میری ماں


جب ایک لڑکی ماں بنتی ہے تو اس میں صرف جسمانی تبدیلیاں ہی نہیں آتیں بلکہ اس کا مزاج اور سوچ و اطوار بھی بدل جاتے ہیں۔ اپنے حق کے لیے کبھی نہ بولنے والی اپنی اولاد پر بری نظر ڈالنے والوں کی آنکھیں نوچ لیتی ہے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی، مانگتی ہے تو بس اپنی اولاد کے لیے صحت اور خوشیاں۔ یہ ماں ہوتی ہے۔ باپ کی قربانیاں بھی کچھ کم نہیں ہوتیں لیکن آج چونکہ ماؤں کا عالمی دن ہے تو آج صرف ماں کی بات کرتے ہیں۔

ہر ایک کو اپنی ماں دنیا کی بہترین ماں لگتی ہے اور لگنی بھی چاہئیے۔ ہر عورت اپنی بساط سے بڑھ کر اپنی اولاد کے لیے کرتی ہے۔ کسی ایک کی قربانیوں کا موازنہ دوسرے کی قربانیوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ میری والدہ نے ہم سب کے لیے بہت کچھ کیا ہے جس کا بدلہ شاید ہی ہم کبھی اتار سکیں۔

میری بڑی بہن کی پیدائش ہوئی تو میری والدہ نے اپنے لمبے ناخن تراش ڈالے کہ کہیں انجانے میں بیٹی کو نہ لگ جائیں۔ گہری نیند سونے والی وہ بائیس سالہ لڑکی اپنی بیٹی کے ذرا سے ہلنے پر ہی جاگ جاتی تھی۔ اگلے دو برس انہیں مزید دو بیٹیاں دے گئے۔ ہر بیٹی کی پیدائش پر سسرال کی طرف سے طعنے بھی سننے کو ملے۔ ان طعنوں کا جواب انہوں نے دو سال بعد بیٹا پیدا کر کے دیا۔ اگلے سال اللہ نے پھر ایک بیٹی اور چند طعنے بھیج دیے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی کامیابی کے تین ہی معیار ہیں۔ شادی کس سے ہوئی۔ حاملہ کتنے عرصے میں ہوئی اور بیٹے کتنے پیدا کیے۔

ہماری والدہ اپنی جہیز کی اشیاء پیٹی سے نکالنے سے قبل ہی اپنی بیٹی کا جہیز جمع کرنا شروع کر چکی تھی۔ پتہ نہیں اپنی کس کس خواہش کا گلہ گھونٹا، کہاں کہاں سے پیسے بچائے اور کتنی کمیٹیاں ڈالیں۔ کبھی ایک چمچ لے آئی، کبھی واٹر سیٹ، کبھی کھیس خرید لیے تو کبھی رضائیاں بنوا ڈالیں۔ ہمارے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ان پیٹیوں کا پیٹ بھی بھرتا چلا گیا۔

ان کا سگھڑاپا خاندان بھر میں مشہور تھا۔ گو میں اس سگھڑاپے کلچر کی حامی نہیں ہوں مگر ہم سے پہلی نسلیں اسی سگھڑاپے کی ہوا میں سانس لیتی تھیں۔ اسی سگھڑاپے کے دوران انہوں نے حج بھی کر لیا، گھر بھی بنا لیا اور رشتے بھی نبھا لیے۔ پانچ بچوں، شوہر اور ایک بھرے پرے روائیتی سسرال کی ذمہ داریاں اٹھاتے اٹھاتے بڑھاپے کی دہلیز پر جا پہنچیں۔

ڈھیروں پریشانیاں اٹھانے کے باوجود ان کا شمار بہت زندہ دل افراد میں ہوتا ہے۔ ہماری والدہ محفلوں کی جان سمجھی جاتی ہیں۔ وہ جب کسی محفل میں جاتی ہیں، محفل کا مرکز بن جاتی ہیں۔ ان کے قہقہے ہر جگہ گونجتے ہیں۔ ہر شادی پر دودھ پلائی کی رسم کے دوران وہ سٹیج پر موجود ہوں گی اور اس نوک جھونک میں اپنا برابر کا حصہ ڈالتی نظر آئیں گی۔

جب سے مدرز ڈے کا سلسلہ ہمارے گھر میں شروع ہوا ہے یہ دن ان کے لیے بہت خاص بن گیا ہے۔ سب بچے کئی دن سے پلاننگ شروع کرتے ہیں۔ ان کے لیے تحفے خریدتے ہیں، ان کی پسند کا کوئی خاص پکوان بناتے ہیں اور بس ایسے ہمارا مدرز ڈے گزر جاتا ہے۔ جب وہ اپنی دوستوں کو سب تحائف خوش ہو کر دکھاتی ہیں وہ خوشی دیکھ کر ہم سب بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ ایک سی روٹین سے گزرتے دنوں میں اگر ایک ایسا دن آ جاتا ہے جب ہم ان کے لیے کچھ خاص کر دیتے ہیں تو اس دن کو منانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں