چیف جسٹس نے پی آئی اے کو جہاز کی دم رنگنے سے روک دیا


عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے پی آئی اے کو جہاز کی دم رنگنے سے روک دیا ہے۔ پی آئی اے والوں نے کہا تھا کہ وہ دم پر قومی پرچم کی بجائے قومی جانور کی تصویر لگانا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے تبصرہ کیا کہ ایک جانور قومی پرچم کی جگہ کیسے لے سکتا ہے؟ چیف صاحب نے یہ بھی پوچھا کہ ایک جہاز کو رنگ کرنے پر کتنے پیسے لگتے ہیں۔ ایم ڈی پی آئی اے نے جواب دیا کہ 27 لاکھ، لیکن چیف صاحب مکمل تیاری کر کے آئے تھے، فوراً صحیح فگر دیتے ہوئے بولے کہ ایک جہاز پر پینٹ کرنے کی لاگت 27 لاکھ نہیں بلکہ 34 لاکھ ہے اور حکومت نے پی آئی اے کو 20 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج ادارے کی بہتری کے لئے دیا ہے، جہازوں پر رنگ کرانے کے لئے نہیں۔

ہر ذی شعور شخص چیف صاحب کی بات سے اتفاق کرے گا۔ یہ پیسے رنگ روغن کے لئے نہیں بلکہ جہاز اڑانے کے لئے دیے گئے ہیں۔ آپ اگر ایک کفایت شعار پاکستانی ہیں تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ کوئی ذی شعور شخص اپنی ذاتی گاڑی کو بھی دس پندرہ سال تک پینٹ نہیں کراتا خواہ جیب میں کتنے ہی پیسے کیوں نہ پڑے ہوں۔ بلکہ بڑا ایکسیڈنٹ نہ ہو تو بیس پچیس سال بعد بھی گاڑی پر نیا پینٹ نہیں کرایا جاتا۔ جبکہ پی آئی اے کی شاہ خرچیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر چار سال بعد سالم جہاز پر نیا رنگ کرا دیتی ہے۔ جہاز کو ہوا میں کون سی گدھا گاڑیاں ٹکریں مارتی پھرتی ہیں جو اتنی جلدی جلدی اس کی ڈینٹنگ پینٹنگ کی ضرورت پڑے؟ گاڑی کی طرح جہاز پر بھی دو چار برس بعد زیرو نمبر کی کمپاونڈ پالش کرا دی جائے تو بہت کم خرچ میں بالکل نیا دکھائی دینے لگے گا۔ اگر پہلے کوئی چیف جسٹس پی آئی اے کی پکڑ کرتا تو نہ اس کے جہازوں کی دمیں ایسی رنگارنگ ہوتیں اور نہ وہ جہازوں پر بار بار پینٹ کراتی پھرتی۔

اب بات آتی ہے جہاز پر جانور کی۔ کتنا احمقانہ فیصلہ ہے۔ کیا ایک باحمیت قوم کی غیرت کو یہ گوارا ہو گا کہ اس کے جہاز پر کسی جانور کی تصویر ہو؟ ہم کوئی جرمن، ملائشین یا جاپانی قوم تو ہیں نہیں جو اپنے جہازوں پر پرندے پینٹ کرتے پھریں۔ نہ ہی ہم یوگنڈا جیسے ہیں جو ایک کی بجائے دو فحش قسم کے پرندے رنگ دیں۔ خدا کا شکر ہے کہ آسٹریلیا کی طرح بالکل بے غیرت بھی نہیں ہیں جو اپنے ملک کو مذاق کا نشانہ بنانے کے لئے جہاز کی دم پر پرچم کی بجائے اچھلتا کودتا کینگرو بنائے پھرتا ہے۔ خطوط الجویہ القطریہ کی مانند بھی نہیں ہیں جو اپنے جہاز پر صحرائی بکری بٹھائے بیٹھی ہے۔ بلکہ فحاشی کی حد دیکھیے کہ ایک ہوائی ائیرلائن نے تو اپنی دم پر اپنی قوم کی ایک لڑکی کی تصویر ہی بنائی ہوئی ہے۔ بجلی گرے گی اس بے غیرت کے جہاز پر۔ لیکن شکر ہے کہ ہم ایک باغیرت اور ذی شعور قوم ہیں جو اپنے قومی جہاز پر کسی صورت جانور نہیں بنائے گی۔

ان گوروں کا کیا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک بے شرمی کرتے ہیں۔ اس نارویجین ائیرلائن کو ہی دیکھ لیں۔ نام سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ناروے کی ہے۔ مگر بے غیرتی کی انتہا دیکھیں کہ اس نے اپنے ازلی دشمن برطانیہ کی مشہور خاتون پائلٹ ایمی جانسن کی تصویر اپنے دو جہازوں کی دم پر پینٹ کر دی ہے۔ اس سے پہلے وہ مشہور برطانوی بچکانہ مصنف روآلڈ ڈاہل کی تصویر بھی ایک جہاز پر پینٹ کر چکی ہے۔ اس ائیرلائن کا ارادہ ہے کہ کوئی سو کے قریب مشہور شخصیات اپنی دم پر پینٹ کرے گی۔ نہ جانے انہیں پیسہ پھینکنے کا اتنا شوق کیوں ہے؟

پی آئی اے کے جہاز پر مارخور نہ بنانے کی ایک اور وجہ بھی ہے جس کا غالباً حساسیت کی وجہ سے کسی نے ذکر نہیں کیا۔ مارخور ہماری مایہ ناز خفیہ ترین ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس کا نشان ہے۔ دشمن ممالک، خاص طور پر انڈیا میں انڈہ بھی جل جائے تو وہ بتاتے ہیں کہ اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ انڈیا کے کرکٹ میچوں میں شکست کھانے، بارش زیادہ ہونے، سوکھا پڑنے، گرمی زیادہ پڑنے، سردی ہونے، قحط آنے حتی کہ خان برادران کے بالی ووڈ فلم انڈسٹری پر چھا جانے کو بھی شریمان نریندر مودی اور ہمنوا آئی ایس آئی کا کمال بتاتے ہیں۔

پاکستان سے اڑ کر جانے والے کبوتر بھی بھارتی ایجنسیوں کو آئی ایس آئی کے ایجنٹ لگتے ہیں تو وہ پی آئی اے کے مارخور والے جہاز کو وہ کہاں بخشیں گے؟ پورے جہاز کو ہی پکڑ کر اندر کر دیں گے کہ اب کی بار لوہے کا کبوتر بھیجا ہے۔ بہرحال گفتہ یا ناگفتہ جو بھی وجوہات ہوں، مارخور کو جہاز کی دم سے دور رکھنے کا فیصلہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے اور اس کی جتنی بھی حمایت کی جائے وہ کم ہے۔ اگر تصویر بنانی ہی ہے تو پھر کسی جانور کی بجائے کسی ہیرے موتی کی بنا دی جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 957 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar