انصاف کی متلاشی سندھ کی شہزادیاں


وطن عزیز میں انصاف کتنا سستا، بلاتاخیر اور ہنگامی بنیادوں پر ملتا ہے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، لیکن میں سندہ کے صرف تین واقعات آپ کے سامنے رکھوں گا، گو کہ ان واقعات کو بیتے کئی برس ہو چکے ہیں لیکن یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انصاف آپ کی دہلیز پر ملنے کا نعرہ یا وعدہ آج کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔

 اب اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ سستا انصاف، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، قواعد و ضوابط، انسانی حقوق، شہریوں کی برابری اور ایسے کئی جملے صرف طوطا مینا کی کہانیوں کے سوا کچھ بھی نہیں، یہاں سسٹم کے غلام صرف میرے جیسے غریب غربا تو ہو سکتے ہیں لیکن باقی اشرافیہ اس نظام کو جیسے چاہیے چلا سکتی ہے، یہ خود ایک سوال ہے کہ نظام کونسا؟ وہ نظام جو ستر برسوں میں اپنی سمت طے نہیں کر سکا۔

آئیے میں آپ کو سندہ کی ایک درد کتھا سناتا ہوں، رباب کی کہانی، کائنات کی کہانی، سندہیا کی کہانی، سسی کی کہانی، ان کے علاوہ بھی کئی درد کہانیاں ہیں، پھر کبھی ان کو چھیڑیں گے۔ ان کے علاوہ بھی کئی کہانیاں اور بھی ہیں، ایسی کہانیاں جن کو سن کر دل دھڑکنے لگتے ہیں، سینے میں درد کی ٹیسیں ابھرتیں ہیں، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، وہ مسخ شدہ لاشوں کی کہانیاں ہیں، دن دہاڑے لوگوں کے قتل و اغوا کی کہانیاں ہیں، لوگوں کو اٹھا کر غائب کرنے کی کہانیاں، حبس بے جا یا حراستی مراکز میں رکھ کر ان پر وحشیانہ انداز میں تشدد کرنے کی کہانیاں، لوگوں کو قتل کرکے بھاگ جانے کی کہانیاں، قانون کے مفلوج ہونے کی کہانیاں، قاتلوں کو پناہ دینے کی کہانیاں، لوگوں سے گن پوائنٹ پر دستخط لینے کی کہانیاں، مقتولوں کے ورثا کو دھمکانے کی کہانیاں، زبان بندی کی کہانیاں، پولیس کو گھر کی لونڈی بنانے کی کہانیاں، انصاف دینے کے بجائے صرف بونگیاں مارنے کی کہانیاں۔

میں ام رباب سے شروع کرتا ہوں، وہ معصوم لیکن مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی سندہ کے چھوٹے سے شہر میہڑ کی ہے، وہ خود قانون کی طالب علم ہیں، شاید اسے اندازہ تو ہو چکا کہ اس ملک میں انصاف ناپید ہے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کی درد کتھا یہ ہے کہ ایک دن میہڑ شھر میں ایک بڑے سائیں کی گاڑی آتی ہے اس میں سے مسلح لوگوں کی بندوقوں کے منہ کھلتے ہیں اور پھر ایک پل میں بھری بازار میں تین لاشیں گر پڑتی ہیں، ان لاشوں میں سے ایک لاش ام رباب کے والد، دوسری لاش اس کے چچا اور تیسری لاش اس کے دادا کی تھی، قاتل گروہ وہاں سے فرار ہوجاتا ہے، پھر سندہ کی حکمران پارٹی اس گروہ کے تحفظ میں لگ جاتی ہے، سندہ کی پولیس عوام کی محافظ نہیں وہ حکمرانوں کی محافظ ہے، اگر حکمران ٹولے میں قاتل ہیں تو ان کا تحفظ تو یقینی ہی ہوتا ہے۔ رواں برس سترہ جنوری کو میہڑ شھر میں کرم اللہ، مختیار اور قابل چانڈیو ایک ہی لمحے میں قتل ہوئے اور مقتول خاندان کے ورثا نے اس قتل عام کا الزام پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار چانڈیو برھان چانڈیو پر لگایا، یہ الزام اس لیے لگایا گیا کہ قاتلوں کے پیروں کے نشانات زرداری ہاؤس اور نوڈیرو ہاؤس سے باہر نہیں گئے۔

اس قتل کی واردات کو چار ماہ ہو چکے، لیکن ملزموں تک پولیس کی رسائی اس لیے نہیں ہو سکی کہ ملزم خود سندہ کی حکمران پارٹی کے ہیں لیکن عدالت عالیہ سے لیکر عدالت عظمیٰ تک کسی نے بھی اس تہرے قتل اور پھر ملزموں کی عدم گرفتاری پر کوئی نوٹس نہیں لیا، میہڑ سندہ پاکستان میں ہے، یہ شکایت تو ورثا کو رہے گی کہ قانون ملزموں کا بازو مروڑنے کے بجاء انہیں تحفظ اور پروٹوکول دے رہا ہے۔ ام رباب بھی یہ سب کچھ دیکھ کر چیف جسٹس آف پاکستان کے قافلے کے سامنے اپنی جان کی پرواہ کیے بنا کود پڑی، کہ شاید منصف اعلیٰ کی نظر کرم اس پر پڑ جایے اور مقتول خاندان سے کچھ انصاف ہو سکے، ام رباب اسلام آباد میں بھی کئی دن احتجاج کرکے واپس چلی گئی لیکن سپریم کورٹ سیاسی مقدمات سے فارغ نہیں ہوئی کہ اس مقدمہ پر بھی نوٹس لیا جا سکے۔

ایسی ہی ایک کہانی کائنات سومرو کی ہے جسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا دو برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا، لیکن ان درندوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، جیسے سندہ میں عملی طور پر کوئی حکومت ہی نہیں، کائنات آج بھی انصاف کی منتظر ہے، ایک کہانی اس سندہیا عباسی کی بھی ہے جس کے بابا کو خلائی مخلوق اٹھا کر لے گئی ہے، سندہیا نے کیمیکل انجنئرنگ میں گریجویشن کی ہے، وہ اپنے رائٹر والد کی راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھی ہے لیکن پوری ریاستی و عدالتی مشینری کے پاس اس بچی کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔

ایک ماہ قبل سندہ میں سرکاری سطح پر صوفی کانفرنس کا انقعاد ہوا، فریال تالپور اس پروگرام کی صدارت کر رہی تھیں کہ اچانک پروگرام میں ہنگامہ مچ گیا، ہوا کچھ نہیں بس ایک لڑکی کو پروگرام کے رضاکاروں نے ہال سے باہر نکال دیا، اس لڑکی کا نام سسی لوہار تھا، جو اپنے گمشدہ والد کی بازیابی کے لیے پروگرام میں ہینڈ بل تقسیم کر رہی تھی سرکار کو یہ بات ناگوار گذری اور سسی کو وہاں سے نکال دیا گیا، اسی طرح ننگر چنا، خادم آریجو اور رضا جروار سمیت گمشدہ لوگوں کے کئی خاندان انصاف کے منتظر ہیں، لیکن ان کی دستک کا کسی دروازے پر کوئی اثر نہیں ہوتا، منظور پشتین تو ملک دشمن ایجنڈہ لیے باہر نکلا ہے لیکن سندہ کی رباب، سسئی، سندہیا، کائناتوں کے پاس ایسا کوئی ایجنڈا نہیں کچھ نظر کرم ان پر بھی ہوجائے تاکہ وہ بچیاں بھی انصاف حاصل کرسکیں۔۔۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 40 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar