چیف جسٹس: ایک جانور قومی پرچم کی جگہ کیسے لے سکتا ہے؟


پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے قومی فضائی ایئر لائن پی آئی اے کے حکام کو جہازوں پر مارخور کی تصویر لگانے سے روک دیا ہے جو کہ پاکستان کا قومی جانور بھی ہے۔

اتوار کو پی آئی اے کے جہازوں کے رنگ و روغن تبدیل کرنے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ پہلے ہی خسارے میں ہے تو ایسے حالات میں فضول خرچی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پی آئی اے نے اپنے جہازوں کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے مارخور کی تصویر والا نیا ڈیزائن متعارف کروایا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی ایئرلائن کے ایم ڈی مشرف رسول نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ایک جہاز کا لوگو تبدیل کیا گیا ہے جس میں قومی پرچم کو ہٹا کر قومی جانور مارخور کی تصویر لگائی گئی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانور قومی پرچم کی جگہ کیسے لے سکتا ہے؟

نامہ نگار کے مطابق عدالت نے استفسار کیا کہ ایک جہاز کے رنگ و رغن تبدیل کرنے پر کتنا خرچ آتا ہے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ایک جہاز کاخرچ 25 سے 27 لاکھ روپے ہوتا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ ایک جہاز کا خرچ اتنا نہیں بلکہ یہ خرچ 30 سے 35 لاکھ کے درمیان ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو 20 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج دیا گیا ہے وہ اس لیے ہے کہ یہ ادارہ خسارے میں جار رہا ہے اور یہ پیکج اس کی بہتری کے لیے دیا گیا تھا، شاہ خرچیوں کے لیے نہیں۔

عدالت نے پی آئی اے کے حکام سے اس حوالے سے تفصیلی تحریری جواب بھی طلب کیا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3733 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp