منظور پشتین کون ہے؟


منظور پشتین

منظور پشتین نے مقامی سطح پر اپنی محسود تحفظ تحریک سنہ 2014 میں شروع کی تھی

وہ ملک میں اقتصادی ترقی کی بات نہیں کرتا، وہ نہیں کہتا کہ ایک سال میں سب کے گھروں میں بجلی آ جائے گی، نہ ہی وہ بے روزگاروں کو نوکریاں دلوانے کا وعدہ کرتا ہے۔

لیکن پھر بھی لوگ اس کی بات سنتے ہیں، جوق در جوق اس کے جلسوں میں چلے آتے ہیں۔ کہنے کو وہ قبائلی علاقے کا ایک عام سا پختون ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کا حلقہ بڑا ہوتا جا رہا ہے۔

جب وہ اسلام آباد آتا ہے تو کسی سرکاری پشت پناہی، پٹواریوں کی مدد یا مذہبی جیالوں کے بغیر ہی لوگ اس کی حمایت میں بولنا شروع ہو جاتے ہیں، جب لاہور جاتا ہے تو ہزاروں افراد اسے خوش آمدید کہتے ہیں جب وہ کراچی میں جلسے کا کہتا ہے تو اسے چاہنے والے اس سے بھی پہلے وہاں پنڈال سجا لیتے ہیں۔ آخر وہ ہے کون اور چاہتا کیا ہے؟

یہ منظور پشتین ہیں اور ان کا مطالبہ ہے لاپتہ افراد کی بازیابی اور ماورائے قانون ہلاکتوں کا خاتمہ۔ یہی بالکل سیدھی اور صاف باتیں کر کے منظور پشتین ہزاروں پشتونوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ترجمان بن گئے ہیں۔

26 سالہ منظور پشتین کی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چلائی گئی مہم اب ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے، ایک ایسی تحریک جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سول ملٹری تعلقات کی سمت تعین کرے گی۔

منظور احمد پشتین بد امنی سے متاثرہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

سیاسی شعور انھیں والد سے ورثے میں ملا۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میرے والد سکول میں استاد تھے۔ وہ کبھی بھی گھر پھل لے کر نہیں آئے۔ جس رقم سے وہ پھل خرید سکتے تھے انھی سے وہ ایک کتاب لے آتے تھے۔ وہی کتاب ہم سب پڑھ لیتے تھے۔‘

منظور نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں ہی حاصل کی اور پھر بنوں میں آرمی پبلک سکول اور وہیں کے کالج میں زیر تعلیم رہے۔ منظور پشتین کے بقول وہ اپنے سکول کے 52 طالب علموں میں واحد نوجوان ہیں، جنھوں نے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ انھوں نے گومل یونیورسٹی سے ویٹنری سائنس میں بھی تعلیم حاصل کی لیکن انھیں کچھ اور ہی کرنا تھا۔

وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے شروع ہونے والی اپنی طرز کی پہلی عوامی تحریک کی سربراہی ان کی منزل ٹھہری۔

منظور پشتین کا ماننا ہے کہ ان کی تحریک کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’یہ تحریک بہت پہلے سے اٹھی تھی بس شکلیں تبدیل ہوتی رہیں۔ سنہ 2003 میں جب اس علاقے میں کارروائی شروع ہوئی اور عام آدمی متاثر ہوا ہے تو ان کے نمائندے مشران بولے۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ ظلم نہ ہو، یہاں امن ہو تو انھیں مار دیا گیا۔ سنہ 2010 تک جو بولنے کی جرات کرتا وہ ختم کر دیا جاتا تھا۔ جو امن کی بات کرتا، وہ نامعلوم افراد کے ہاتھوں مار دیا جاتا تھا۔ اسی لیے ہمیں کہا جاتا ہے کہ ایسی باتیں آپ کو صرف موت دے سکتی ہیں اور کچھ نہیں۔‘

منظور پشتین نے مقامی سطح پر اپنی محسود تحفظ تحریک سنہ 2014 میں شروع کی تھی اور مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں وہ اپنی سوچ واضح کرتے رہے۔

منظور پشتین کے مطابق وہ اکثر بمباری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مظاہرے کرتے تھے، لیکن سب سے بڑا مظاہرہ اُنھوں نے ٹانک میں 15 نومبر 2016 کو کیا تھا جس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔

اسلام آباد میں فروری 2018 کے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور نے اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا بڑا کینوس دے دیا بلکہ اس کی تنظیم نو بھی شروع کر دی۔ وہ اس تحریک کا دائرہ قبائلی علاقوں سے بڑھا کر بلوچستان اور کراچی تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ان علاقوں میں عوامی جلسوں کا بھی سہارا لے رہے ہیں۔

قومی میڈیا پر کوریج نہ ملنے کا توڑ انھوں نے سوشل میڈیا کا فائدہ اٹھا کر نکالا ہے۔ ان کی فیس بک پروفائل پر زخمی خون آلود لاشوں اور کراچی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے وزیرستان کے نوجوان نقیب اللہ محسود کی تصاویر ملیں گی اور اپنا تعارف وہ حقوق انسانی کے کارکن کے طور پر کرواتے ہیں۔

وہ فیس بک لائیوز کے ذریعے فروری کے بعد سے تحریک کے اندر اٹھنے والے خدشات اور سوالات کا مفصل انداز میں جواب دیتے ہیں اور اپنے کارکنوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ میں پالیسی بیان بھی جاری کرتے ہیں جیسا کہ ان کی تحریک انتخابی سیاست کا حصہ کبھی نہیں بنے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کے پیچھے ان ماؤں اور بہنوں کے آنسو ہیں جو اپنوں کے لیے ٹپک رہے ہیں۔

منظور کا الزام ہے کہ قبائلی علاقوں میں فضائی حملوں میں مارے جانے والوں میں دہشت گرد نہیں بلکہ اکثر عام شہری تھے۔

منظور پشتین کا موقف ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کو سامنے لایا جائے، اگر وہ کسی غیرقانونی کام میں ملوث ہیں تو انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جلسوں میں ایسے خاندانوں کی بھی شرکت ہوتی ہے جن کے رشتے دار مبینہ طور پر لاپتہ ہیں۔

لیکن منظور پشتین پر کئی طرح کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ انھیں ملک دشمن اور ریاست کے خلاف سرگرم عنصر بھی قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ روابط کے الزام بھی لگایا گیا لیکن اس سوال کا جواب دینے کے لیے کوئی تیار دکھائی نہیں دیتا کہ لاپتہ ہونے والے افراد کہاں ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp