’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘


مکالمہ تھا تو بے ضرر، مگر بات اُس ترتیب سے آگے نہ بڑھی جسے اپنی نوجوانی میں ہم گفتگو کا روایتی تسلسل خیال کرتے تھے۔جیسے کالج کے برآمدے میں استاد اور شاگرد آمنے سامنے آتے تو شاگرد کی کوشش ہوتی کہ جلدی سے آگے بڑھ کر سلام کرے۔

’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘برطانوی شاہی خاندان کی طرح یہ سوال کرنے کا اختیار استاد کے پاس تھا۔ بدلے ہوئے زمانے میں پروفیسر ہو یا اسٹوڈنٹ، سلام کرنے میں کوئی بھی پہل کر سکتا ہے، خواہ حال پوچھنے کی نوبت آئے یا نہ آئے۔

یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن بدھ کو کلاس سے باہر نکلتے ہی ایک طالب علم نے یہ بھی پوچھ لیا کہ سر، اب آپ کیسے ہیں؟ مَیں سمجھ گیا کہ ویک اینڈ پہ میرے نزلے زکام کی اطلاع اِن تک پہنچ چکی ہے۔ اِس لئے حیرت تو نہ ہوئی، لیکن میری بیماری کے سبب بظاہر نوجوان کے لہجے میں بھی قدرے تشویش کی جھلک نمایاں تھی۔

’’سر، ٹمپریچر بھی ہے آپ کو یا صرف گلا خراب ہے ؟‘‘ ’’نہیں، بخار تو نہیں ہوا، مگر چھینکیں بہت آئیں اور جسم میں ابھی تک کمزوری ہے ‘‘۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں دوستوں کے درمیان گپ بازی ہو یا استاد شاگرد کی گفتگو، چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے نتائج نکال لینے کا رواج عام ہے، اِس لئے میرے شاگرد نے بھی زمانہ ساز لوگوں کی طرح پکا سا منہ بنا کر کہا ’’بس سر، موسم بدل رہا ہے‘‘۔

گورڈن کالج پنڈی، زمانہ طالب علمی – ایستادہ صف میں بائیں سے دوسرے

اتنا کہہ کر اُس نے نسخہ کے طور پر کھانسی کے شربت کے علاوہ ایک انٹی الرجی گولی کا نام بھی لکھ دیا کہ اِس کا ایک پتا لیتے جائیں۔ اور صبح و شام گرم پانی کے غرارے کرنا نہ بھولیں۔ مجھے یہ ہلکا پھلکا علاج معالجہ قابلِ عمل تو لگا، مگر جاتے جاتے نوجوان نے یہ کہہ کر تراہ نکال دیا کہ ’’سر، سب سے بڑی وجہ ایج فیکٹر ہے۔ آپ 80سال کے تو ہوں گے ہی‘‘۔

عمر کے حوالے سے جواب تو سوجھا کہ بیٹا جی، اگر مَیں قسمت کے الٹ پھیر سے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن جاتا تو ابھی میری ریٹائرمنٹ کو چند ہی مہینے گزرے ہوتے۔پر وضاحت کا مرحلہ اس لئے نہ آیا کہ آنکھوں میں کئی برس پہلے کا ایک ڈرامائی منظر گھومنے لگا تھا۔

اُس شام واہ کی مال روڈ پہ جاوید خان اور میرے ساتھ سیر کرتے ہوئے ابا کے زندہ دل دوست خادم حسین چودھری نے، جو خود کو ’چاچا یار‘ اور ہمیں ’بھتیجا یار‘ کہا کرتے تھے، رازداری کے انداز میں اُس وقت کی مقبول ترین مغنیہ کا نام لے کر کہا کہ وہ آج کل بہت تنگ کر رہی ہے۔ مَیں نے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ کہنے لگے ’’خواب میں آجاتی ہے‘‘۔

نیشنل سنٹر لاہور – انتہائی بائیں جانب

میرے منہ سے نکلا ’’آپ بزرگ آدمی ہو کر کیسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘ خادم صاحب نے جالندھری لہجہ میں جواب دیا ’’بزرگ ہووے گا تہاڈا پیو، مَیں تے لڑکا ہاں‘‘ اور مٹک مٹک کر فٹ پاتھ پر ناچنے لگے۔

ہمارے بڑوں میں بزرگی کے طعنے کو مائنڈ کرنے والے وہ اکیلے آدمی نہیں تھے۔ ابا کے پھوپھی زاد بھائی، جنہوں نے فوجی ملازمت کے دوران ایک ہی نشست میں بائیس کپ چائے پینے کا ریکارڈ قائم کیا، ترانوے سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہونے سے ذرا پہلے تک ہر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بیٹوں اور بھانجوں کے ساتھ خشوع و خضوع سے تا دمِ فجر تاش کھیلا کرتے۔ اِس محفل کو، جو عسکری اصطلاح میں چکلالہ کینٹ کے جنرل ایریا میں اپنے ہی عزیز و اقارب کے چار الگ الگ گھروں میں ترتیب وار برپا ہوتی، مخالف کیمپ نے چھیڑ چھاڑ کی غرض سے ’تاش خوانی‘ کا نام دے رکھا تھا۔

مخالف کیمپ میری والدہ تھیں جنہیں تشویش رہی کہ بھائی صاحب لڑکوں کے ساتھ لڑکا بن جاتے ہیں اور سگریٹ پہ سگریٹ پیتے ہیں۔ خود تایا جان کا یہ حال کہ کھانا ختم ہوتے ہی تاش کی گڈی کو مسلسل پھدکانے لگتے اور بے تابی سے کہتے ’’پُتر، ہن وقت ضائع نہ کرو‘‘۔

دنیا میں آ کر کِس نے کتنا وقت ضائع کیا اور کیوں ؟ یہ لمبی بحث ہے جو ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔

1976- واہ کینٹ – بائیں سے پہلے

تو پھر ساری تگ و دو کا مصرف کیا ہے ؟ ہمارے دادا 75 سال کی عمر تک چھوٹے موٹے کاروبار میں مشغول رہے۔ جب کہا جاتا کہ اباجی، اب کام چھوڑ دیں اور آرام سے بیٹھیں تو نیم مزاحیہ سا جواب ملتا ’’یار، مَیں ایک دفعہ بیٹھ گیا تو بیٹھ ہی جاؤں گا ‘‘۔ پھر ایسا ہی ہوا۔

بیٹے کے گھر میں بیٹھے اور بیٹھ ہی گئے۔ سانس کی بیماری تھی، مگر آخری سگریٹ دنیا چھوڑنے سے دس منٹ پہلے پیا۔

اِس دوران جس روز طبیعت ٹھیک ہوتی، کہیں نہ کہیں چلنے کی فرمائش ضرور کرتے۔ کبھی واہ کی انوار مارکیٹ یا لائق علی چوک، کبھی مُوڈ آ جائے تو ٹیکسلا میوزیم یا جولیاں اور سر کپ کے نواحی کھنڈر۔ اِن موقعوں پہ مسکراتے ہوئے ارشاد ہوتا ’’سمجھ نئیں آؤندی، پر اللہ نے کھیڈ چنگی بنائی اے‘‘۔

ایسا بھی نہیں کہ لوگوں نے اِس کھیل کو سمجھنے کی کوشش کی اور اُن کی سمجھ میں کبھی کچھ نہ آیا۔ اقبال نے کہا تھا کہ ’’عشق بے چارا نہ ملا ہے، نہ صوفی، نہ حکیم‘‘۔ تو دانشوروں نے سینکڑوں اور ہزاروں صفحات کالے کئے، مباحثے، مناظرے اور محاکمے ہوئے، مگر حکمت و اخلاقیات کے یہ مضامین کیا لوک دانائی میں ڈھل کر سب کے لئے متفقہ نجات کا سامان بن سکے ؟ یہی سوال عام فہم انداز میں دہرایا جائے تو یہ جاننے کو دل چاہے گا کہ کیا سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کی طرح انسانی زندگی بھی کسی طے شدہ منشور کے مطابق ہونی چاہئیے یا نہیں ؟ جیسے میرے والد، جو پچھلے برس ہمارا ساتھ چھوڑ گئے، متوسط طبقہ والی مخصوص تنخواہ دار سوچ کا اظہار یہ کہہ کر کیا کرتے تھے کہ بس جی، رہنے کو چھوٹا سا گھر ہو، بچوں کی تعلیم اور بیاہ شادیاں ہو جائیں۔ اور آدمی کو کیا چاہئے؟

شاہد ملک – نصف النہار پر

زندگی گزارنے کا یہ طریقہ ہے تو عامیانہ کہ اِس میں اپنے کنبہ کی بہتری سے ہٹ کر کسی اور سوچ کو دخل ہی نہیں۔ اچھا جی نہ سہی، مگر اتنا تو ہے کہ ایک آدمی دنیا میں آیا، اُس نے بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی کاوش میں اپنے تئیں کچھ اخلاقی مقاصد پہ بھی غور کیا اور یوں ایک ماڑا چنگا جواب نکال لیا۔ اِس کے بر عکس لندن میں ہماری معمر ہمسائی مس واٹسن سے جب کبھی اِن موضوعات پہ بات ہوئی، انہوں نے یہی کہا ’’مِسٹر ملک، مَیں اِس پہ غور ہی نہیں کرتی، بس زندگی گزارتی چلی جاتی ہوں ‘‘ اور زندگی گزارنے کا یہ منشور کب اپنایا تھا ؟ یہ میری پیدائش سے پہلے کی بات ہو گی، اِس لئے کہ ایک روز خود انہوں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ سی ایم ایچ، قاہرہ میں چیف میٹرن تھیں۔ آخری بار مِس واٹسن کے ہاتھ کی چائے پانچ سال پہلے پی۔ پھر پردہ گر گیا۔

انسانوں کی یہ انواع تو اِس بنیاد پہ ہوئیں کہ ہم میں سے کس نے اپنی زندگی کا کوئی شعوری مقصد ڈھونڈ نکالنے کے بارے میں سوچا اور کس کس نے یونہی ’’بحرِ ظلمات میں دوڑا دئے گھوڑے ہم نے‘‘۔ پھر بحرِ ظلمات والوں کو بھی الگ الگ اقسام میں بانٹا تو جا سکتا ہے، مگر اکثریت انہی کی ملے گی جو زندگی بھر اپنی دلچسپی کے کسی نہ کسی کام میں لگے رہے۔

جیسے میرے کزن اور صاحبِ طرز صحافی خالد حسن75 سال کی عمر میں بھی امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ کے نہایت پھرتیلے نامہ نگار تھے۔

کس نے کہا کہ بوڑھے ہو گئے – کلک گہربار ابھی جنبش میں ہے

اب اِس سے کچھ زیادہ عمر میں ہمارے بزرگ دوست خواجہ محمد زکریا پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج میں پروفیسر امریطس کے طور پہ تدریس و تحقیق میں مصروف ہیں۔ لڑکوں کی طرح کار چلاتے ہیں اور اِن کی زبان سے ابھی تک یہ نہیں سنا کہ ’’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘‘۔

یہاں تک پڑھ لینے کے بعد آپ پوچھنا چاہیں گے کہ زندگی کی معروضی اکائی کو مختلف ادوار میں تقسیم کر کے بھی ’’بڈھے ہو گئے آں‘‘ جیسے پیرایہء اظہار کو آخر کِس خانے میں رکھا جائے۔ مَیں نے یہ الفاظ پہلی بار پاکستان کے عظیم ترین صدا کار سے اُن کے بر منگھم والے گھر میں ستائیس سال پہلے سنے۔

اُن کی عمر اُس وقت کوئی باسٹھ برس ہو گی۔ دن بھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر براؤن رنگ کا کرتا، سفید شلوار اور پاؤں میں باٹا کے خوشحال تاجروں والے سلیپر پہنے ہوئے، انہوں نے اس روز میرے دوست عباس ملک اور مجھ سے یہ بھی کہا تھا ’’مَیں بڑے گھٹ لوکاں نال پنجابی بولناں آں، تسیں اوہناں وچوں او‘‘۔

پھر آئے تھے ’’بڈھے ہو گئے آں‘‘ والے الفاظ۔ تو اب میرے طالب علم نے 80 سال کی عمر کا جو طعنہ دیا ہے، اُس کا کیا کروں ؟ میرا خیال ہے عظیم صداکار کی طرح ڈٹ جاؤں اور وقفے وقفے سے انہی کی طرح مسکرا مسکرا کر کہتا رہوں ’’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘‘۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں