علامہ اقبال اور مسلم لیگ میں اختلافات (1)


درسی کتب سے ہٹ کر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو عجیب صورت حال سامنے آتی ہے۔ علامہ اقبال خرابی صحت کی بنا پر پنجاب پراونشل مسلم لیگ کی صدارت سے استعفی دے چکے تھے مگر وہ اس کے سرپرست اعلی مقرر کیے جا چکے تھے۔ ایسے میں پنجاب پراونشل مسلم لیگ کا آل انڈیا مسلم لیگ سے الحاق مسترد کیے جانا ہم میں سے کتنے لوگوں کو معلوم ہے؟ یہ الحاق لیاقت علی خان صاحب نے مسترد کیا تھا۔ اختلاف کی بنیادی وجہ سکندر-جناح پیکٹ کے نام سے مشہور معاہدہ تھا، جس کو اقبال اور پنجاب مسلم لیگ کے دیگر رہنما اپنی صوبائی جماعت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے تھے۔ یہ احوال سنیے عاشق بٹالوی کی زبانی۔۔۔۔ 

آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے اپنے 20 مارچ 1938 کے اجلاس میں پانچ ممبروں کی ایک سب کمیٹی مقرر کی تھی، جس کے صدر نواب اسماعیل خاں اور سیکرٹری نواب زادہ لیاقت علی خاں تھے۔ اس سب کمیٹی کا یہ کام تھا کہ الحاق کی ان درخواستوں کا فیصلہ کرے جو ہندوستان کے مختلف صوبوں کی مسلم لیگوں کی طرف سے مرکزی دفتر میں موصول ہو رہی تھیں۔ پنجاب پراونشل مسلم لیگ نے 11 مارچ 1938 کو با ضابطہ اپنے الحاق کی درخواست دفتر کو ارسال کر دی تھی۔

پنجاب کی طرف سے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے جو نوے ممبر منتخب ہوئے تھے، ان میں سر سکندر حیات کی پارٹی کا ایک آدمی بھی شامل نہیں تھا۔ سر سکندر کو اس واقعہ سے سخت تشویش لاحق ہو گئی تھی۔ اگر یہ صورت حال قائم رہتی تو گویا آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے سر سکندر حیات اور ان کے رفقا یک قلم خراج کر دئے جاتے۔ یہ جو کچھ ہوا تھا بالکل لازمی اور طبعی تھا۔ اس میں بغض اور عناد کو قطعاَ کوئی دخل نہیں تھا۔ جب تک سر سکندر اور ان کی جماعت کے لوگ مسلم لیگ کے ممبر نہ بن جاتے، انھیں قاعدے اور قانون کی رو سے لیگ کونسل کے لئے منتخب نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ادھر آل انڈیا مسلم لیگ کو بھی یہ حق حاصل نہیں تھا کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے نوے آدمیوں کی فہرست مسترد کر کے خود اپنی مرضی سے اور لوگوں کو نامزد کر دے ہاں ایک طریقہ باقی تھا۔ وہ یہ کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا مرکزی دفتر پنجاب پراونشل مسلم لیگ کا الحاق منظور کرنے سے انکار کر دے۔ اس صورت میں جب کہ پنجاب اپنی صوبائی لیگ کے وجود ہی سے محروم ہوجاتا، آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کو اختیار تھا کہ اپنی مرضی سے پنجاب کے نوے آدمی کونسل کے لئے نامزد کر دے۔

اب سر سکندر اور ان کے ساتھیوں نے بڑی شد و مد سے دوڑ دھوپ شروع کی کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست مسترد کرادی جائے تاکہ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل میں ان کی اپنی نامزدگی کا دروازہ کھل سکے۔

نواب ممدوٹ، میر مقبول محمود، میاں احمد یار خاں دولتانہ اور سید افضال علی حسنی نے دہلی پہنچ کر ڈیرہ لگا دیا اور نواب زادہ لیاقت علی خاں سے صبح شام ملاقاتیں ہونے لگیں۔ آخر کار یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور جس مہم پر نکلے تھے اسے فتح کر کے واپس آئے۔

لاہور میں کئی روز سے افواہ پھیل رہی تھی کہ پنجاب پراونشل لیگ مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ یہ افواہ میں نے بھی سنی۔ غلام رسول خان، ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے بھی سنی حتیٰ کہ ڈاکٹر (اقبال) صاحب تک بھی یہ افواہ پہنچ گئی۔ ہم حیران تھے کہ اس کی بنیاد کیا ہے۔ جب ادھر ادھر سے پوچھ گچھ کی، تو معلوم ہوا کہ یونینسٹ پارٹی کے صدر دفتر نے یہ بات مشہور کی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لیگ کے الحاق یا عدم الحاق کی اطلاع ہم سے بالا بالا یونینسٹ پارٹی کے صدر دفتر میں کیونکر پہنچ سکتی ہے۔

انہی دنوں ایک روز میں اور غلام رسول خاں ریلوے روڈ پر ایک دوست کے ہاں ایک شادی کی دعوت میں شریک ہوئے۔ کھانے سے فارغ ہو کر ابھی تمام مہمان کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب اٹھ کر میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے:

“آپ پنجاب مسلم لیگ کے سیکرٹری ہیں کیا؟”

میں نے جواب دیا:

“نہیں! میں جائنٹ سیکرٹری ہوں۔ سیکرٹری وہ سامنے بیٹھے ہیں غلام رسول خان۔ فرمائیے، کیا کام ہے آپ کو؟

بولے: “میں نے سنا ہے کہ آپ کی مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست نا منظور ہوگئی ہے”۔

میں نے عرض کیا: “اس قسم کی افواہ بہت دنوں سے پھیل رہی ہے لیکن ہمارے پاس تو ابھی تک کوئی اطلاع نہیں آئی”۔

وہ کہنے لگے: “آپ میری بات کو بالکل درست سمجھئے۔ میں نے خود میر مقبول محمود سے یہ سنا ہے۔”

میں ان کو لے کر غلام رسول خاں کے پاس چلا گیا۔ وہ کئی روز سے بھرے بیٹھے تھے، فوراَ بول اٹھے:

“یونینسٹ پارٹی کے لوگ جھوٹ بکتے ہیں۔ ہماری درخواست کا ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔”

میں نے غلام رسول خاں کو ایک طرف لے جا کر کہا:

“زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہئے۔ یہ جو کئی روز سے مشہور ہو رہا ہے۔ اس میں ضرور کچھ نہ کچھ صداقت ہے۔”

کہنے لگے: “پھر میں کیا کروں جو ہونا ہوگا ہوجائے گا۔”

اسی شام آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری کی طرف سے ہمیں باضابطہ اطلاع موصول ہوگئی کہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے الحاق کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔ یہ خط 5 اپریل کو ہمارے دفتر میں پہنچا۔ غلام رسول خاں نے اسی وقت علامہ اقبال، ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین وغیرہ کو اطلاع کر دی۔ ہمارا فوری رد عمل یہ تھا کہ ہمیں بطور احتجاج مسلم لیگ سے مستعفی ہو جانا چاہئے تاکہ نواب زادہ لیاقت علی خاں اپنی پسند کے آدمیوں کی مدد سے پنجاب میں مسلم لیگ کی جیسی شاخ چاہیں قائم کر لیں لیکن پھر غور کرنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ یہ رویہ قومی مصلحت کے خلاف ہے۔ اس لئے جملہ نقائص رفع کر کے الحاق کی نئی درخواست فی الفور دہلی بھیج دینی چاہئے۔

جن نقائص کی بنا پر ہماری درخواست مسترد کی گئی تھی، وہ محض اصطلاحی تھے۔ اگر نیت بخیر ہوتی تو ہمیں ہدایت کی جاسکتی تھی کہ ان نقائص کو رفع کے کے نئی درخواست بھیج دو۔ لیکن وہاں تو ارادہ یہی تھا کہ الحاق نہ ہونے پائے تا کہ سر سکندر حیات کے آدمیوں کو لیگ کونسل میں داخل کرنے کا راستہ صاف کیا جا سکے۔

غلام رسول خاں نے 12 اپریل کو پنجاب مسلم لیگ کونسل کا جلسہ کر کے سب کمیٹی کے دونوں اعتراض رفع کر دئے اور اصلاح شدہ آئین کے مسودے کے ساتھ الحاق کی نئی درخواست دہلی بھیج دی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے ہنگامے کے دوران نواب ممدوٹ نے اپنی شکل بھی ہمیں نہ دکھائی۔ وہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے صدر تھے اور ان کا فرض تھا کہ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے لیکن ازبسکہ ہماری درخواست کے مسترد کرائے جانے میں سب سے بڑا دخل انہی کو تھا۔ وہ اس موقع پر ہمارے قریب تک نہ آئے۔

اہل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خصوصی 18/19 اپریل کو کلکتہ میں ہونے والا تھا۔ ہمارا ارادہ وہاں جانے کا نہیں تھا۔ جب پنجاب پراونشل لیگ کا وجود ہی باقی نہیں رہا تھا تو آل انڈیا لیگ کے اجلاس میں شرکت بے معنی سی بات تھی۔ لیکن چونکہ اس اجلاس میں شہید گنج کے مسئلہ کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ اس لئے پنجاب بھر میں جوش و خروش پھیلا ہوا تھا اور بہت سے لوگ کلکتہ جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ہر ضلع سے مندوبین کی فہرستیں ہمارے دفتر میں پہنچ رہی تھیں۔ اور لوگ بڑے اصرار سے ڈیلی گیٹ کے ٹکٹ طلب کر رہے تھے۔ مجبوراَ ان تمام لوگوں کو اطلاع دینی پڑی کہ لیگ کا الحاق چونکہ منظور نہیں ہوا اس لئے کوئی شخص ڈیلی گیٹ کی حیثیت سے کلکتہ نہیں جا سکتا۔ اس خبر سے چاروں طرف مایوسی پھیل گئی۔

14 اپریل کو گیارہ بجے کے قریب غلام رسول خاں اور ملک زمان مہدی میرے مکان میں آئے اور کہنے لگے کہ تیار ہو جاؤ، آج شام کی گاڑی سے کلکتہ جانا ہے۔

میں نے تعجب سے پوچھا: “یہ فیصلہ کب ہوا کیونکہ گزشتہ شام تک تو کوئی ارادہ نہیں تھا۔”

غلام رسول خاں نے بتایا: “آج صبح ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ کلکتہ جا کر اپنی جنگ خود لڑو۔ یہاں گھر بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم اب ڈاکٹر ہی کی طرف جا رہے ہیں۔ تم بھی چلو۔”

پہلے ہم ایک ضروری کام سے روزنامہ احسان کے دفتر گئے اور وہاں سے ڈاکٹر صاحب کے دولت کدے پر حاضر ہوئے۔ ملک برکت علی بھی وہاں موجود تھے ڈاکٹر صاحب آنکھیں بند کئے ہوئے پلنگ پر لیٹے تھے۔ غلام رسول خاں نے عرض کیا:

“ہم لوگ شام کو کلکتہ جا رہے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: “ضرور جاؤ اور اپنے حق کے لئے آخر تک لڑو۔ ہمارے ساتھ سخت نا انصافی ہوئی ہے۔”

ملک برکت علی نے کہا: “اگر ہماری نئی درخواست بھی منظور نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟”

ڈاکٹر صاحب کی طبیعت خراب تھی۔ لیکن انہوں نے کسی قدر جوش سے فرمایا:

“کچھ فکر نہیں۔ درخواست منظور ہو یا نا منظور، جس اصول پر ہم نے اب تک کام کیا ہے آئندہ بھی جاری رہے گا۔”

جب ہم رخصت ہونے لگے تو فرمایا: “کسی کی پروا نہ کرنا۔”

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “علامہ اقبال اور مسلم لیگ میں اختلافات (1)

  • 22-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    great one……

Comments are closed.