علامہ اقبال اور مسلم لیگ میں اختلافات


درسی کتب سے ہٹ کر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو عجیب صورت حال سامنے آتی ہے۔ علامہ اقبال خرابی صحت کی بنا پر پنجاب پراونشل مسلم لیگ کی صدارت سے استعفی دے چکے تھے مگر وہ اس کے سرپرست اعلی مقرر کیے جا چکے تھے۔ ایسے میں پنجاب پراونشل مسلم لیگ کا آل انڈیا مسلم لیگ سے الحاق مسترد کیے جانا ہم میں سے کتنے لوگوں کو معلوم ہے؟ یہ الحاق لیاقت علی خان صاحب نے مسترد کیا تھا۔ اختلاف کی بنیادی وجہ سکندر-جناح پیکٹ کے نام سے مشہور معاہدہ تھا، جس کو اقبال اور پنجاب مسلم لیگ کے دیگر رہنما اپنی صوبائی جماعت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے تھے۔ یہ اھوال سنیے عاشق بٹالوی کی زبانی۔۔۔۔ عاشق صاحب کا تفصیلی تعارف الگ سے دیا جا رہا ہے

545e07e3bb3fdآل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے اپنے 20 مارچ 1938 کے اجلاس میں پانچ ممبروں کی ایک سب کمیٹی مقرر کی تھی، جس کے صدر نواب اسماعیل خاں اور سیکرٹری نواب زادہ لیاقت علی خاں تھے۔ اس سب کمیٹی کا یہ کام تھا کہ الحاق کی ان درخواستوں کا فیصلہ کرے جو ہندوستان کے مختلف صوبوں کی مسلم لیگوں کی طرف سے مرکزی دفتر میں موصول ہو رہی تھیں۔ پنجاب پراونشل مسلم لیگ نے 11 مارچ 1938 کو با ضابطہ اپنے الحاق کی درخواست دفتر کو ارسال کر دی تھی۔

پنجاب کی طرف سے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے جو نوے ممبر منتخب ہوئے تھے، ان میں سر سکندر کی پارٹی کا ایک آدمی بھی شامل نہیں تھا۔ سر سکندر کو اس واقعہ سے سخت تشویش لاحق ہو گئی تھی۔ اگر یہ صورت حال قائم رہتی تو گویا آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے سر سکندر حیات اور ان کے رفقاء یک قلم خراج کر دئے جاتے۔ یہ جو کچھ ہوا تھا بالکل لازمی اور طبعی تھا۔ اس میں بغض اور عناد کو قطعاَ کوئی دخل نہیں تھا۔ جب تک سر سکندر اور ان کی جماعت کے لوگ مسلم لیگ کے ممبر نہ بن جاتے، انھیں قاعدے اور قانون کی رو سے لیگ کونسل کے لئے منتخب نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ادھر آل انڈیا مسلم لیگ کو بھی یہ حق حاصل نہیں تھا کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے نوے آدمیوں کی فہرست مسترد کر کے خود اپنی مرضی سے اور لوگوں کو نامزد کر دے ہاں ایک طریقہ باقی تھا۔ وہ یہ کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا مرکزی دفتر پنجاب پراونشل مسلم لیگ کا الحاق منظور کرنے سے انکار کر دے۔ اس صورت میں جب کہ پنجاب اپنی صوبائی لیگ کے وجود ہی سے محروم ہوجاتا، آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کو اختیار تھا کہ اپنی مرضی سے پنجاب کے نوے آدمی کونسل کے لئے نامزد کر دے۔

545e07da35658 (1)اب سر سکندر اور ان کے ساتھیوں نے بڑی شد و مد سے دوڑ دھوپ شروع کی کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست مسترد کرادی جائے تاکہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل میں ان کی اپنی نامزدگی کا دروازہ کھل سکے۔

نواب ممدوٹ، میر مقبول محمود، میاں احمد یار خاں دولتانہ اور سید افضال علی حسنی نے دہلی پہنچ کر ڈیرہ لگا دیا اور نواب زادہ لیاقت علی خاں سے صبح شام ملاقاتیں ہونے لگیں۔ آخر کار یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور جس مہم پر نکلے تھے اسے فتح کر کے واپس آئے۔

لاہور میں کئی روز سے افواہ پھیل رہی تھی کہ پنجاب پراونشل لیگ مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ یہ افواہ میں نے بھی سنی۔ غلام رسول خان، ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے بھی سنی حتیٰ کہ ڈاکٹر (اقبال) صاحب تک بھی یہ افواہ پہنچ گئی۔ ہم حیران تھے کہ اس کی بنیاد کیا ہے۔ جب ادھر ادھر سے پوچھ گچھ کی، تو معلوم ہوا کہ یونینسٹ پارٹی کے صدر دفتر نے یہ بات مشہور کی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لیگ کے الحاق یا عدم الحاق کی اطلاع ہم سے بالا بالا یونینسٹ پارٹی کے صدر دفتر میں کیونکر پہنچ سکتی ہے۔

545e07d5812ddانہی دنوں ایک روز میں اور غلام رسول خاں ریلوے روڈ پر ایک دوست کے ہاں ایک شادی کی دعوت میں شریک ہوئے۔ کھانے سے فارغ ہو کر ابھی تمام مہمان کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب اٹھ کر میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے:

“آپ پنجاب مسلم لیگ کے سیکرٹری ہیں کیا؟”

میں نے جواب دیا:

“نہیں! میں جائنٹ سیکرٹری ہوں۔ سیکرٹری وہ سامنے بیٹھے ہیں غلام رسول خان۔ فرمائیے، کیا کام ہے آپ کو؟

بولے: “میں نے سنا ہے کہ آپ کی لیگ کے الحاق کی درخواست نا منظور ہوگئی ہے”۔

میں نے عرض کیا: “اس قسم کی افواہ بہت دنوں سے پھیل رہی ہے لیکن ہمارے پاس تو ابھی تک کوئی اطلاع نہیں آئی”۔

545e07e22a9c4وہ کہنے لگے: “آپ میری بات کو بالکل درست سمجھئے۔ میں نے خود میر مقبول محمود سے یہ سنا ہے۔”

میں ان کو لے کر غلام رسول خاں کے پاس چلا گیا۔ وہ کئی روز سے بھرے بیٹھے تھے، فوراَ بول اٹھے:

“یونینسٹ پارٹی کے لوگ جھوٹ بکتے ہیں۔ ہماری درخواست کا ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔”

میں نے غلام رسول خاں کو ایک طرف لے جا کر کہا:

“زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہئے۔ یہ جو کئی روز سے مشہور ہو رہا ہے۔ اس میں ضرور کچھ نہ کچھ صداقت ہے۔”

کہنے لگے: “پھر میں کیا کروں جو ہونا ہوگا ہوجائے گا۔”

اسی شام آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری کی طرف سے ہمیں باضابطہ اطلاع موصول ہوگئی کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔

545e07e56fff6یہ خط 5 اپریل کو ہمارے دفتر میں پہنچا۔ غلام رسول خاں نے اسی وقت علامہ اقبال، ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین وغیرہ کو اطلاع کر دی۔ ہمارا فوری رد عمل یہ تھا کہ ہمیں بطور احتجاج مسلم لیگ سے مستعفی ہو جانا چاہئے تاکہ نواب زادہ لیاقت علی خاں اپنی پسند کے آدمیوں کی مدد سے پنجاب میں مسلم لیگ کی جیسی شاخ چاہیں قائم کر لیں لیکن پھر غور کرنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ یہ رویہ قومی مصلحت کے خلاف ہے۔ اس لئے جملہ نقائص رفع کر کے الحاق کی نئی درخواست فی الفور دہلی بھیج دینی چاہئے۔

جن نقائص کی بنا پر ہماری درخواست مسترد کی گئی تھی، وہ محض اصطلاحی تھے۔ اگر نیت بخیر ہوتی تو ہمیں ہدایت کی جاسکتی تھی کہ ان نقائص کو رفع کے کے نئی درخواست بھیج دو۔ لیکن وہاں تو ارادہ یہی تھا کہ الحاق نہ ہونے پائے تا کہ سر سکندر حیات کے آدمیوں کو لیگ کونسل میں داخل کرنے کا راستہ صاف کیا جا سکے۔

غلام رسول خاں نے 12 اپریل کو پنجاب مسلم لیگ کونسل کا جلسہ کر کے سب کمیٹی کے دونوں اعتراض رفع کر دئے اور اصلاح شدہ آئین کے مسودے کے ساتھ الحاق کی نئی درخواست دہلی بھیج دی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے ہنگامے کے دوران نواب ممدوٹ نے اپنی شکل بھی ہمیں نہ دکھائی۔ وہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے صدر تھے اور ان کا فرض تھا کہ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے لیکن ازبسکہ ہماری درخواست کے مسترد کرائے جانے میں سب سے بڑا دخل انہی کو تھا۔ وہ اس موقع پر ہمارے قریب تک نہ آئے۔

545e07de8fb40اہل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خصوصی 18/19 اپریل کو کلکتہ میں ہونے والا تھا۔ ہمارا ارادہ وہاں جانے کا نہیں تھا۔ جب پنجاب پراونشل لیگ کا وجود ہی باقی نہیں رہا تھا تو آل انڈیا لیگ کے اجلاس میں شرکت بے معنی سی بات تھی۔ لیکن چونکہ اس اجلاس میں شہید گنج کے مسئلہ کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ اس لئے پنجاب بھر میں جوش و خروش پھیلا ہوا تھا اور بہت سے لوگ کلکتہ جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ہر ضلع سے مندوبین کی فہرستیں ہمارے دفتر میں پہنچ رہی تھیں۔ اور لوگ بڑے اصرار سے ڈیلی گیٹ کے ٹکٹ طلب کر رہے تھے۔ مجبوراَ ان تمام لوگوں کو اطلاع دینی پڑی کہ لیگ کا الحاق چونکہ منظور نہیں ہوا اس لئے کوئی شخص ڈیلی گیٹ کی حیثیت سے کلکتہ نہیں جاسکتا۔ اس خبر سے چاروں طرف مایوسی پھیل گئی۔

14  اپریل کو گیارہ بجے کے قریب غلام رسول خاں اور ملک زمان مہدی میرے مکان میں آئے اور کہنے لگے کہ تیار ہو جاؤ، آج شام کی گاڑی سے کلکتہ جانا ہے۔

میں نے تعجب سے پوچھا: “یہ فیصلہ کب ہوا کیونکہ گزشتہ شام تک تو کوئی ارادہ نہیں تھا۔”

غلام رسول خاں نے بتایا: “آج صبح ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ کلکتہ جا کر اپنی جنگ خود لڑو۔ یہاں گھر بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم اب ڈاکٹر ہی کی طرف جا رہے ہیں۔ تم بھی چلو۔”

545e07e6e04cdپہلے ہم ایک ضروری کام سے روزنامہ احسان کے دفتر گئے اور وہاں سے ڈاکٹر صاحب کے دولت کدے پر حاضر ہوئے۔ ملک برکت علی بھی وہاں موجود تھے ڈاکٹر صاحب آنکھیں بند کئے ہوئے پلنگ پر لیٹے تھے۔ غلام رسول خاں نے عرض کیا:

ہم لوگ شام کو کلکتہ جا رہے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: “ضرور جاؤ اور اپنے حق کے لئے آخر تک لڑو۔ ہمارے ساتھ سخت نا انصافی ہوئی ہے۔”

ملک برکت علی نے کہا: “اگر ہماری نئی درخواست بھی منظور نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟”

ڈاکٹر صاحب کی طبیعت خراب تھی۔ لیکن انہوں نے کسی قدر جوش سے فرمایا:

“کچھ فکر نہیں۔ درخواست منظور ہو یا نا منظور، جس اصول پر ہم نے اب تک کام کیا ہے آئندہ بھی جاری رہے گا۔”

جب ہم رخصت ہونے لگے تو فرمایا: “کسی کی پروا نہ کرنا۔”

545e07db14175ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین، غلام رسول خاں ، پیر تاج الدین، ملک زمان مہدی اور راقم السطور 14 اپریل کو شام کو کلکتہ روانہ ہوئے۔ راجہ عبدالعزیز بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہماری لیگ کا الحاق نا منظور ہوجانے کے باوجود پنجاب سے بہت سے لوگ کلکتہ جارہے تھے۔ سہارنپور کے سٹیشن پر نواب اسماعیل بھی ہماری گاڑی میں سوار ہو گئے۔ وہ بھی کلکتہ جا رہے تھے۔ نواب صاحب الحاق کی درخواستوں کا فیصلہ کرنے والی سب کمیٹی کے صدر تھے۔ جب ان سے پنجاب کے بارے میں ہماری مفصل گفتگو ہوئی، تو انہیں تمام حالات سن کر سخت افسوس ہوا۔ غلام رسول خاں کے پاس الحاق کی نئی درخواست بھی موجود تھی۔ نواب صاحب نے اسی وقت اس پر بڑے زور دار الفاظ میں لکھ دیا کہ الحاق فوراَ منظور ہوجانا چاہئیے۔

16 اپریل کی صبح کو ہم کلکتہ پہنچے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کی بالائی منزل میں قیام پذیر ہوئے۔ اسی روز دوپہر کو ایک بجے الحاق کی نئی درخواست جس پر نواب اسماعیل خاں کی سفارش درج تھی ہم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دفتر پہنچا دی۔

17 اپریل کو ساڑھے گیارہ بجے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہونے والا تھا۔ اس لئے 16 کی شام کو ہم نے اکٹھے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ اس اجلاس میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہماری درخواست پھر مسترد کر دی جائے گی۔ غلام رسول خاں تخت یا تختہ کے قائل تھے۔ آخر کسی قدر سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ اگر درخواست منظور نہ ہو تو راقم التحریر وہیں اجلاس میں کھڑے ہو کر بحث کا آغاز کرے اور اگر بحث طول کھینچ لے تو ملک برکت علی اور خلیفہ شجاع الدین مدد کریں۔

نواب زادہ لیاقت علی خاں نے پہلے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنائی۔ پھر صوبائی لیگوں کے الحاق کی درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آیا، تو کئی ایسی لیگوں کی درخواستیں منظور کر لی گئیں جن کا وجود محض کاغذی تھا اور جن کا کوئی آئین بھی نہیں تھا۔ صوبہ سرحد کی بھی ایک نام نہاد لیگ کا الحاق منظور کیا گیا۔ حالانکہ خود آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے اس وقت تسلیم کیا کہ اس لیگ کا وجود صرف کاغذی ہے اور اس کا کوئی دستور بھی تا حال وضع نہیں کیا گیا لیکن پنجاب کی طرف سے الحاق کی نئی درخواست پیش ہوئی، تو نواب زادہ لیاقت علی خاں نے مخالفت کی اور کہا کہ درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔

Dr-Allama-Iqbal-on-seat1میں اس موقع کا منتظر بیٹھا تھا۔ میں نے اسی وقت کھڑے ہو کر سوال کیا: “ہماری درخواست کے نا منظور کئے جانے کی وجہ کیا ہے؟”

نواب زادہ صاحب نے کسی قدر تحکمانہ انداز میں فرمایا: “بیٹھ جاؤ!”

میں نے عرض کیا: ” میں سکول کا طالب علم نہیں ہوں اور نہ آپ سکول کے ماسٹر کہ مجھے یوں بیٹھنے کا حکم دیں۔”

اس پر وہ بگڑ کر بولے: “کیا لاہور سے ہماری بے عزتی کرنے یہاں آئے ہو؟”

میں نے جواب دیا: “میں آپ کی بے عزتی کرنے تو نہیں آیا لیکن اپنی بے عزتی کرانے بھی نہیں آیا۔”

میرے پاس الہٰ آباد کے بیرسٹر ظہور احمد بیٹھے تھے۔ وہ میرا کوٹ کھینچ کے کہنے لگے: “بیٹھ جاؤ!”

545e07d9d1b96لیکن خلیفہ شجاع الدین پیچھے بیٹھے کہہ رہے تھے: “نہیں بولنے دو انہیں!”

مسٹر جناح یہ سب دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر پوچھا: “چاہتے کیا ہو؟”

میں نے عرض کیا: “پنجاب مسلم لیگ کا الحاق۔”

فرمایا: تم میں سے ایک آدمی یہاں آکر اپنا معاملہ پیش کرے۔”

ملک برکت علی نے پلیٹ فارم پر جا کر تقریر شروع کی۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو پورا ایوان ہمارا ہم خیال اور معاون بن گیا۔ لیکن مسٹر جناح نے چوبیس گھنٹے کی مہلت طلب کی اور فرمایا کہ سر سکندر آج شام کی گاڑی سے کلکتہ آرہے ہیں۔ کل صبح اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔

شام کو ہمیں پیغام ملا کہ دوسرے روز صبح آٹھ بجے مسٹر اصفہانی کے مکان پر جہاں مسٹر جناح مقیم تھے ہم حاضر ہوں تا کہ سر سکندر کی موجودگی میں معاملات طے کئے جائیں۔ سر سکندر کے ساتھ ان کے دونوں مسلمان وزیر اور تمام پارلیمنٹری سیکرٹری اور پرائیویٹ سیکرٹری آئے تھے۔ اس کے علاقہ نواب ممدوٹ بھی ان کے ہمرکاب تھے۔

545e07e3af276

مسٹر جناح نے فرمایا پنجاب میں ایک نئی پراونشل مسلم لیگ قائم کی جائے گی، جسے مرتب و منظم کرنے کے لئے ایک 35 آدمیوں کی آرگنائزنگ کمیٹی مقرر کی جاتی ہے اور اس آرگنائزنگ کمیٹی میں دونوں فریقوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہوگی۔

غلام رسول خاں نے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ ہمارے الحاق کی درخواست کا کیا حشر ہوا لیکن مسٹر جناح نے جواب دیا۔ گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پھر انہوں نے، ملک برکت علی سے کہا کہ آرگنائزنگ کمیٹی کے لئے اپنے آدمیوں کی ایک فہرست تیار کریں۔ ملک صاحب نے ایک کاغذ پر اٹھارہ آدمیوں کے نام لکھ دئیے۔

یہ مجلس مشاورت کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور بعض معاملات پر سر سکندر سے ہماری تیز و تند گفتگو بھی ہوئی۔

اسی شام آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے آرگنائزنگ کمیٹی کی مکمل اور باضابطہ فہرست ہمارے پاس بھیجی، تو ہمیں یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ اس میں ہماری پارٹی کے صرف دس آدمیوں کے نام درج تھے۔ پچیس آدمی سر سکندر حیات کے تھے۔ غلام رسول خاں غصے سے بے تاب ہوگئے۔ لیکن میں نے انہیں سمجھایا کہ اب چاہے ہمارا ایک بھی آدمی شامل نہ کیا جائے کم از کم مجھے نہ تعجب ہوگا نہ افسوس۔

آرگنائزنگ کمیٹی مندرجہ ذیل اصحاب پر مشتمل تھی۔

سر سکندر حیات خان، صدر  ۔۔۔ نواب ممدوٹ (نواب شاہنواز خان) ۔۔۔ سعادت علی خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ ملک خضر حیات ٹوانہ ۔۔۔ میاں عبدالحئی وزیر تعلیم  ۔۔۔ میاں احمد یار خاں دولتانہ  ۔۔۔ سید افضال علی حسنی۔ یونینسٹ۔۔۔ میاں مشتاق احمد گورمانی ۔۔۔ میر مقبول محمود۔ پارلیمنٹری سیکرٹری ۔۔۔ سید امجد علی ۔۔۔   غیاث الدین ایم ایل اے (مرکزی اسمبلی)  ۔۔۔ نواب زادہ خورشید علی خاں ۔۔۔ نواب سر محمد حیات خاں نون یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ راجہ فتح خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔    نواب مظفر خاں یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔  خان بہادر نواب فضل علی یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ راجہ غضنفر علی خاں پارلیمنٹری سیکرٹری ۔۔۔ کیپٹن سر شیر محمد خاں ایم ایل اے (مرکزی اسمبلی) ۔۔۔ خان بہادر شیخ کرامت علی یونینسٹ ایم ایل اے۔۔۔ چوہدری محمد یٰسین یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ شیخ صادق حسن امرت سر ۔۔۔ مولانا غلام رسول مہر ایڈیٹر انقلاب ۔۔۔ شیخ فیض محمد ۔۔۔ خان بہادر مولوی غلام محی الدین قصوری یونینسٹ ایم ایل اے  ۔۔۔ خان بہادر چوہدری ریاست علی یونینسٹ ایم ایل اے ۔۔۔ علامہ اقبال  ۔۔۔ ملک زمان مہدی خان ۔۔۔ خلیفہ شجاع الدین ۔۔۔ غلام رسول خان ۔۔۔ ملک برکت علی ۔۔۔  پیر تاج الدین ۔۔۔ مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش  ۔۔۔ مولانا ظفر علی خان  ۔۔۔ میاں عبدالعزیز بیرسٹر ایٹ لاء ۔۔۔ عاشق حسین بٹالوی

545e07e540182اب کلکتہ میں مزید قیام بے سود تھا۔ چنانچہ 19 اپریل کی شام کو ہم واپس روانہ ہوئے۔ کلکتہ سے لاہور تک کا طویل اور صبر آزما سفر اچھی خاصی کوفت میں کٹا۔ غلام رسول خاں کے مزاج میں غصہ زیادہ تھا۔ وہ راستے میں بار بار کہتے تھے کہ اب پنجاب میں مسلم لیگ کو ختم سمجھو۔ کبھی کہتے، افسوس! ہماری دو سال کی محنت رائیگاں گئی۔ کبھی کہتے ہم لاہور جا کر ڈاکٹر صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے۔

ملک زمان مہدی خاں کو بظاہر مسلم لیگ سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ میں لاہور پہنچ کر سیدھا اپنے گاؤں چلا جاؤں گا۔ میری زمینداری کے بہت سے کام رکے پڑے ہیں۔ خلیفہ شجاع الدین اور ملک برکت علی غالباَ یہ سوچ رہے تھے کہ ہائی کورٹ کھلنے پر انھیں کون کون سے اپیلوں میں پیش ہونا پڑے گا۔

میں اس خیال سے خوش تھا کہ چلو ہر روز کی دانتا کلکل ختم ہوئی۔ اب اطمینان سے بیٹھ کر کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کروں گا۔

۔21 اپریل کو صبح نو بجے ہم لاہور پہنچے۔ ابھی گاڑی پلیٹ فارم پر اچھی طرح رکنے بھی نہ پائی تھی کہ ہم نے اخبار فروش لڑکے کو چلّاتے ہوئے سنا۔ وہ پکار پکار کر کہ رہا تھا کہ ڈاکٹر اقبال فوت ہوگئے۔

اس خبر سے ہم پر ایک بجلی سی گر گئی اور تمام ساتھی دم بخود و پریشان ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ سٹیشن سے باہر آکر اپنے گھروں کو واپس جانے کی بجائے ہم سیدھے جاوید منزل گئے اور اس شخص کے جسد خاکی کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو آخری مرتبہ روشن کیا جس کے ساتھ اس کے نیازمندوں نے علم و ادب کی نہضت ثانیہ اور ملک و ملّت کی حیات تازہ کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “علامہ اقبال اور مسلم لیگ میں اختلافات

  • 22-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    great one……

Comments are closed.