میں نامرد عورت ہوں!


میں ایک عورت ہوں۔ جی ہاں میں واقعی عورت ہوں!

اپنی پیدائش سے لے کر آج تک میں نے اپنے عورت ہونے کے بے شمار فوائد حاصل کئے، جب میں چھوٹی تھی تو بھی گھر کے وہ سارے کام جن میں زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی تھی وہ میں نے کبھی نہ کیے۔ نہ ہی مجھ پر باہر کے کاموں کی زمہ داری ڈالی گئی۔ اسی طرح جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میرے سر پر feminism کا بخار چڑھتا گیا، اور مساوی حقوق کے حساب سے میں نے اپنی ذمہ داریوں میں اضافے کیے۔ گاڑی چلانا، راشن لانا ، لائن میں لگ کے بل جمع کروانا ، سارے جہاں میں اکیلے پھرنا، مختصراً یہ کہ میں ہر معاملے میں عورت اور مرد کے مساوی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ہوں۔

لیکن جب میں یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی یونیورسٹی جاتی تو کبھی بھی میرا شناختی کارڈ دیکھا نہیں جاتا۔ جب کہ لڑکوں کا سب کچھ چیک ہوتا ہے، اسی طرح جیل کے دروازے پر سپاہی مجھے سیلوٹ مارتا ہے پھر میری گاڑی پارک کراتا ہے، لیکن جب وہی گاڑی میرا بھائی لے کر جاتا ہے تو اسے روکا جاتا ہے۔ آمد کی وجہ دریافت کی جاتی ہے۔ شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے، اسی طرح سٹی کورٹ میں بھی ہوتا ہے۔

اگر میں رک بھی جاؤں تو مجھے کہا جاتا ہے میڈم کیوں شرمندہ کر رہی ہیں، چونکہ میں مساوی حقوق کی علمبردار ہوں۔ اس لیے مجھے یہ باتیں کچھ عجیب سی لگتی ہیں۔ کہ مجھے عورت ہونے کی بنا پر فایدہ کیوں دیا جاتا ہے۔ جب عورت اور مرد برابر ہیں تو سزا اور فوائد بھی برابر ہونے چاہئیں؟ عورت کو صرف عورت ہونے کی بنا پر استثنیٰ کیوں؟

سال 2016 کا ذکر ہے ایک دسویں جماعت کے طالب علم پر ایک سولہ سالہ لڑکی نے ایف آئی اے سائیبر کرائم برانچ میں شکایت درج کروائی کہ ایک لڑکا اسے واٹس ایپ اور فیس بک پر جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہے۔ چونکہ الزام لگانے والی ایک لڑکی تھی اور ملزم کم عمر لڑکا ، ایف آئی اے سائبر کرائم برانچ نے کمال مستعدی سے پرچہ کاٹا ، بچے کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع ایک مارکیٹ میں بلایا اور تین دن کے ریمانڈ کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا، بچے اور بچی کے والدین نے سر توڑ کوشش کر لی کہ کسی طرح راضی نامہ ہو جائے۔

لیکن اس وقت ان کو یہ سمجھایا گیا کہ آپ کچھ بھی کر لیں راضی نامہ اور ضمانت منظور نہیں جا سکتی کیونکہ سیکشن 21 ناقابلِ ضمانت اور ناقابل راضی نامہ یے۔ وہ بچہ تین ماہ کراچی سینٹرل جیل میں رہا، اس بچے کا چار روز تک میڈیا ٹرائل کیا گیا، گھر کا پتا اور تصویر نشر کی۔  یہ کیس سائیبر کرائم برانچ کی سستی شہرت کا سب سے پہلا مشہور کیس رہا۔ یہاں یہ بتاتی چلوں کہ پاکستان میں قتل کا جرم بھی قابل ضمانت اور راضی نامہ ہیں۔ سزا کے بعد بھی قصاص اور دیت کے قوانین موجود ہیں۔

اسی طرح ایک اور نوجوان پر اس کی ایک عزیزہ نے آن لائن جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ خاندان کے لوگوں نے راضی نامہ کی سر توڑ کوشش کر لیکن سائیبر کرائم برانچ نے ایک نہ سنی اور اصولی موقف اختیار کیا کہ سیکشن 21 ,500 ناقابلِ ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہے، وہ لڑکا ایک سال جیل میں رہا پھر بہت مشکل سے ہائی کورٹ سے ضمانت ملی، اور کیس التوا کا شکار ہے۔

اسی طرح اکتوبر 2016 کو جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر کو کراچی یونیورسٹی کے باہر سے اغوا کنندگان کے انداز میں اٹھایا گیا، دھوم دھام سے میڈیا ٹرائل کیا گیا، ایف آئی اے کی نئی برانچ کی مستعدی کی سب سے بڑی اور کامیاب پبلیسٹی کمپین چلائی گئی۔ اس کیس میں بھی ایف آئی اے نے وہی کہانی سنائی کہ یہ ناقابلِ ضمانت اور ناقابل راضی نامہ قانون ہیں آپ کچھ بھی کر لیں مدعی چلا بھی جائے تو بھی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ملزم کا کیس ریاست کی مدعیت میں جاری رہے گا۔

9 مئی 2018 کو جیو ٹی وی پر ایک مختصر سی خبر نشر کی گئی کہ چند زور قبل اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایف آئی اے سائیبر کرائم برانچ سے رابطہ کیا کہ اسے کچھ عرصے سے ایک عورت واٹس ایپ اور فیس بک پر مسلسل بلیک میل کر رہی ہے محترمہ کے موبائل فون اور کمپیوٹر سے ان کی ذاتی برہنہ تصاویرجن کے ذریعے وہ اس شخص کو جنسی طور پر ہراساں کر رہی تھی ، اور پیسوں کا مطالبہ کر رہی تھی معمولی سی تفتیش سے حاصل کر لی گئی، سائیبر کرائم برانچ نے اپنی روایتی مستعدی سے ایف آئی آر بھی کاٹ دی لیکن کچھ ہی دیر میں مدعی اور ملزم کے درمیان راضی نامہ ہو گیا اور یہ جنسی ہراسانی کا کیس آغاز سے پہلے ہی اختتام پذیر ہوا۔

عزیز قارئین! میری آپ سب سے گزارش ہے آپ سب میرا ساتھ دیں اور خواتین کو مساوی حقوق دلوانے میں میری مدد کریں ۔ آج کی عورت آزاد اور خودمختار ہے، فقط جنس کی بنا پر اسے کمزور نہ سمجھا جائے، یہ سراسر نا انصافی ہے اور خواتین کے ساتھ روایتی امتیازی سلوک ہے کہ ڈیڑھ سال میں نجانے کتنے مرد سائبر کرائم قوانین کی وجہ سے جیلوں میں پڑے ہیں۔ اتنی مشکل سے اس قانون کی زد میں آنے والی ایک عورت ملی اور اسے صرف عورت ہونے کی وجہ سے آزاد کر دیا گیا۔

عورت اور مرد برابر ہیں۔ اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے عورتوں کو بھی مردوں کی طرح سخت سزائیں دی جائیں ۔

https://www.geo.tv/latest/194784-woman-harassed-man-in-a-rare-cybercrime-case

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں