نواز شریف کا بیان وطن دوستی کا اظہار ہے


ساری دنیا میں اپنی حکومتوں کے جنگی فیصلوں کے خلاف جنگ مخالف مظاہرے ہمیشہ ان ملکوں میں بسنے والے لوگوں کی نیک نامی کا باعث ہی بنتے ہیں۔

جنگی جنونیت خواہ وہ بھارت کی شدت پسند سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کی جانب سے ہو یا پاکستانی تنظیموں کی ہمیشہ ملک اور ملک میں بسنے والوں کی بدنامی اور باقی دنیا میں ان کے لیے نفرت کا باعث ہی بنتی ہے۔

بھارتی ریاست کی جانب سے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم نہ صرف ساری دنیا بلکہ خود بھارتی سول سوسائٹی کے کئی حلقوں میں انتہائی نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں جو کہ یقینانا جمہوریت اور سیکولرازم کی دعویدار بھارتی ریاست کے چہرے پر ایک انتہائی بدنما داغ ہے۔

اسی طرح پاکستانی ریاست کی جانب سے ممبئی حملوں کے پاکستانی ملزمان کی گرفتاری اور انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ان کا ٹرائل کسی حد تک اس تاثر کو تقویت بخشنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث نہیں۔

اگر آج دنیا ہمیں شدت پسند اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ سمجھتی ہے تو ہمیں ماضی کے تلخ حقائق کو جھٹلانے پر بضد رہنے کی بجائے ہر سطح پر خود کو ہر طرح کی دہشت گردی کا مخالف اور امن پسند ثابت کرکے اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہماری عسکری اور سیاسی قیادتوں کی جانب سے ماضی قریب میں ہر قسم کی دہشت گردی کو بلا تخصیص ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا عزم نیشنل ایکشن پلان میں کیا گیا تھا جس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ پورے ملک میں organized armed militia  کو پنپنے سے روکا جائے گا اور کالعدم تنظیموں کو نام بدل کر بھی اپنا وجود اور کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی طرح حال ہی میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام سے تشہیر ہونے والے جنرل باجوہ کے خیالات میں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے تیزی سے بدلتی دنیا میں chauvinism (جنگی جنونیت) سے realism (حقیقت پسندی) کی جانب سفر کا اعادہ کیا گیا تھا اور good اور bad دونوں قسم کے طالبان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عندیہ دیا گیاتھا۔

نیشنل ایکشن پلان اور باجوہ ڈاکٹرائن دونوں میں اگرچہ کچھ تلخ اعترافات واضح طور پر جھلکتےہیں لیکن وہ ملک کی بدنامی کا باعث ہر گز نہیں بلکہ اس تاثر کو تقویت بخشتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قیادت ہر قسم کی دہشت گردی کے قلع قمع میں سنجیدہ ہے۔ یقیناً عسکری قیادت کی جانب سے اس کے بر عکس رویہ دنیا میں بدنامی اور جگ ہنسائی کا سبب ضرور بنتا۔

 بالکل اسی طرح بطور سیاسی راہنما نواز شریف کی جانب سے پاکستان سے بھارت دہشتگردی کے ارادے سے جانے والوں کو روکنے اور ممبئی حملوں کے ملزمان کے ٹرائل کو جلد انجام تک پہنچانے پر زور دینا اس تاثر کو تقویت بخشنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی حلقے بھی ہر طرح کی دہشت گردی کے مخالف ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتے ہیں جو کہ یقیناً دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کا شدت پسندی کی بجائے امن پسندی کے علمبردار کے طور پر امیج اجاگر کرتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں