مدرز ڈے بلے بلے


ہمارے بچپن میں لفظ بدعت آج کی طرح پاپولر نہیں تھا۔ سالگرہ منا لی جاتی تھی۔ کمرے کی چھت کو جھنڈیوں اور غباروں سے سجا کر، محلے کے کچھ بچوں اور قریبی رشتے داروں کو بلا کر سفید شیروانی میں ملبوس ننھے میاں سے بڑے شوق سے مکھن کی کریم والا سادہ کیک کٹوایا جاتا۔ کھلنڈرے چاچو خود ہی ڈیک لگا کر خود کو عامر خان سمجھتے۔ ناچ ناچ بے حال ہو جاتے۔ عید میلاد النبی پر بھی میٹھا بانٹا جاتا۔ گلی کوچوں کو برقی قمقموں سے سجایا جاتا۔ محرم کا تعزیہ نکلتا تو سب ٹھنڈے دودھ کی سبیلیں لگاتے۔ فرقے سے بالاتر ہر گھر حلیم کی نیاز بانٹتا۔

سادہ زمانے تھے، کسی بھی قسم کی پیچیدگی اور نفرت سے عاری سفید لٹھے کی طرح سادے اور شفاف زمانے۔ گرمی کے موسم میں لان کے سوٹوں کی نمائش کی بجائے سادہ کاٹن کے جوڑوں کو کلف لگایا جاتا۔ بند جوتیاں چپلوں کی شکل لے لیتیں۔ مہمان کے آنے پر انواع و اقسام کے مہنگے کھانوں کی بجائے مرغی کے گوشت کا پلاؤ اور سالن چن دیا جاتا جسے سب خوب مزے لے کر کھاتے۔ ملنا ملانا اہم تھا۔ مذہب بھی سادہ تھا اور رہن سہن بھی۔

ہمیں یہ شرف حاصل ہے کہ ہم نے اسی زمانے کو گرگٹ کی طرح بدلتے دیکھا۔ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہونا حماقت ہو گی کہ حقیقت سے آپ بھی آشنا ہیں اور ہم بھی۔ خلوص کی جگہ نوٹ نے لے لی۔ سادگی کی جگہ تصنع نے لے لی۔ مذہب کی جگہ فرقے بازی نے لے لی۔

جہاں پرانی سادہ سالگراہیں اور چھولے کے چاولوں کی نیازیں بدعت کہلانے لگیں وہیں بہت سے ایسے تہوار بھی رائج ہو گئے جن کا کبھی نہیں سنا تھا۔ ویلنٹائن ڈے، ماؤں کا عالمی دن، سرخ گلاب کا عالمی دن، گلوکاروں کا عالمی دن اور جانے کیا کیا منایا جانے لگا۔ یہ سب اس قدر سہل بھی نہ تھا۔ ایک بزنس تھا۔ لوگ خرچ کرنے لگے اور کارپوریشنیں کمانے لگیں۔ دھڑا دھڑ۔ ٹھکا ٹھک۔

بدعت برگیڈ بھی کیوں پیچھے رہتی۔ سالگراہیں حرام قرار ہوئیں۔ خاص کر ویلنٹائن ڈے کو تو خوب توپ کے نشانے پر رکھا گیا۔ لال گلاب اور غبارے جلائے گئے۔ محبت کرنے والوں کو مارا گیا۔ اس کو ’حیا ڈے‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مدرز ڈے کسی بھی قسم کے مذہبی بمباری سے محفوظ رہا۔ اس پر کوئی نکتہ اعتراض نہ اٹھا۔ شاید ایک آدمی اور عورت کا ملاپ ان کے نزدیک معاشرے کے بگاڑ کی واحد وجہ ہے۔ چوربازاری اور بے ایمانی تو بس کہانیوں کی باتیں ہیں۔ اصل وجہ تو بیان ہو چکی۔

باوجود اس کے کہ ہم ان تمام دنوں کو کاروبار ہی جانتے ہیں اس بات کا بھرپور اعتراف کریں گے کہ اس دور میں خوشیاں سکڑ گئی ہیں۔ ایک دوسرے کے احساس عنقا ہو چکا یے۔ جو بھی خوشی ملے جہاں سے بھی ملے پکڑ لینی چاہیے۔ ویلنٹائن ڈے پر محبوب کی دلجوئی ضرور کیجئے۔ مدرز ڈے پر ماں کو ضرور پھول اور تحفے کے ساتھ گلے لگا لیجیے۔ البتہ کسی بھی قسم کی محبت کو کاروبار مت بننے دیجئے۔ سادگی اور خلوص شرط اول ہے۔ گلاب کی ایک کلی بھی اتنی ہی مقدس ہے جتنا کہ ہزاروں خرچ کر کے خریدی گئیں سامان سے لدی ڈیزائنر ٹوکریاں۔ خوشیاں ہاتھ سے نکلنے نہ دیجئے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس اظہار کو صرف سوشل میڈیا پر شوبازی تک محدود نہ رکھا جائے۔ دل سے دل کی راہ نکالی جائے۔
مدرز ڈے مبارک

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں