کوئٹہ کے ماسٹر منظور رند، موسیقی اور ایمان کے دیگر درجے


تلاش میرے روح کی جبلت ہے اور دریافت اسکی اجرت تھی ۔۔۔

داخل اور خارج کے تمام سفر اسی جبلت سے طے ہوتے-

پانے، کھونے کا حساب رکھنا عرصہ پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔

ویسے تو ہر سفر اندر کی کوئی ایک اندھی گلی ڈھونڈ لیتا

مگر کوئٹہ کا سفر ہر دفعے ایک نئی دریافت کا سبب بنتا۔

اس دفعہ دل بھاری تھا

کہ خون کے قریبی رشتوں میں میرا ماموں ااچانک زندگی اور موت کا کے دوراہے پہ آ کے کھڑا تھا

اس لئیے دل وہیں امی کے آنسووں میں ڈوبا تھا

جو دعا کا مصلیٰ بچھائے بیٹھی تھیں۔

جب تک وہاں سے کوئی امید کی خبر نہ آئی

میں غمزدہ تھی ۔

مگر جیسے ہی کچھہ امید افزا خبر ملی اور دل سنبھلا تو مجھے وہ کوئٹہ یاد آیا جہاں جانے والی ریل گاڑی تقریباً ہر رات جامشورو میں میرا رستہ کاٹتی،

جب میں رات کے ایک بجے کے قریب حیدرآباد سے جامشورو کی طرف اپنے ٹھکانے کو لوٹ رہی ہوتی اور جامشورو کا پھاٹک اکثر کوئٹہ جانے والی بولان میل کی وجہ سے بند ملتا

‘کسی اور میں ہمت نہیں بس یہ کوئٹہ والی گاڑی میرا راستہ کھوٹا کرنے آجاتی ہے’

میں اکثر جھنجھلا جاتی۔

وہاں پہ گذاری آخری شام

بازار کی تنگ گلیوں کا سفر تھا۔

میرا میزبان عبدالقادر رند ہر دفعہ اک اک گلی اور گھر کا تعارف دیتا کہ

‘یہ جہاں شاپنگ پلازہ ہے یہ زیبا بختیار کے والد یحی بختیار کا گھر ہے جو بھٹو صاب کے پھانسی کے مقدمے کے وکیل تھے۔’

اور ‘یہ جو مدرسہ آپ دیکھ رہی ہیں یہ خان آف قلات کا گھر تھا۔ ‘

‘یہاں نیپ کا آفیس تھا’ اور

‘یہ وہ چوک ہے جہاں کامریڈ غلام محمد لغاری اپنا سائکلو اسٹائل والا اخبار ‘سچائی’ بیچنے کے لئیے کھڑے ہوتے اور کیسے ایک گھنٹے کے اندر تمام کاپیاں ختم ہو جاتیں۔’

پر یہ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ

اس دفعہ سفر کی دریافت ایک ایسے نایاب آدمی ہوں گے جو دل کی تاروں کو موسیقی سے جوڑ بیٹھے تھے۔۔

دنیا میں صرف ڈانو سار ہی ختم نہیں ہوئے

کچھہ انسانی نایاب روح بھی ہیں جو خطہ ارض میں وجود تو رکھتے ہیں مگر وہ نسل تیزی سے غائب ہو رہے ہیں-

یہ موسیقی کے شوقین ماسٹر منظور احمد رند تھے جس کے غریب خانے کے باہر کئی پھلدار درخت سیب، انگور کی بیل، زیتون وغیرہ لگے ہوئے تھے۔

مجھے نہیں معلوم کہ اردو میں ان کے لئیے کون سا لفظ درست رہے گا جو شوق کی انتہا کو چھوتا ہو۔ مگر سندھی میں شاید اسے ‘خفتی’ کہتے ہیں اور میرا میزبان عبدالقادر رند اسے ‘شوقین’ کہہ رہا تھا۔

منظور رند بظاہر مذھبی مزاج کے تھے پر اپنی جوانی کے شوق سے اس طرح وفا کرتے رہے کہ اب ان کا کہنا کہ اگر اب انہیں ذبح ہونے کے لئیے کہا جائے تو وہ بخوشی گلے پہ چھری پھروا لیں مگر موسیقی کو چھوڑنا اب اس کے لئیے ممکن نہیں۔

“اس سے کہیں بڑے گناہ کر لیتے ہوں گے یہ بے ضرر سا شوق اگر گناہ ہے تو اس کا بوجھ اٹھا ہی لیں گے۔”

کتا چھاپ والے اوریجنل ہز ماسٹرس والے کے 78 نمبر والے نایاب ریکارڈ ان کے کلیکشن کی اولیت ہوتے۔

اس شوق کے متعلق ان کے پاس کئی کہانیاں تھیں جو وہ درمیان درمیان میں سناتے بھی رہے

مگر انہوں نے خاطر تواضع کی خاطر اپنے پرانے نایاب گرامو فون پہ قندھار و کابل کے مشھور غزل گو ‘ناشناس’ کے ریکارڈ پہ سوئی لگائی تو اندر و باہر کا ماحول خودبخود ٹیون ہوگیا۔

کچھہ اردو غزل چھوڑ کر انکی دری اور پشتو سمجھ میں کیا آتی مگر جب بھی ان کو سنتے تو ان کی آواز کے ٹرانس سے نکلنا مشکل ہو جاتا۔ شاگردی کے اس دور میں جب انقلاب روس دکھائی دیتا تھا اس وقت ہمارے لئیے ‘ناشناس’کی اضافی خوبی یہ تھی کہ مذھبی گھرانے سے تعلق کے باوجود موسیقی کو اس نے اپنی پہچان کا ذریعہ بنایا اور سب سے بڑی بات کہ اس نے سویت یونین سے پشتو ادب میں ڈاکٹریٹ بھی کیا تھا۔

ماسٹر منظور احمد رند کے پاس کوئی بیس ہزار کے قریب اوریجنل ریکارڈ تھے۔ اور باقی کیسٹ ریکارڈ کا کلیکشن بھی الگ تھا۔

اسی لکڑی کی سادہ چھت کے نیچے فرشی نشست کے کمرے میں ان کے دس گراموفون اور اور کوئی بارہ کے قریب کیسٹ ٹیپ ریکارڈر کے سیٹ پڑے تھے۔۔ منفرد شوق رکھنے والے منظور اپنے شوق میں اکیلے نہ تھے ۔۔۔

پورے کوئٹہ میں ایسا شوق رکھنے والے کئی ایک اور بھی تھے جن کا آپس میں یارا نہ تو تھا ہی مگر انکی اپنی ایکٹوٹیز بھی ہوتیں مثلاً ان کا سالانہ مقابلہ ہوتا جو عشا کی نماز سے صبح فجر کی اذان تک جاری رہتا۔ جس میں سارے شوقین اپنے کلکشن سے نایاب ریکارڈ لے آتے اور مخصوص کی ہوئی باری میں سوئی پہ لگاتے جس کے پاس زیادہ نایاب خزانہ ہوتا وہی اس مقابلے کا ہیرو بنتا۔

اور یہ نیٹ ورک بھی صرف کوئٹہ یا بلوچستان تک محدود نہ تھا۔ سندہ کے سانگھڑ کے ٹنڈو مٹھا خان کے عبداللطیف لغاری اور کھپرو کے عطا محمد چانیہو کے علاوہ نواب شاہ کے علی مدد زرداری، نور محمد بھنگوار ، حاکم علی وسطڑو کے علاوہ غلام نبی پھلن کا نام بھی شوقینوں کی لسٹ میں شامل تھا۔

منظور آحمد کی مالی استطاعت اتنی تو نہ تھی مگر انہوں نے پنجاب کے شوقینوں کے بارے میں بتایا کہ کس طرح نایاب ریکارڈ کی تلاش میں ریکارڈ خریدنے وہ انڈیا تک جاتے۔

وہ خود طلعت حسین کے عاشق ہیں اس لئیے طلعت حسین کے فریم فوٹو بھی اسکے کمرے میں آویزاں تھے۔

میری ذاتی دلچسپی ٹھمری اور کچھہ کلاسیکل نیم کلاسیکل یعنی بیگم اختر اور کچھہ انسٹرومینٹل میوزک میں تھی اس لئے ان کے متعلق پوچھتی رہی کہ استاد بڑے غلام علی کی کوئی روشن آرا بیگم کی ٹھمری سنوا دیں مگر ان کی دلچسپی زیادہ تر پرانے فلمی گانوں میں تھیں البتہ ان کے کلیکشن میں سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پشتو لوک موسیقی شامل تھی۔

 قوالی میں اسماعیل آزاد کی مسحور کن قوالی ، امین شاد کا سرائیکی کلام ، مصری فقیر کی سندھی کافی؛ ‘محبت جو معراج مانن تھیوں اکھڑیوں’ کے بعد جب ماستر چندر کا ریکارڈ ‘ہائے ہائے پکھی وجن تھا’ سوئی پہ لگایا تو خودبخود آنکھوں بھیگ گئیں۔۔

ویسے بھی اب اذان کا وقت ہونے والا تھا ۔۔۔

اس شوق سے جمع کئے خزانے کے ساتھ اس کے بعد کیا ہوسکتا ہے وہ شاید منظور کو بھی معلوم نہ تھا کہ منظور کا حافظ قرآن بیٹا شاید اس کو زیادہ دیر تک گھر میں نہ رکھ سکے کہ جو موسیقی کی تار دل کو چھوتی ہے۔۔۔ وہ اس کے ایمان میں حرام قرار پائی تھی۔۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں