ایک ہزار سنگینیں اور چار اخبار


کلکتہ کے جیل خانے میں اپنے قرض داروں کے غیظ و غضب کا شکار ایک انگریز جیمز ہکی اپنی قید کی آخری گھڑیاں گزار رہا ہے۔ وہ دوسرے انگریزوں کی طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازموں پر برستے ہوئے ہُن کی کہانیاں سن کر کلکتہ آیا تھا۔ یہاں اس نے تجارت کی، لیکن گھاٹا ہوا۔ اس گھاٹے کو پورا کرنے کے لیے اس نے قرض لیا اور قرض ادا نہ کرسکا، چنانچہ گرفتار ہوا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔

اجنبی ماحول، نامانوس زبان اور اس پر سے جیل ملازمین کا توہین آمیز سلوک۔ ان ملازموں نے گوروں کو اپنے آقا کے طور پر دیکھا تھا، یہ عجیب گورا تھا جو جیل میں سڑ رہا تھا۔ وہ اپنا غصہ اس پر نکالتے اور بات بے بات اسے ذلیل کرتے۔ ہکی ہندوستانی مچھروں، کھٹملوں اور پسوؤں سے لڑتے ہوئے ان دنوں کو یاد کرتا، جب وہ لندن میں تھا، اور خواب دیکھتا تھا۔ اب وہ پھر خواب دیکھ رہا تھا، اخبار نکالنے اور پرنٹنگ پریس لگانے کا خواب۔ ہکی جیل سے باہرآیا۔ اس نے پرنٹنگ پریس لگایا، اخبار نکالا، جس کا نام ہکیز بنگال گزٹ تھا۔

یہ گزٹ ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران کی بدعنوانیوں کی ناقابل تردید دستاویز ہوتی۔ ظاہر ہے کہ اسے زیادہ دنوں برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہکیز 1782 میں ایک بار پھر گرفتار ہوا، 19 مہینے کی جیل کاٹی اور پرنٹنگ پریس بھی بہ حقِ سرکار ضبط ہوا۔ آزاد ہوا تو اسے بہ جبر پہلے مدراس اور پھر بہ یک بینی دوگوش لندن روانہ کردیا گیا جہاں سے وہ واپس ہندوستان نہیں آسکتا تھا۔

وہ جب لندن بھیجا جارہا تھا تو اس نے چیخ کر کہا ’ہندوستانیو، تم یاد رکھنا کہ میں تمہارے ملک میں صحافت کا بانی ہوں‘۔ اس کا یہ جملہ اس نے سنا جو ہندوستانی صحافت کی تاریخ لکھ رہی تھی اور اس کے گزٹ کے پہلے شمارے میں اس کے لکھے ہوئے یہ الفاظ بھی پڑھے کہ ’میں‘ مسٹر ہکی صحافت کی آزادی کو ایک انگلش مین اور آزاد حکومت کے وجود کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں۔ رعایا کو اپنے اصول اور اپنی رائے کے اظہار کی آزادی ہونا چاہیے۔ اس آزادی کو دبانے کے لیے کیا جانے والا ہر قدم ظالمانہ اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

جیمز ہکی سے 12 برس پہلے بھی ایک شخص ولیم بولٹ تھا۔ وہ بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے وابستہ تھا۔ وہ بھی ایک اخبار نکالنا چاہتا تھا لیکن اس کا انجام بھی ہندوستان بدری ہوا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے راجا رام موہن رائے کی وہ پٹیشن آجاتی ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کے اس اقدام کے خلاف تھی، جس میں اخباروں، کتابوں اور پمفلٹوں کو چھاپنے کے لیے پرنٹنگ پریس کا استعمال قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔

راجا رام موہن رائے جو اپنے عہد کے ایک جید ادیب، دانشور اور سیاسی شعور رکھنے والے فرد تھے۔ انھوں نے انگریزی، بنگالی اور فارسی کے اخبارات 1822 میں جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جو اخبار نکال رہے ہیں، ان کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ عوام کی تربیت کرنا اور دوسرا یہ کہ حکومت کو رعایا کے مسائل سے آگاہ کرنا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ہزاروں میل دور سے آکر ہندوستانیوں کے حقوق غصب کرنے میں پیش پیش تھی، وہ ان کے ’حقوق‘ کو تسلیم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کمپنی کی طرف سے طرح طرح کی قدغنیں عائد کی گئیں۔ راجا رام موہن رائے اور ان کے چار ساتھیوں چندرکمار ٹیگور، دوارکا ناتھ ٹیگور، ہرچندر گھوش، گوری چرن بنرجی اور پرسن کمار گھوش نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے۔ یہ وہ بنگالی صحافی اور ادیب تھے جو بنگالی رسائل کے ایڈیٹر یا مالک تھے۔ اس پٹیشن کو ’آزادی صحافت کے منشور‘ کا نام دیا گیا اور اسے ہندوستانی صحافت کی تاریخ کی اہم ترین دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔

وہ جو ہندوستانی صحافت کی تاریخ لکھنے بیٹھی تھی، اس کے کانوں میں تین صدیوں کی لہروں پر سفر کرتا ہوا جیمز ہکی کا یہ جملہ گونجتا رہا کہ ’’ہندوستانیو! یاد رکھنا کہ میں تمہارے ملک میں صحافت کا بانی ہوں‘۔ اس نے غلام حیدر کی مرتب کی ہوئی کتاب ’آزادی کی کہانی، انگریزوں اور اخباروں کی زبانی‘ نکالی، اور اس کی ورق گردانی کی جو نپولین بوناپارٹ کے اس جملے سے شروع ہوئی تھی کہ ’’ہزار سنگینوں سے زیادہ چار مخالف اخباروں سے ڈرنا چاہیے۔‘

شاید اخباروں میں کچھ ایسی ہی طاقت ہے کہ ہمارے ملک کو غلام رکھنے والے انگریز جتنا آزادی کی لڑائیوں، بغاوتوں، فتنہ، فساد اور ہندوستانی سپاہیوں سے اور یہاں کے موسموں اور بیماریوں سے ڈرتے تھے، اتنا ہی ہندوستانی اخباروں سے بھی ڈرتے تھے۔ ایک بار 1811 میں انگلستان کی پارلیمنٹ میں ہندوستان کے اخباروں کی آزادی پر بحث ہورہی تھی۔ مخالف پارٹی چاہتی تھی کہ ہندوستان میں اخباروں کے خلاف انگریزوں نے جو قانون بنائے ہیں انھیں کھل کر بتایا جائے تو اس بات پر حکومت کرنے والی پارٹی کے ایک ممبر ہنری ڈنڈاس نے بڑے تعجب سے کہا تھا ’’معزز لارڈ شاید چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اخباروں پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے، اگر سچ مچ ان کا خیال یہی ہے تو مجھے کہنا پڑے گا کہ اس سے زیادہ وحشیانہ خیال کسی کے ذہن میں نہ آیا ہوگا کہ انگلستان کے اخباروں اور ہندوستان کے اخباروں کے ساتھ ایک سے قاعدے قانون برتے جائیں۔ ہندوستان میں اگر بغیر اجازت اخبار نکالنے کی چھوٹ دے دی جائے تو سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی‘‘۔

کچھ ایسی ہی بات سرموگھم، جو انگلستان میں سپریم کورٹ کے جج تھے، انھوں نے کہی تھی:

’’ہندوستان میں اخباروں کی آزادی کا دیا جانا بدترین قسم کا جرم ہوگا۔ مجھے خوشی ہوگی اگر کوئی صاحب میرے اس سوال کا جواب دے سکے کہ ہندوستان میں اگر ہم ایک آزاد دستور جاری کردیں تو پھر اس ملک پر ہمارے حق کس بنیاد پر قائم رہ سکیں گے‘‘؟

سر ٹامس منرو نے 1822 میں لکھا تھا:

’’ہندوستان میں ہم نے اپنی سلطنت کی بنیادیں جن اصولوں پر قائم کی ہیں ان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے رعایا کو اخباروں کی آزادی نہ کبھی دی گئی ہے اور نہ کبھی دی جائے گی۔ اگر ساری رعایا ہمارے اپنے وطن (انگلستان) کی ہوتی تو میں اخباروں کی پوری پوری آزادی کو ہی پسند کرتا لیکن چونکہ وہ ہمارے وطن کے لوگ نہیں ہیں، اس لیے اس سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی… اخباروں کی آزادی اور بدیسیوں کی حکومت دو ایسی چیزیں ہیں جو نہ کبھی ایک ساتھ جمع ہوسکتی ہیں اور نہ مل کر ایک ساتھ چل سکتی ہیں‘‘۔

اس کے سامنے ضمیرنیازی کی اور دوسرے صحافیوں کی لکھی ہوئی کتابوں کے علاوہ رپورٹیں ہیں۔ وہ ان کی ورق گردانی کرتی رہتی ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں صحافت پر کیسی ابتلائیں گزری ہیں، انھیں جان کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ ترکی اور اس کے ادیبوں اور صحافیوں کی عاشق ہے، اس کی نظر سے خالدہ ادیب خانم کی تحریریں گزری ہیں۔ خالدہ بیسویں صدی کے نصف اول میں ہندوستان آئیں تو آزادی کی جدوجہد کرنے والے، ادیبوں اور صحافیوں میں بہ طور خاص مسلمان دانشوروں اور ادیبوں میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔ ترک صحافیوں اور ادیبوں نے اپنے حق کے لیے کیسی شاندار جدوجہد کی تھی۔ آمرانہ حکومتوں کے دوران ترک لکھنے والوں پر کیا گزری۔ ادب کا نوبیل انعام لینے والا اورحان پامک، اس کے ناول، اس کی صحافیانہ تحریریں، آب زر سے لکھنے کے قابل۔

وہ اخباروں کے صفحے پلٹتی رہی۔ لیپ ٹاپ پر تازہ ترین تجزیے پڑھتی رہی۔ اخباروں سے، لکھنے والوں سے، کتابوں سے، مسلمان ملکوں کی منتخب حکومتوں کو بھی ڈر لگتا ہے۔ اس کی نگاہوں کے سامنے ترکی کے سب سے مشہور اور باوقار اخبار ’’جمہوریت‘ کے ایڈیٹر ان چیف مراد، کالم نگار اورحان اور چیف ایگزیکٹو ارکن اتالے ’جمہوریت‘ کے دفتر کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ لوگ طویل عرصہ جیل میں گزار کر آئے ہیں۔ 14 مشہور ترک صحافیوں اور وکیلوں پر دہشت گردی سے متعلق معاملات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ فی الحال یہ آزاد ہیں لیکن ان پر مقدمے چل رہے ہیں اور جیسے ہی ان پر دہشت گردی کے الزامات ثابت کردیے گئے، وہ 8 برس کے لیے جیل بھیج دیے جائیں گے۔

2016 میں ترک حکومت کے خلاف ایک بغاوت کچلی گئی۔ اس کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ جیل بھیج دیے گئے۔ ایک لاکھ چالیس ہزار ملازمتوں سے برخاست کیے گئے اور 160 صحافیوں پر مقدمات چلے۔ ان صحافیوں پر مبینہ طور سے دہشت گردی اور بغاوت میں حصہ لینے کے الزامات ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ لوگ ’جمہوریت‘ کا شمارہ ہاتھ میں لے کر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آن لائن ’جمہوریت‘ پڑھنے والوں کی تعداد لگ بھگ دس لاکھ ہوچکی ہے۔

اچانک اسکرین پر ایک بوڑھا بدحال انگریز نمودار ہوتا ہے، اٹھارویں صدی کے پھٹے پرانے یورپی لباس میں۔ وہ بوڑھا مکا لہراتا ہے ’’مجھے نہ بھولنا میں جیمز ہکی ہوں۔ ہندوستان میں صحافت میں نے آغاز کی ہے‘‘۔

’’میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں‘‘۔ وہ اپنا سر جھکا دیتی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں