سیاسی وابستگیوں کی رنگ برنگ عینکیں


میرا خیال ہے کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے آئین اور قانون کی رو سے چیف منسٹر صوبے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے اور اس حیثیت میں صوبے میں تمام محکموں کی کارکردگی کا براہ راست جائزہ بھی لے سکتا ہے اور بن بلائے (سرپرایز) دورے بھی کر سکتا ہے، ان دوروں کے دوران بطور انتظامی سربراہ کے چیف منسٹر تو کھنچائی بھی کر سکتا ہے اور گو شمالی بھی ( اگرچہ وزیر اعلی کو بھی اہلکاروں کو دھمکیاں دینا نہ ہی زیب ہے اور نا ہی قانون طور پر درست)، لیکن ایسے کام بنیادی طور پر وزیر اعلی کے مینڈیٹ اور دائیرہ اختیار سے باہر نہیں۔

اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ کسی ملک کے چیف جسٹس اور عدلیہ کا کام انتظامی اداروں کی کار کردگی کا براہ راست جائزہ لینا نہیں ہے اور ناں ہی ان کا کام ہے کہ وہ ایسے دورے کرتے پھریں اور محکموں اور اہلکاروں کو پنجابی فلم کے ہیرو کی مانند دھمکی آمیز انداز میں مخاطب کرتے پھریں، کہ ” اوئے، توں مینوں جاندا نئیں ایں، میں سدھا کر دیاں ‘‘ یا ان کے منہ پر پتیلے اور برتن مارتے پھریں وغیرہ وغیرہ

تھوڑا پیچھے چلتے ہیں، نوے کی دہائی کے وسط میں ملک میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود عدلیہ کی طرف سے انتظامیہ کے کاموں میں کسی قسم کی براہ مداخلت کا تصور بھی قریبا محال تھا، البتہ وزرائے اعلی، وزرائے اعظم یا دیگر وفاقی و صوبائی وزرا گاہے بگاہے کوئی شرلی چھوڑ دیتے تھے۔ ان حالات میں پنجاب کے ایک وزیر اعلیٰ عارف نکئی صاحب ہو گزرے ہیں، ایک دفعہ یا شاید ایک سے زیادہ مرتبہ انھوں نے کسی ضلع کے دورہ کے دوران پولیس کے ضلعی افسران کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتنے ہوئے نہات غصے میں کہا کہ وہ ایسے نالائق افسران کی وردی کا وہ حصہ جو ٹانگوں پر چڑھایا جاتا ہے اور جسے عرف عام میں پتلوں کہتے ہیں اتروا دیں گے

راقم اس وقت عمر کے تیسرے عشرے میں تھا، راقم کے اعزہ و اقارب، محلے داروں، والد صاحب کے ملنے والوں میں بہت سے افراد سول سروس سے وابستہ تھے اور کچھ اعلی عہدوں پر بھی تعینات تھے، اس معاملے میں ان تمام لوگوں سے، یہ بات سیکھنے کو ملی کہ اگر چہ وزیر اعلیٰ انتظامی پولیس سمیت صوبے کے تمام سول اداروں کا سربرا ہے لیکن پولیس یا انتظامیہ کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا یہ طریقہ بالکل بھی درست نہیں، اس سے، سوائے وزیر اعلی صاحب کو سستی بڑھکوں کا سیاسی فائیدہ ہونے کے صرف نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اس سے قانون شکن عناصر کی حوصلہ افزائی، اور حکومتی اہلکاروں کی ہمت ہی ٹوٹتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس موقف کا ایک اہم اور قابل ذکر پہلو جو اجاگر کرنا مقصود ہے وہ یہ کہ موقف دیانت دار اور فرض شناس افسران کی طرف سے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر رہ کر کم و بیش متفقہ طور سے پیش کیا جاتا تھا اور یہ بہت اہم نکتہ ہے۔

کوئی قریبا پچیس سال بعد ہمارے موجودہ منصف اعلی سابقہ منصف اعلی (افتخار چوہدری) کی پیروی کرتے ہوئے اس میدان میں عارف نکئی صاحب کو خاک چٹوا چکے ہیں۔ البتہ اب اس پر رد عمل میرے مشاہدہ کی حد تک طبقہ خواص بشمول ان لوگوں کے جو عارف نکئی صاحب کے ناقد تھے، کہ رد عمل میں جوہری تبدیلی آئی ہے اور یہ تبدیلی بجائے کسی اصول کے عموماً سیاسی وابستگیوں یا پسند و نا پسند سے مشروط نظر آتی ہے۔

راقم الحروف کے خیال میں نوے کی دہائی میں عارف نکئی صاحب کے طرز عمل پر تنقید درست اور اصولی تھی۔ انتظامیہ کے کاموں میں عدلیہ کی بن بلائے مداخلت بالکل بلا جواز ہے جبکہ کسی بھی وزیر اعلی کی طرف سے دھمکیوں کی طرز کا عمل بالکل بلا جواز اور غلط ہے اور ان اصولوں کی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حمایت کرنی چاہیے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں