کراچی کی ’سیاست میں وقت کم اور مقابلہ سخت‘

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


بلاول بھٹو زرداری

BBC
بلاول بھٹو نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے انتخابات کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سیاست میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

باوجود اس کے ابھی عام انتخابات کا اعلان نہیں ہوا لیکن دو بڑی جماعتوں نے اپنے تنظیمی منشور سے الگ کراچی کے لیے روڈ میپ کا اعلان کر دیا ہے۔

سنیچر کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے شہر کے لیے 10 نکاتی روڈ میپ کا اعلان کیا۔

جس کے تحت پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، پولیس، بجلی، نوجوان کے لیے کھیل کے میدان، ماحولیات، سرکلر ریلوے اور ملازمت کے مواقع ان کی اولین ترجیح ہو گی اور کراچی پر توجہ دینے کے لیے وہ اسی شہر سے الیکشن بھی لڑیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کراچی کا نظام بدلیں گے اور تگڑا میئر لائیں گے جس کا انتخاب براہ راست الیکشن کے ذریعے کیا جائے گا۔

دوسری جانب سنیچر کو ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے انتخابات کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور ہم دلوں کو جوڑیں گے۔

’ہم بہتر رہائشی سہولیات کے ساتھ تفریح اور کھیلوں کے مواقع کی منصوبہ بندی کریں گے، روزگار کے خصوصی مواقعے پیدا کریں گے، صنعتوں کو پھر سے عروج دیں گے ،جس سے روزگار کے مواقعے بڑھیں گے، اس کےعلاوہ کراچی کے چھوٹے تاجروں کے لیے بھی خصوصی سہولیات مہیا کی جائیں گی اور سمندری پانی کو صاف کر کے میٹھا بنائیں گے۔‘

عمران خان

BBC
عمران خان کا کہنا تھا کراچی کا نظام بدلیں گے

عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بنارس میں باچا خان مرکز کے قریب جلسہ منعقد کیا گیا تھا تاہم ماضی کے مقابلے میں یہ ایک چھوٹا اجتماع تھا، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما شاہی سید کا کہنا تھا کہ اے این پی شہر کی سیاسی حقیقت تھی اور رہے گی۔

’ہمیں ہلکا لینے والے آئندہ عام انتخابات میں بھر پور سرپرائزز کے لیے تیار رہیں، عوامی نیشنل پارٹی عیدالفطر کے بعد بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کرے گی، کراچی ایک کثیر السانی اور بے پناہ مسائل زدہ شہر ہے، کوئی بھی ایک سیاسی جماعت کراچی کے مسائل کو تنہا حل نہیں کر سکتی۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم

’سیاستدانوں پر حملوں سے کئی سوالات اٹھتے ہیں‘

دعوت اسلامی کو زمین دینے کے فیصلے پر پیپلز پارٹی پر تنقید

کراچی میں اتوار کو پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے سہراب گوٹھ میں جلسہ عام منعقد کیا گیا ہے، بلاول بھٹو نے تو اس تحریک کا ذکر نہیں کیا تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ جو کہہ رہی ہے یہ میں بھی کہتا تھا لیکن مجھے طالبان خان کہا گیا۔

شاہی سید

BBC
ہمیں ہلکا لینے والے آئندہ عام انتخابات میں بھر پور سرپرائزز کے لیے تیار رہیں: شاہی سید

’فوج کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش ہو رہی ہے، فوج کا کیا قصور ہے اس نے تو وہ کرنا تھا جو حکم دیا گیا، قصور تو اس کا ہے جس نے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں آپریشن کا حکم جاری کیا، میں نے کہا تھا کہ فوج کو قبائلی علاقوں میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ وہ اپنے لوگوں میں جائیں گے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں گی۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہی سید کا کہنا تھا کہ پختون تحفظ موومنٹ کے ساتھی ہمارے بچے ہیں وہ بحیثیت ایک سیاسی کارکن ان سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے لہجے پر نظرثانی کریں، فاٹا کے مسائل کا مؤثر اور آسان حل اس کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی 12 مئی 2007 کو ہلاک ہونے والے کارکنوں کے لیے قرآن خوانی کا انتظام کیا گیا جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 12 مئی کو سب کا ہی نقصان ہوا لیکن تمام ملبہ ایم کیو ایم پر گرا دیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں مسلسل ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کراچی کے شہریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمہاری دشمن ہے اور اس کی ایک وجہ کوٹہ سسٹم ہے۔

’کوٹہ سسٹم میرے نانا نے شروع نہیں کیا تھا،یہ تو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں شروع ہوا تھا ، پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید نے کوٹہ سسٹم کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی اور جو لوگ آپ سے جھوٹ بول کر آپ کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’موروثی سیاست کا راستہ اپنی مرضی سے منتخب نہیں کیا‘

کیا یہی دہشت گردی کا خاتمہ ہے؟ بلاول کی کوئٹہ میں تقریر

’پنجاب میں اب صرف پی ٹی آئی اور نون لیگ میں مقابلہ ہے‘

کراچی میں تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسہ عام تھے دونوں ہی شہر کے تفریحی مقامات پر تھے، یعنی پیپلز پارٹی کا جلسہ باغ جناح میں تھا سامنے ہی پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا مزار ہے جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں لیکن جلسے کے انتطامات کی وجہ سے آمدورفت معطل رہی جبکہ تحریک انصاف کا جلسہ گلشن اقبال کے الادین پارک کے قریب تھا۔

الادین پارک بچوں میں مقبول ہے اور شام کو بڑی تعداد میں خاندان یہاں کا رخ کرتے ہیں لیکن سنیچر کو یہ تفریح حاصل نہ تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے میں تین خواتین توجہ کا مرکز رہیں ایک تھیں ملیر کی رینا یوسف مسیح جو دلہن کے روپ میں جلسہ گاہ میں پہنچیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے والدین کو کہہ دیا تھا پہلے چیئرمین کے جلسے میں جاؤں گی اس کے بعد شادی کرؤں گی، جبکہ دوسری دو خواتین سسئی لوہار اور تنویر آریجو تھیں جو شرکا میں پمفلٹ تقسیم کر رہی تھیں، سسئی کے والد ہدایت اللہ لوہار اور تنویر کے والد خادم حسین ناریجو گذشتہ کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3791 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp