ٹور ڈی خنجراب بلوچستان کے سائیکلسٹ کے نام

ہارون رشید - بی بی سی، خنجراب پاس


ریس

BBC
کئی سائیکل سوار جسمانی فٹنس یا دیگر وجوہات کی بنا پر ریس مکمل نہیں کرسکے

بلوچستان کے عبدالرزاق نے دنیا کی سب سے مشکل قرار دی جانے والی سائیکل ریس میں سے ایک ٹور ڈی خنجراب کا پہلا ایڈیشن اپنے نام کر لیا ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائیکلسٹ نے ریلی کے تیسرے اور آخری دن تجارتی قصبے سست سے چین کے ساتھ سرحدی مقام خنجراب پاس تک 84 کلومیٹر کا فاصلہ ابتدائی غیرحتمی وقت کے مطابق تین گھنٹے 18 منٹ اور 51 سیکنڈز میں مکمل کیا۔

اگرچہ وہ اتوار کے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہے لیکن تینوں مراحل میں مجموعی سبقت کی وجہ سے وہ تمام ریلی کے فاتح قرار پائے۔

اتوار کے مرحلے میں دوسرے نمبر پر واپڈا کے نجیب اللہ رہے جنہوں نے عبدالرازاق سے چند سیکنڈز کے فرق سے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ریلی کے شرکاء صبح ساڑھے سات بجے کے قریب سست سے راونہ ہوئے اور خدشہ تھا کہ راستے میں بارش ہو گی لیکن تمام راستے موسم خشک اور سائیکلسٹوں کے لیے کم از کم گرم رہا۔

کئی سائیکل سوار فنی یا جسمانی مسائل کی وجہ سے ریس مکمل نہیں کر سکے۔ سست جو کہ سطح سمندر سے تقریباً دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہے وہاں سے سائیکلسٹوں نے مزید پانچ ہزار پانچ سو فٹ اونچائی تک سائیکلنگ کی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ٹور ڈی خنجراب: پہلی سائیکل ریلی کا تاریخی دن

ریلی کی واحد غیر ملکی ٹیم افغانستان نے ان کے کوچ کے مطابق مجموعی طور پر پانچویں پوزیشن حاصل کی۔

کوچ عبدل صادق صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریلی انتہائی دشوار تھی۔ تاہم وہ مقامی سطح پر اس ریلی کے انتظامات سے انتہائی مطمئن تھے۔ انھوں نے آئندہ برس زیادہ تیاری کے ساتھ آنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

ریس

BBC
اس ریس کو انتہائی مشکل ریس قرار دیا جا رہا ہے

سوٹزرلینڈ کے ایک سفارت کار نے بھی اس ریلی میں آزاد حیثیت میں حصہ لیا۔ اس ریلی کا انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے تعاون سے کیا تھا۔

فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل سید اظہر علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ فیڈریشن بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے لیکن آج اس ریلی کے کامیاب انقعاد سے واضح ہو گیا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے شریک سائیکلسٹوں اور ان کے محکموں کی تعریف کی۔

پہلی ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریلی کا شمالی علاقہ جات میں انعقاد کئی ماہ کی عرق ریز تیاریوں کے بعد ہوا جسے ایک تاریخی دن مانا جا رہا ہے۔

اس ریلی کو دنیا کی سب سے اونچی پکی سڑک پر پہلی ریس قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس میں حادثے بھی ہوئے۔ اسلام آباد کے ایک سائیکلسٹ 24 سالہ اسد کو ایسے ہی ایک حادثے کے بعد اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4908 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp