میاں نواز شریف کی غداری


بین الاقوامی سیاست کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میاں نواز شریف نے موجودہ حالات میں ممبئی حملوں سے متعلق بیان دے کر پاکستانی قوم کی کون سی خدمت کی ہے ۔سوشل میڈیا پر عوام کی اکثریت میاں نواز شریف کو مطعون کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دے کر ان پر غداری کے الزام میںمقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ مجھ جیسے ایک ناچیز قلم کار کی کیا اوقات ہے جو اس مطالبے کی حمایت نہ کرے؟قوم اور ملک کو مشکل میں ڈالنے والوں کا انجام اس کے علاوہ اور ہونا بھی کیا چاہیے ۔ سو میں ان کے اس بیان کی بھرپور مذمت بھی کرتا ہوں اور ان پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کی حمایت بھی ۔

میاں نواز شریف کے سیاسی مخالف عمران خان نے بھی بجا طور پر ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوںنے مسلح گروہوں کے کام کرنے کی بات کی ہے لیکن مجھے عمران خان کا وہ انٹرویو بھی یاد ہے جو انہوں نے بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کو دیا تھا۔کرن تھاپڑ کے اس سوال پر کہ تحریک انصاف حکومت میں آئی تو مسلح گروہوں کے بارے میں پالیسی کیا ہوگی ؟انٹرویو کے آغا زمیں عمران خان کا مسکراتا چہرہ ایک دم سپاٹ ہو گیا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم حکومت میں آئے تو پاکستان میں کوئی مسلح گروہ کام نہیں کرے گا۔ کرن تھاپڑ نے جب ان سے یہ اصرار کیا کہ کیا وہ حافظ سعید ، جماعت الدعوة یا فلاح انسانیت فاو ¿نڈیشن کا نام لے کر کہیں گے کہ وہ ان کے بارے میں تحقیقات کریں گے ؟یہ وہ لمحہ تھا جب عمران خان کی ” پیں “ بول گئی اور پنجابی میں ان کی زبان کو ”دندل“ پڑ گئے ۔ ایک بہادر لیڈر کے الفاظ تھے کہ بھئی ”میں تو ایک Polarized ملک میں رہتاہوں جہاں گورنر کو قتل کر دیا جاتا ہے اور اس کا قاتل ایک ہیروبن چکا ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زندگی بہت سستی ہے “۔

بہرحال !چودہ مئی سوموار کے دن نیشنل سیکورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور ممکن ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تویہ اجلاس میاں نواز شریف کے اس بیان اور میڈیا میں اس کی ”پیش کش“پر مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ بھی کر چکا ہو۔میاں نواز شریف کے ان الفاظ بارے مسلم لیگ ن کے ترجمان کی وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے کہ بھارتی میڈیا نے ان کے الفاظ کو مسخ کر کے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا اور پاکستانی میڈیا نے بھی اس معاملے میں بھارتی میڈیا کی تقلید کی ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور گزارش کروں میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ سابق وزیراعظم کے انٹرویو کا وہ حصہ یہاں نقل کر دوں کیونکہ بھارتی میڈیا اور کسی حد تک پاکستانی میڈیا کا بیانیہ بھی یہی ہے کہ میاں نواز شریف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان ملوث ہے ۔

 “We have isolated ourselves. Despite giving sacrifices, our narrative is not being accepted. Afghanistan’s narrative is being accepted, but ours is not. We must look into it.”

“Militant organisations are active. Call them non-state actors, should we allow them to cross the border and kill 150 people in Mumbai? Explain it to me. Why can’t we complete the trial?”

سابق وزیراعظم کے ان الفاظ میں (جو ایک موقر اخبار میں شائع ہوئے ہیں )یہ اعتراف تو موجود ہے کہ ممبئی حملوں میں نان سٹیٹ یعنی غیر ریاستی عناصر ملوث تھے لیکن ریاست پاکستان کے ملوث ہونے کا شائبہ موجود نہیں ہے ۔

بھارتی میڈیا تو ہے بھی شتر بے مہار اور وہ ان الفاظ کو جو معنی بھی پہنائے اس سے شکوہ کرنا فضول ہے لیکن ہمارا میڈیابھی اس بات میں آزاد ہے کہ وہ جو جی چاہے بیان فرمائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ دس برس پہلے ہونے والے ممبئی حملوں کے بارے میں میاں نواز شریف کے ان الفاظ میں کوئی نئی خبر موجود نہیں ۔ میں اپنے قارئین کو یاد دلانا چاہوں گا کہ ممبئی حملوں کے فوری بعد دنیا بھر کے میڈیا میںایک خبر سب سے اہم تھی ۔ اٹھائیس نومبر دو ہزار آٹھ کے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کو بھارت بھیجا جائے گا تاکہ وہ ممبئی حملوں سے بارے ”evidence of Pakistan’s possible link “کے متعلق معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔(یہ وہی وزیراعظم تھے جنہوں نے دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موت کو ”عظیم فتح “ قراردیا تھا) بعد میں آنے والی خبروں کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس فیصلے کو OVERRULEکردیا کیونکہ یہ ایک انتہائی غیر معمولی اقدام تھا جو کسی طو رپاکستان کے مفاد میں نہیں تھا۔

اب جس بات پر میاں نواز شریف کو مطعون کیا جارہا ہے میں اسے کوئی نئی خبر اس لئے قرار نہیں دے سکتا کہ یہ بات اس سے پہلے پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں بیان کر چکے ہیں ۔ رحمن ملک کا یہ بیان یوٹیوب پر موجود ہے اور قارئین کی سہولت کے لئے میں اس کا لنک ارزاں کئے دیتا ہوں۔

سی این این پر فرید زکریا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل نے ممبئی حملوں کے متعلق پاکستانی موقف کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کیا تھا اور اس بات کی پرزور تردید کی تھی کہ کوئی بھی پاکستانی ادارہ یا حکومت ان حملوں میں کسی بھی سطح پر ملوث ہو سکتی ہے۔ سابق مشیر قومی سلامتی جنرل محمود درانی کابھارتی میڈیا پر چلایا گیا یہ بیان بھی یوٹیوب پر موجود ہے جسے میں اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بجائے حرف بحرف نقل کئے دیتا ہوں ۔

“The terrorist attack in Mumbai carried out by a terrorist group based in Pakistan on 26 November 2008 is a classic trans border terrorist event. I Hate to admit this that this is true”.

(قارئین کی سہولت کے لئے اس بیان کا یوٹیوب لنک یہ ہے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، سابق مشیر داخلہ رحمن ملک اور جنرل محمود درانی کے ان بیانات کے بعد یہ فیصلہ میں عوام پر چھوڑتا ہوں کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار۔ لیکن ایک عرض کرنا میں ضرور ی سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم کے بچوں کو سکولوں میں آج بھی یہ پڑھایا جاتا ہے کہ انیس سو پینسٹھ میں پاکستان کے مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر حملہ کردیا۔ یہی بچے جب کسی یونیورسٹی میں تاریخ ، سیاسیات یا بین الاقوامی تعلقات پڑھنے جاتے ہیں تو یونیورسٹی کے ناہنجار پروفیسر ان کو آپریشن جبرالٹر پڑھانے لگ جاتے ہیں، رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے پوری کردی ہے جس نے دنیا بھر کی معلومات آپ کے ہاتھ میں موجود چند انچ کی موبائل فون نامی چیز میں سمو دی ہیں ۔

آخری گزارش یہ ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کا وہ اہم ترین خطہ ہے جس میں صرف پاکستان اور بھارت ہی اہم ملک ہیں ۔چین ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ہو لیکن امریکہ کا مفاد یہ ہے کہ بھارت اس خطے کا تھانیدار ہو۔ شمالی کوریا کے ایٹمی بٹن کو مسٹر ٹرمپ نے صرف یہ کہہ کر خراب کردیا ہے کہ میرا بٹن تمہارے بٹن سے بڑا ہے اور کام بھی کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہد ہ بھی ٹرمپ نے پھاڑ کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے، اگلی باری کس کی ہوسکتی ہے؟ اس کے لئے زیادہ سوچ بچار وہ کریں جن کا یہ کام ہے ۔ باقی کرنی تسی اپنی مرضی اے ۔

https://www.dawn.com/news/332244

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں