شکر کریں آپ لڑکی نہیں ہیں


کیا آپ نے کبھی شکر کیا ہے کہ آپ ایک لڑکی نہیں ہیں؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔ اردو پڑھ رہے ہیں، پاکستانی باشندے ہیں، ساری عمر ماؤں، بہنوں، کولیگز، دوستوں، بیٹیوں اور بیویوں کی زندگی دیکھتے گزار دی پھر بھی کبھی شکر نہیں کیا؟

دیکھیں بھئی ایک چیز پہلے کلیئر کر لیتے ہیں۔ ادھر کوئی فیمینزم کی بات نہیں ہو گی، خواہ مخواہ میں کسی بندی کی سائیڈ نہیں لی جائے گی، مردوں کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا بس موٹی موٹی چند چیزیں دیکھ لیتے ہیں۔

بیالیس پینتالیس ڈگری کی گرمی پڑ رہی ہو اور آپ کو گھر کے ساتھ والی دکان سے چینی لینے جانا پڑے ، کس طرح جائیں گے ؟ وہی میلا پائجامہ یا نیکر، اوپر ٹی شرٹ، پاؤں میں ہوائی چپل اور یہ گیا بھائی۔ بہت ہو گا تو سر پہ کوئی پی کیپ پہن لیں گے ۔ ایک عام گلی محلے کی لڑکی کیسے جائے گی؟ پہلے نمبر پہ وہ سوچے گی کہ یار یہ جو کپڑے میں نے گھر میں پہنے ہوئے ہیں کیا یہ باہر پہن کے نکلا جا سکتا ہے ؟

دوسرے نمبر پہ اسے ایک لمبا چوڑا سا دوپٹہ کہیں سے ڈھونڈنا ہو گا۔ اگر وہ نہیں تو چادر ڈھونڈی جائے گی۔ اس کے بعد شدید گرمی کے عالم میں بکل مار کے وہ باہر نکلے گی۔ پہلے اسے دیکھنا ہو گا کہ وہ جو لفنگوں کا گروپ دکان کے باہر کھڑا ہوتا ہے وہ اس وقت موجود ہے یا نہیں، اچھا وہ تو موجود نہیں ہے لیکن دکان پہ اس وقت کون ہو گا؟

بابا جی خود ہیں یا ان کا ہیرو نما بیٹا کھڑا ہے ۔ بابا جی ہیں تو ٹھیک ہو گیا، بیٹا کھڑا ہے تو پھر دکان پہ اس وقت جانا مناسب ہو گا جب دو تین لوگ اور بھی موجود ہوں۔ پھر وہ فیصلہ کرے گی کہ تھوڑی دیر میں دروازے پہ کھڑی ہوتی ہوں جب ایک دو بندے دکان پہ آ جائیں گے تبھی جاؤں گی۔ پانچ منٹ بغیر پنکھے یا ہوا کے وہ دروازے میں جمی رہے گی۔ سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ جائے گا اور ایک دو گاہک دکان تک پہنچیں گے تو وہ بھی چلی جائے گی۔

آنکھیں نیچی، تیز تیز قدم، بار بار چادر لپیٹتی ہوئی وہ دکان پہ جائے گی، وہ ایک کلو چینی مانگے گی تو دونوں گاہگ مڑ کے اس کی طرف ضرور دیکھیں گے ، وہ دکان کے کسی شیلف پہ نظریں جمائے چینی تولے جانے کا انتظار کرے گی اور بالآخر یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد اسی طرح تیز تیز قدموں سے گھر آئے گی، دوپٹہ اتار کے پراں مارے گی (کبھی یہ بھی ممکن نہیں ہوتا) پنکھے کے نیچے بیٹھے گی اور ایک بار تو ضرور سوچے گی کہ کاش میں لڑکا ہوتی۔

یہ تو بات تھی بھری دوپہر میں نکلنے کی، جب گرمی بھی سخت ہے اور کتے تک نظر نہیں آ رہے ، جب آپ شام کو کسی بھی کام سے بازار جائیں تو کیا آپ پسند کریں گے کہ ہر کوئی آپ کو گھور رہا ہو؟ یہ لمبی داڑھی والے چاچا، وہ کلین شیوڈ دکاندار، یہ چودہ سال کا لڑکا، گھڑی والا جس نے فٹ پاتھ پہ ریک لگا کے گھڑیاں ٹھیک کرنی ہیں وہ، مطلب کوئی بھی ذی نفس جو ذرا سا بھی مرد ہو وہ مسلسل آپ کو گھورتا رہے ؟

آپ کو تو کوئی گھوری مار دے تو بابا آپ دوستوں یاروں کو بلا کے لڑنے کھڑے ہو جاتے ہیں، ہوتے ہیں کہ نہیں؟ مطلب گھورنا آپ کے یہاں آفینسو ہے ، اس کا ردعمل دینا آپ پہ فرض ہے ، لڑکی کیا کرتی ہو گی؟ وہ ہضم کر جاتی ہے ۔ وہ سوچتی ضرور ہے کہ یہ میرے دادا کی عمر کا بندہ جو مجھے گھور رہا ہے ، یہ جو ٹانگ بھر کا لونڈا ہے جس کی مونچھیں بھی ابھی ٹھیک سے نہیں نکلیں اور یہ جو گھڑی والا منحوس انسان ہے ان سب کو مجھ میں کیا انوکھا نظر آ رہا ہے جو دنیا بھر کی عورتوں میں نہیں ہوتا … لیکن وہ بات نہیں کرتی۔ وہ ضبط کرتی ہے ، اسے عادت ہو جاتی ہے اور گھورنے والوں کو پہلے شہہ ملتی ہے پھر انہیں بھی گھورنے کی عادت ہو جاتی ہے ۔

یعنی اب یہ طے ہے کہ لڑکی نکلے گی تو اسے گھورا جائے گا۔ سر سے پاؤں تک بغور ایکسرے ہو گا۔ برقع ہے ، چادر ہے ، دوپٹہ ہے یا جینز اور شرٹ ہے ان کی جانے بلا، وہ دیکھیں گے اور لازم ہے کہ آنکھ سے اوجھل ہونے تک برابر دیکھتے رہیں گے ۔

آپ کسی لڑکی سے بات کرتے ہیں تو اس وقت آپ کو کتنے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں؟ سکول میں، کالج میں، بازار میں، ریسٹورنٹ میں، دہی بھلے والے کی دکان پہ، بلکہ آپ کی گاڑی کے اندر بھی، کبھی غور کیا ہے کہ آپ کو کسی نے نوٹ کیا ہو؟ لیکن عین اسی وقت جب وہ لڑکی آپ سے بات کر رہی ہوتی ہے اور غلطی سے کہیں ہنس بھی دے تو پوری کائنات اس کے لیے بدل جاتی ہے ۔

سب سے پہلے پاس کھڑی ہوئی آنٹیاں اسے دیکھیں گی، پھر وہ اسے دیکھتی ہی رہیں گی، پھر آپس میں کھسر پھسر کریں گی، اسے ”خراب عورت‘‘ کا ٹائٹل دیا جائے گا، تب بھی دل نہیں بھرے گا تو ساتھ سے گزرتے ہوئے طے شدہ سکرپٹ پڑھیں گی، ”ہائے بہن، زمانہ کیسا خراب ہو گیا ہے ۔‘‘یہ تو ایویں مارکیٹ کا سین تھا۔ اگر آپ کالج کی کینٹین میں ہیں یا کسی رش والی جگہ پہ ہیں اور کوئی لڑکی آپ سے کسی کتاب کا پوچھنے آ جاتی ہے ، بس آس پاس موجود ہر جاندار کی نظروں میں ہو گیا۔ کام ہو گیا۔ پکا!

اب یہ طے ہے کہ ان کے خیال میں اس بدنصیب لڑکی کا آپ سے ٹھیک ٹھاک قسم کا افیئر ہے ، وہ آپ سے فون پہ باتیں بھی کرتی ہے ، کیا پتہ کالج کے باہر آپ سے ملتی بھی ہو اور یہ تو خیر سوچنے کی بھی ضرورت نہیں کہ اگلے ایک ڈیڑھ مہینے تک وہ آپ کے ہی ریفرنس سے پورے کالج میں جانی جائے گی۔ ”یار وہ سعدیہ آج ایبسینٹ ہے کیا؟ کون سعدیہ؟ ابے وہی جو علی کے ساتھ کینٹین پہ کھڑی ہوئی تھی کل!‘‘ گئی بھینس پانی میں۔

اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور آپ کو لگے کہ یار سارا ٹریفک آپ کے آس پاس ہی گھوم رہا ہے ؟ خاص کر جب سگنل سرخ ہوتا ہے تو ہر بار آس پاس وہی منحوس شکلیں ہوتی ہوں، کیسا محسوس ہو گا آپ کو؟ یہ بھی ہر کار ڈرائیور لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ جتنی بار شیشے میں دیکھے گی پیچھے دو تین مخصوص گاڑیاں نظر آئیں گی۔ جب کہیں گاڑی سلو ہو گی‘ ساتھ سے وہی موٹر سائیکل والا کراس کرے گا جو پیچھے تین سگنلوں پہ کر چکا ہے اور ہر بار ایسے مڑ کے دیکھتا ہے جیسے پہلی بار کراس کیا ہو۔

وہ جس گاڑی میں پانچ لڑکے بیٹھے ہیں جن کے بالوں میں کل ملا کے اتنا تیل ہے جس سے تین کلو پکوڑے تلے جا سکتے ہوں وہ تو بھائی برابر سے ہٹ کے چلیں گے ہی نہیں۔ آپ آگے کریں گی وہ سائیڈ سے آئیں گے ، آپ تیز چلائیں گی وہ دو تین موٹر سائیکل والوں کو سائیڈیں دے کے برابر آ جائیں گے ، آپ رک جائیں گی تو ذرا سا آگے جا کے رکنا ان کا فرض ہے ۔ صرف ایک سوال ہے یار، پانچوں میں سے کس کا بھلا ہو سکتا ہے اس قسم کی دیسی ہیرو گیری سے ؟

مطلب آپ کے خیال میں آپ کسی لڑکی کو تنگ کریں گے تو وہ آپ سے امپریس ہو جائے گی؟ یعنی آپ پانچوں سے ہو جائے گی یا آگے والے دو میں سے کسی ایک کو متاثر ہونے کے لیے چنے گی؟ (نجف خان کہتا تھا کہ گاڑی میں پانچ لڑکے بیٹھے ہوں تو پچھلی سیٹ والے تین ویسے ہی شدید مسکین نظر آتے ہیں)۔

مارکیٹ اکیلے مت جانا، شام کو جلدی گھر واپس آؤ (نوکری کرنے کی صورت میں)، اونچی آواز میں مت بولو، ہر وقت ہنسا نہیں کرتے ، لڑکیاں ضد نہیں کرتیں، اچھی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ بات نہیں کرتیں، اتنا تیز کیوں چلتی ہو؟ اتنا آہستہ کیوں چلتی ہو؟ تم ایسے کیوں چلتی ہو؟ لڑکیاں ایسے چلتی ہیں؟ دھوپ کا ایسا چشمہ کیوں لگایا؟

یہ کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، لڑکیاں ایسے چھینک نہیں مارتیں، اچھی لڑکیاں ہر کسی سے فری نہیں ہوتیں …

کیا واقعی آپ نے کبھی شکر نہیں کیا کہ آپ ایک لڑکی نہیں ہیں؟ ایک منٹ، اگر آپ ہمارے معاشرے میں عورت کے بلند و بالا مقام والا سبق یاد کر رہے ہیں تو گٹ اے لائف، نیچے واپس آ جائیں، یہاں عورت اگر سانس لیتی ہے تو وہ یہ سب کچھ بھگت کر ہی زندہ ہے ، گھروں میں ہونے والے ”ہلکے پھلکے تشدد‘‘کی روداد پھر کبھی سہی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 426 posts and counting.See all posts by husnain