں بہت طویل ہو تی ہیں، پوری الف لیلوی داستان ہو تی ہیں، وہ اس میں سے اچھے اچھے حصے بچوں کو سنانا چاہتی ہیں، مگر چونکہ بچپن میں بچے ماؤں کو ہی چمٹے رہتے ہیں تو وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ماؤں کو ان کے بچپن میں لے جاتے ہیں، ان کی متجسس آنکھوں میں ڈھیروں سوال ہو تے ہیں، جنہیں ہم ماں باپ کہہ رہے ہیں، وہ کون لوگ ہیں۔ جیسے ایک دن میری بیٹی مجھے کہنے لگی ماما کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمیں اپنے ہی ماں باپ کی زندگیوں کے بہت سے رازوں کا نہیں پتہ۔ آج کے بچے کواظہار کا طریقہ آگیا ہے تو اس نے پو چھ لیا، ہمارے بچپن میں نہ اظہار کی طاقت تھی نہ سلیقہ۔ اپنے ہی طریقے سے ماؤں کے دکھوں اور سکھوں میں گھسنے کی کوشش کر تے تھے۔

مجھے یاد ہے ایک تصویر دیکھ کر میری امی زارو قطار رویا کر تی تھیں، بس وہی لمحہ ہو تا تھا، جب ہم انہیں کمزور پاتے تھے، وہ تصویر اس کی تھی جو انہیں دنیا میں لانے کا باعث تو تھا، مگر وہاں رکا نہیں، ۔ اس تصویر کے آگے وہ پگھلتی جاتیں۔ اس وقت لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ہماری مضبوط والی امی ہیں، اس وقت لگتا بس ایک چھوٹی سی بچی ہے جسے بس اپنا باپ چاہیے۔ ۔ اب وہ منظر یاد آتا ہے تو سوچتی ہوں کہ اس وقت امی اپنے آپ کو کتنا اکیلا کتنا بے بس محسوس کر تی ہوں گی۔

ہم اپنی نانی کو دیکھتے تھے، امی ہی کی طرح کی حسین عورت، جس نے شاید امی کو سترہ سال کی عمر میں جنم دے دیا تھا، ان کی، شوہر کے انتقال کے بعد، دوسری شادی کر ادی گئی تھی، اور جب ہم نے انہیں دیکھا تو دوسرے بچوں میں مصروف دیکھا، ذرا بڑے ہو ئے تو پتہ چلا وہ ہماری نانی ہیں مگر امی کی امی ان کی نانی تھی، جنہوں نے اپنی بیوہ بیٹی کو بیاہ کر میری امی کو سینے سے لگا لیا تھا۔ اس وقت کے بزرگوں کی عقلمندی اور قربانی یاد تو آتی ہے مگر آج کے دور میں سمجھ نہیں آتی۔

شاید، امی جب پالنے میں ہوں گی، اور ان کے ابو چل بسے ہو نگے، تب سے ہی، فطرت نے ان کے اندر ایک خاص صفت رکھ دی تھی، اور وہ صفت تھی جو انہیں عام عورت سے ماں اور ماں سے اٹھا کر سپر ہیرو بنا تی ہے۔ ہمت نہ ہا رنے کی، ابھرنے کی اور حالات کے مطابق ڈھل جانے کی۔

جب 16 سال کی عمر میں ان کی شادی اپنے سے بیس سال بڑے انسان سے کروا دی گئی، جو کسی لحاظ سے بھی ان کا میچ نہ تھے، تو نبھانے کی ٹھان لی۔ ایسی شادیوں میں بہت خطرناک موڑ آتے ہیں، انتہائی خوبصورت اور کم عمر ہو نے کے باوجود، فرار کی بجائے، حالات کا مقابلہ کر تی رہیں۔ میری یاداشت میں وہ عورت ہے، جو بہت خو بصورت تھی، چھ بچے پیدا کر کے بھی دبلی پتلی، اتنے دکھ غم سہ کے بھی ہنسنے مسکرانے والی، میری یاداشت میں، وہ عورت ہے جو بچپن میں ہمارے ساتھ رسہ کودا کر تی تھیں۔ چھوٹی سی تو تھیں، بڑی بہن بتاتی ہیں، کہ سکول میں انہی بچیوں کو پڑھا کر، پھر انہی کے ساتھ کھیلا کر تی تھیں، اور خود امی بتاتی ہیں، بڑی بہن جب پیدا ہو ئی اسے دودھ پلا کر، پھر باہر آکر سکول کی ٹیچرز ( میرے ابو کا فیصل آباد میں بہت بڑا سکول ہوا کرتا تھا، جہاں امی پڑھا یا بھی کرتی تھیں، اورجو بعد میں بھٹو نے نیشنلائز کر دیا تھا ) کے ساتھ کھیلنے لگ جاتی تھیں۔

بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد ہے، جو میری بڑی بہنوں سے ہی مجھ تک ایسے پہنچی ہے جیسے میں خود وہاں موجود تھی، امی کا کالا لمبا کوٹ، ہیل والے کوٹ شوز، دمکتی ہوئی سرخ و سفید پٹھانوں جیسی رنگت، جب سکول میں مینا بازار لگتا تھا، تو بچوں کی مائیں، صرف امی کو دیکھنے، ان سے ملنے، آیا کر تی تھیں۔ کہ آج مس بانو بہت پیاری لگ رہی ہوں گی۔

بچپن میں یتیم، اور ماں کی دوسری شادی کے بعد بے سہارا، رہ جانے والی بچی جسے اس کی نانی نے پالا ہو، اور نانی وزیر آباد میں رہتی ہو، ایسی بچی کو ویسٹرن سٹائل کے پروفیشنل فیشن اور سٹائل کی کیسی سمجھ تھی، اس بچی کے اندر سرسید والا جذبہ کہاں سے آگیا؟ جب ان کی ہم عمر لڑکیاں بناؤ سنگھار، شاپنگ، امورِ خانہ داری میں الجھی ہو تی تھیں، وہ اوپر نیچے پیدا ہو نے والی چار بیٹیوں کو، سجنے سنورنے یا مردوں سے ناز اٹھوانے کی بجائے طاقتور عورتیں بنانے میں مصرو ف تھیں۔

مجھے نہیں یاد کہ ہم نے کبھی ضرورت سے زیادہ کپڑے، کھلونے یا جوتے خریدے ہوں۔ مجھے نہیں یا د کہ ہماری امی نے ہمیں صاف ستھرا، ہلکی سی کریم اور ہونٹوں پر ویسلن لگانے کے علاوہ کسی اور سنگھار کی ترغیب دی ہو۔ یا انہیں دیکھ کر ہمارے اندر خود بخود کوئی ایسی خواہش جاگی ہو۔ انہوں نے کسی ذہین انجئینر کی طرح ہماری بنیادوں کو ٹھوس بنانے کی طرف تو جہ رکھی۔ ان کی زندگی کا نصب العین دو باتیں تھیں۔ اپنے بچوں کی صحت اور تعلیم۔ حالات جیسے بھی ہوں، تنگی ہو اور ردی بیچنی پڑے یا سکول میں بچوں کی تعداد بہت بڑھ جائے اور خوشحالی آجائے، دونوں صورتوں میں، ہمیں پھل، بکرے کا گوشت، گندم کی روٹی، دیسی گھی اور دودھ دہی کھانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ اور دوسری چیز تعلیم۔ پڑھنا ہے یا پڑھانا ہے۔ میں جب تک امی کے گھر رہی، میں نے یا پڑھا، یا پڑھایا، اس کے علاوہ امی نے مجھ سے کوئی کام نہیں لیا۔ نہ کبھی روایتی ماؤں کی طرح یہ کہا کہ، کھانا پکانا سیکھو، نہ کبھی یہ کہا کہ صفائی کر و۔ صرف ایک ہی بات پر ڈانٹ پڑی کہ وقت ضائع نہ کر و۔ کھانا ٹھیک سے کھاؤ، دودھ کیوں نہیں پیا۔ اس کے علاوہ میری یاداشت میں نہیں کہ امی نے اپنے آرام کی خاطر کبھی ہمیں تنگ کیا ہو، یہاں تک کے جب کبھی کام والی نہیں آتی تھی، توسکول اور ٹیوشن پڑھا کر، خود جھاڑو پکڑ لیتی تھیں، برتن دھوتیں، اور یہاں تک کے واشنگ مشین کے نہ ہو تے ہو ئے کپڑے بھی خود دھو لیتی تھیں۔ ان کی مامتا اور محنت کو یاد کر وں تو آج کی مائیں، کاغذی سی لگتی ہیں۔

جب بڑی بہن میڈیکل کالج میں پہنچی تو خاندان والوں نے کہا، لڑکیوں کو اتنا نہیں پڑھاتے، یا وہ لوگ پڑھاتے ہیں جن کے پاس وسائل ہوں، امی کہتیں، وسائل کے ساتھ تو سب پڑھا لیتے ہیں، میں ان کے لئے وسائل پیدا کر کے انہیں پڑھاؤں گی، میری امی کی ایک خالہ ہو ا کر تی تھیں وہ امی کو کہا کرتی تھیں، یہ پڑھ بھی گئیں تو تمھیں کیا فائدہ، ان کی کمائیاں، ان کے شوہر، اور ان کے خاندان کھائیں گے، امی نے کہا میری بیٹیاں مردوں کی طرح کمائیں گی، اور دوسروں کو بھی کھلائیں گی، اس سے زیادہ میرے لئے کیا خوشی کی بات ہو گی۔ یہ مردوں کی محتاج نہیں ہوں گی۔
اور تم؟ ۔ وہ تشویش سے پوچھتی تھیں بیٹوں کو پڑھاؤ، وہ تمھیں عیش کر ائیں گے، یہ پیسہ بیٹوں پر لگا نا۔

امی جواب دیتیں : مجھے اپنے لئے کیا چاہیے، نہ مجھے کپڑوں کا شوق ہے نہ باہر کھانے کا، نہ کسی اور عیاشی کا، میرے سارا شوق تو انہی بچوں کی ذات کی تکمیل ہے اور بیٹا یا بیٹی کیا ہو تا ہے۔ بیٹیاں، بیٹوں سے بڑھ کر خیال کر تی ہیں، جو کر نے والی ہو تی ہیں۔ مجھے امی اور ان کی خالہ کی یہ باتیں آج بھی یاد ہیں۔ جیسے وہ ابھی میرے سامنے بیٹھی دہرا رہی ہوں، اور میں ساتھ ہی انجان بنی بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی ہوں۔ اس دن مجھے امی کی خالہ، جسے ہم بھی خالہ ہی کہتے تھے، بڑی عجیب سی لگیں، اپنے گھر میں لڑکا لڑکی کا یہ فرق، میں نے پہلی دفعہ سنا تھا، جو بعد میں وقت نے صحیح بھی ثابت کیا، مگر تب تک یہ پرانے زمانے کی وزڈم کی قدر نہیں تھی، یہی لگتا تھا، بس سب انسان ہی ہو تے ہیں۔ امی نے ہمیں شرمانا لجانا نہیں بلکہ اعتماد سکھایا تھا، میں بنک تک لڑکوں کو لڑکا نہیں بلکہ اپنی طرح کا ایک انسان سمجھ کے بڑیلاپرواہی اور اعتماد سے بات کیا کرتی تھی، یہ تو وقت نے بتایا کہ یہ دنیا ہے جہاں کے سکول کی پر نسپل تمھاری ماں نہیں، بلکہ تنگ نظر، منافق اور دقیانوسی لوگ ہیں۔ کاش اس دنیا کے ہر سکول کی پرنسپل میرے ماں جیسی عورت ہو تی اور ہر عورت میری امی جیسی ماں ہو تی۔ جن کی سوچ، مکمل پردہ کر نے کے باوجود، اتنی آزاد، اتنی متوازن تھی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں